لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)رمضان المبارک اور عیدین کے چاند سے متعلق سوال ہر سال عوامی دلچسپی کا مرکز بن جاتا ہے۔ لوگ نہ صرف عبادات کی تیاری کرتے ہیں بلکہ روزمرہ زندگی، چھٹیوں اور سفری منصوبوں کا انحصار بھی انہی تاریخوں پر ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں فلکیاتی حسابات کی بنیاد پر کی جانے والی پیش گوئیاں عوام کے لیے ایک ابتدائی رہنمائی فراہم کرتی ہیں، اگرچہ حتمی فیصلہ ہمیشہ مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی ہی کرتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان میں رمضان المبارک اور عیدین (عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ) کی ممکنہ تاریخوں سے متعلق ایک نئی پیش گوئی سامنے آئی ہے۔ رویتِ ہلال ریسرچ کونسل کے سیکرٹری جنرل خالد اعجاز مفتی نے فلکیاتی حسابات کی روشنی میں متوقع تاریخوں سے آگاہ کیا ہے۔
خالد اعجاز مفتی کے مطابق پاکستان میں رمضان المبارک کا چاند 18 فروری کو نظر آنے کے امکانات ہیں، جس کے نتیجے میں یکم رمضان المبارک 19 فروری بروز جمعرات ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اندازے چاند کی پیدائش، عمر اور رویت کے سائنسی امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے لگائے گئے ہیں، تاہم رمضان المبارک کے آغاز کا حتمی اعلان مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی ہی کرے گی۔
اسی طرح شوال کے چاند کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 20 مارچ کو شوال کا چاند نظر آنے کا امکان ہے، جس کے مطابق پاکستان میں عیدالفطر 21 مارچ بروز ہفتہ منائی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر موسم صاف رہا تو چاند نظر آنے کے امکانات مزید بہتر ہو سکتے ہیں۔
رویتِ ہلال ریسرچ کونسل کے سیکرٹری جنرل نے عیدالاضحیٰ سے متعلق بھی ممکنہ تاریخوں پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ یکم ذوالحجہ 17 مئی کو ہونے کا امکان ہے، جس حساب سے پاکستان میں عیدالاضحیٰ 27 مئی بروز بدھ منائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ تمام تاریخیں فلکیاتی اندازوں پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد صرف پیشگی آگاہی فراہم کرنا ہے۔ چاند کی رویت سے متعلق حتمی اور فیصلہ کن اعلان ہمیشہ کی طرح مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی ہی کرے گی۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک اور عیدین کے چاند کی پیشگوئی ہر سال پاکستانی عوام کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے عبادات، چھٹیاں، سفری منصوبے اور معاشرتی تقریبات کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ اس سال بھی رویتِ ہلال ریسرچ کونسل نے فلکیاتی حسابات کی بنیاد پر رمضان، شوال اور ذوالحجہ کے چاند کے نظر آنے کی ممکنہ تاریخوں سے عوام کو آگاہ کیا ہے، جس میں سیکرٹری جنرل خالد اعجاز مفتی نے اہم معلومات فراہم کی ہیں۔
فلکیاتی حسابات کے مطابق پاکستان میں رمضان المبارک کا چاند 18 فروری کو نظر آنے کا امکان ہے، جس کے مطابق یکم رمضان المبارک 19 فروری بروز جمعرات ہو سکتا ہے۔ اس پیش گوئی کا مقصد عوام کو عبادات اور روزہ رکھنے کی تیاری کے لیے ابتدائی رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ اگرچہ یہ تاریخیں سائنسی اندازوں پر مبنی ہیں، لیکن حتمی فیصلہ ہمیشہ مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کی جانب سے کیا جائے گا۔ یہ عمل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ عبادات کی صحیح تاریخ عوام تک پہنچے اور کسی قسم کی غیر یقینی صورتحال پیدا نہ ہو۔
شوال کے چاند کے حوالے سے بھی پیشگوئی کی گئی ہے کہ 20 مارچ کو چاند نظر آنے کا امکان ہے، جس کے مطابق عیدالفطر 21 مارچ بروز ہفتہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر موسمی حالات سازگار رہیں تو چاند کی رویت کے امکانات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں، جس سے عوام کو عید کی تیاری میں مدد ملتی ہے۔ عیدالفطر نہ صرف مذہبی لحاظ سے اہم ہے بلکہ یہ ایک موقع بھی ہے جب خاندان اور دوست ایک دوسرے سے ملتے ہیں، معاشرتی تقریبات ہوتی ہیں اور کاروباری سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں۔ پیشگی اندازے عوام کو سفر، خریداری اور منصوبہ بندی کے لیے وقت فراہم کرتے ہیں۔
عیدالاضحیٰ کے حوالے سے بھی رویتِ ہلال ریسرچ کونسل نے ممکنہ تاریخوں سے آگاہ کیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یکم ذوالحجہ 17 مئی کو ہو سکتا ہے اور اس کے مطابق عیدالاضحیٰ 27 مئی بروز بدھ منائی جا سکتی ہے۔ عیدالاضحیٰ کی اہمیت صرف مذہبی عبادات تک محدود نہیں بلکہ یہ قربانی کے جذبے، خیرات، اور معاشرتی ہم آہنگی کے اظہار کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ پیشگی تاریخیں عوام کو قربانی کے جانور خریدنے، انتظامات کرنے اور اجتماعی تقاریب کے انعقاد کے لیے سہولت فراہم کرتی ہیں۔
یہ پیش گوئیاں اس بات کی بھی یاد دہانی کراتی ہیں کہ فلکیاتی حسابات اور موسمی حالات کس حد تک مذہبی اور سماجی زندگی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ اندازے مفید رہنمائی فراہم کرتے ہیں، لیکن حتمی اعلان ہمیشہ رویتِ ہلال کمیٹی کے فیصلے پر منحصر ہوتا ہے، جس میں چاند کی حقیقی رویت اور دیگر مقامی عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف عبادات کی درستگی یقینی بنتی ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور عمومی منصوبہ بندی میں بھی مدد ملتی ہے۔
نتیجتاً، رمضان اور عیدین کے چاند کی پیش گوئی ایک اہم سائنسی اور مذہبی معلوماتی عمل ہے، جو عوام کو عبادات، تقریبات اور روزمرہ زندگی کی منصوبہ بندی میں سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ عمل اس بات کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ جدید فلکیاتی علم اور روایتی رویتِ ہلال کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہے، تاکہ مذہبی فرائض صحیح وقت پر ادا ہوں اور عوام کو غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔





















