رجب بٹ اور ندیم مبارک کو جوا ایپ پروموشن کیس میں عبوری ریلیف مل گیا

سماعت کے موقع پر رجب بٹ اور ندیم مبارک کو سخت سیکیورٹی حصار میں عدالت میں پیش کیا گیا۔

لاہور:ٹک ٹاکر رجب بٹ اور ندیم مبارک کو جوا ایپ کی پروموشن کے کیس میں عدالت سے عارضی ریلیف مل گیا ہے۔

سیشن کورٹ لاہور میں ایڈیشنل سیشن جج منصور احمد قریشی نے دونوں ملزمان کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔

سماعت کے موقع پر رجب بٹ اور ندیم مبارک کو سخت سیکیورٹی حصار میں عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت نے این سی سی آئی اے کے تفتیشی افسر کو ریکارڈ جمع کروانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے دونوں ملزمان کی عبوری ضمانت میں 26 جنوری تک توسیع کر دی۔

سماعت کے دوران نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے تفتیشی رپورٹ پیش نہ کی جا سکی۔

این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر ہائیکورٹ میں مصروف ہیں، اس لیے ریکارڈ پیش کرنے کے لیے مزید وقت دیا جائے۔

عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے ضمانت کی درخواستوں کو انتظار میں رکھا اور ملزمان کی حاضری مکمل ہونے کے بعد انہیں کمرۂ عدالت سے جانے کی اجازت دے دی۔

واضح رہے کہ رجب بٹ اور ندیم مبارک کے خلاف جوا ایپس کی تشہیر کے الزام میں مقدمہ درج ہے، جس میں سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو غیر قانونی بیٹنگ اور آن لائن جوا ایپس کی طرف راغب کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق آن لائن جوا ایپس کی تشہیر پاکستان میں ایک سنجیدہ جرم تصور کی جاتی ہے، خصوصاً جب اس میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے ذریعے نوجوانوں کو متاثر کیا جائے۔

یہ کیس اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا سوشل میڈیا پر کسی ایپ کی پروموشن کو محض اشتہار سمجھا جائے یا اسے عوامی نقصان اور غیر قانونی سرگرمی کی حوصلہ افزائی کے زمرے میں رکھا جائے۔

اگر تفتیش میں شواہد مضبوط ثابت ہوئے تو اس کیس کے اثرات دیگر سوشل میڈیا کریئیٹرز پر بھی پڑ سکتے ہیں، جو غیر تصدیق شدہ ایپس یا بیٹنگ پلیٹ فارمز کی تشہیر کرتے ہیں۔

 ماہرین کی رائے

سائبر کرائم قوانین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ

“ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اثر و رسوخ رکھنے والے افراد عام شہریوں کے مقابلے میں زیادہ ذمہ داری کے پابند ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی ایک پوسٹ ہزاروں لوگوں کو متاثر کر سکتی ہے۔”

سماجی تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے کیسز نوجوانوں کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ

“آن لائن شہرت کے ساتھ قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں بھی جڑی ہوتی ہیں۔”

متعلقہ خبریں

مقبول ترین