وینزویلا امریکا کو کروڑوں بیرل تیل دے گا، صدر ٹرمپ کا چونکا دینے والا دعویٰ

حاصل ہونے والا تیل عالمی منڈی کی قیمت پر فروخت کیا جائے گا۔ٹرمپ

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا سے امریکا کو 30 سے 50 ملین بیرل، یعنی تین سے پانچ کروڑ بیرل تیل حاصل ہوگا۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ پیش رفت ایک اچانک فوجی کارروائی کے بعد ممکن ہوئی، جس کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ حاصل ہونے والا تیل عالمی منڈی کی قیمت پر فروخت کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی ان کی براہِ راست نگرانی میں استعمال کی جائے گی، تاکہ اس کے فوائد امریکا اور وینزویلا دونوں کے عوام تک پہنچ سکیں۔

صدر ٹرمپ کے مطابق اگلے 18 ماہ کے دوران امریکی آئل کمپنیاں وینزویلا میں دوبارہ کام شروع کر دیں گی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی توانائی کمپنیاں وینزویلا کے تباہ حال تیل کے شعبے کو بحال کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔

تاہم توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا کی ماضی کی تیل پیداوار بحال کرنے کے لیے کئی سال اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب وینزویلا کی سابق نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے عبوری صدر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق نکولس مادورو کو منشیات اور اسلحہ اسمگلنگ کے الزامات کے تحت ایک کارروائی میں گرفتار کر کے امریکا منتقل کیا گیا ہے۔

پیر کے روز گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کا دوبارہ ایک بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک بننا امریکا کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ وینزویلا کے پاس تقریباً 303 ارب بیرل تیل کے ثابت شدہ ذخائر موجود ہیں، جو دنیا میں سب سے زیادہ سمجھے جاتے ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق وینزویلا کی تیل پیداوار 2000 کی دہائی کے آغاز سے مسلسل زوال کا شکار ہے۔

 بین الاقوامی و سفارتی تجزیہ

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ دعویٰ محض توانائی کا معاملہ نہیں بلکہ امریکا کی لاطینی امریکا میں اسٹریٹجک واپسی کی علامت ہے۔

وینزویلا میں سیاسی تبدیلی اور تیل کے ذخائر تک رسائی امریکا کو روس، چین اور اوپیک ممالک کے مقابلے میں مضبوط پوزیشن دے سکتی ہے۔

تاہم اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کے تحت اس پیش رفت پر عالمی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

 ماہرین کی رائے

توانائی امور کے ماہرین کے مطابق

وینزویلا کی تیل صنعت شدید تکنیکی زوال کا شکار ہے

انفراسٹرکچر کی بحالی میں کم از کم 5 سے 7 سال لگ سکتے ہیں

صرف امریکی سرمایہ کاری سے فوری نتائج ممکن نہیں

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ:

یہ دعویٰ عالمی سیاست میں شدید ردعمل کو جنم دے سکتا ہے

خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ سکتے ہیں

لاطینی امریکا میں امریکا مخالف جذبات دوبارہ ابھر سکتے ہیں

یہ دعویٰ اگر درست ثابت ہوتا ہے تو یہ عالمی توانائی منڈی، امریکی خارجہ پالیسی اور وینزویلا کے سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔
تاہم اس پورے معاملے کی تصدیق، قانونی حیثیت اور عالمی ردعمل ابھی باقی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین