تحریر :پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری (ماہر معاشیات )
انسانی تاریخ کے کچھ ادوار ایسے ہوتے ہیں جب زمین کے سینے پر بکھرے ہوئے انسان ایک جیسے دکھ، ایک جیسی بھوک اور ایک جیسے خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تہذیب ہزاروں برس کا سفر طے کر کے بھی بنی نوع انسان کو امن، انصاف اور روٹی جیسی بنیادی نعمتوں کی ضمانت نہ دے سکی
سال 2025 بھی انسانیت پر اسی دکھ اور درد کی پرچھائیں ڈالنے والا سال ثابت ہوا، جہاں جنگ، بھوک اور معاشی تباہی نے مل کر دنیا کو ایک بڑے المیے میں دھکیل دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق سال 2025 دنیا کے غریب ممالک کے لیے غیر معمولی طور پر تباہ کن ثابت ہوا، جہاں جنگ، بھوک، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی امداد میں شدید کمی نے انسانی بحران کو خطرناک حد تک بڑھا دیا۔ جنگوں، قحط اور امدادی نظام کی تباہی سے عالمی بحران سنگین ہو چکا ہے، ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں 61 جنگیں جاری ہیں، یہ صورتحال دوسری جنگ عظیم کے بعد بدترین قرار دی جا رہی ہے، جبکہ سوڈان میں دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی تاریخ میں یہ وقت انسانی المیوں کے لحاظ سے بدترین ادوار میں شمار کیا جا رہا ہے۔
سال 2025 میں جاری جنگوں اور مسلح تصادموں نے انسانی جانوں پر ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ مختلف عالمی رپورٹس کے مطابق، دنیا بھر میں تقریبا ,000 240سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں فوجی اور عام شہری دونوں شامل ہیں۔ افریقہ کے سب سے شدید متنازعہ ملک سوڈان میں خانہ جنگی کے باعث اب تک 17 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں 2025 میں ہی تقریباً4300 شہری مارے گئےجن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ روس اور یوکرین کے تنازع میں بھی اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اس کے علاوہ اسرائیل ،فلسطین جنگ میں بھی اب تک مجموعی طور پر 50 سے 60 ہزار ہلاکتیں ہو چکی ہیں ۔ ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں جاری جنگیں صرف جغرافیائی حدود تک محدود نہیں بلکہ ان جنگوں کی وجہ سے معاشی اتار چڑھائو نےانسانی زندگی، معیشت اور سماجی ڈھانچے پر تباہ کن اثر ات مرتب ہوئے ہیں ۔
اس ساری سنگین صورتحال نے انسانیت کے چہرے پر غم کی لکیریں اور گہرے داغ چھوڑ دیے ہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والے کروڑوں انسان اپنی بقا کی جنگ لڑتے ہوئے نظر آتے ہیں، کہیں ماؤں کی گودیں بچوں کی بھوک سے سونی ہو رہی ہیں تو کہیں بوڑھے اور بیمار بے سہارگی کے عالم میں زندگی کی سانسیں گن رہے ہیں۔ انسانی تہذیب کے دعوے اور ترقی کی چمک دمک اس کڑے وقت میں ماند پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ جنگ زدہ علاقوں میں بستیاں اجڑ گئیں، کھیت برباد ہو گئے، خوشیوں کی آوازیں سسکیوں میں بدل گئیں اور امید کی کرنیں خوف کے اندھیروں میں گم ہونے لگیں۔یہ وہ وقت ہے جب دنیا کو نہ صرف اپنی معاشی اور سیاسی پالیسیوں کا جائزہ لینا ہوگا بلکہ انسان دوستی، رحم، انصاف اور باہمی تعاون کے جذبات کو بھی زندہ کرنا ہوگا۔ اگر عالمی برادری نے بروقت ہوش کے ناخن نہ لیے تو یہ بحران مزید خوفناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔ انسانیت اس وقت ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں یا تو اجتماعی شعور جاگے گا اور دنیا ایک بہتر، محفوظ اور ہمدرد معاشرے کی طرف بڑھے گی، یا پھر تاریخ کے اوراق مزید دردناک المیوں سے بھر جائیں گے۔
تحقیق کے مطابق جنگوں کے باعث لاکھوں افراد اپنے گھروں، کھیتوں اور روزگار سے محروم ہو گئے ہیں، جس سے خوراک کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ سیو دی چلڈرن کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں 6 کروڑ بچے بھوک کا شکار ہوئے، جبکہ ایک کروڑ 10 لاکھ بچوں کو ایسی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے جہاں موت کا خطرہ حقیقی ہے۔ عالمی خوراک پروگرام کے منتظمین نے خبردار کیا ہے کہ 2026 ءتک 31 کروڑ 80 لاکھ افراد شدید غذائی بحران کا سامنا کریں گے، جو 2019 کے مقابلے میں دگنی تعداد ہے۔ سوڈان اس انسانی المیے کی بدترین مثال بن چکا ہے۔ دو سال سے جاری خانہ جنگی کے باعث وہاں قحط کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
اسے بھی پڑھیں: تمام مذاہب انسانیت کو محبت اور خدمت خلق کا درس دیتے ہیں: پروفیسر ڈاکٹر حسین قادری
یہ عالمی تصویر صرف اعدادوشمار نہیں بلکہ انسانی دکھوں کی ایک طویل داستان ہے۔ اگر ہمارے خطےپر نظر ڈالی جائے تو افغانستان سب سے زیادہ تباہ حال دکھائی دیتا ہے، جہاں جنگ اور عالمی پابندیوں نے عوام کو بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا ہے۔ سری لنکا حالیہ معاشی تباہی کے باعث شدید بحران کا شکار ہوا، بنگلہ دیش میں مہنگائی اور موسمیاتی مسائل نے غریب طبقات کی مشکلات میں اضافہ کیا، جبکہ نیپال جیسے ممالک بھی معاشی کمزوری اور محدود وسائل کے باعث عدم استحکام سے گزر رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک تنبیہ ہے کہ اگر معاشی نظم، سماجی تحفظ اور فلاحی پالیسیاں مضبوط نہ کی گئیں تو خطہ مجموعی طور پر مزید غیر یقینی کا شکار ہو سکتا ہے۔
اس پوری صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اقوام متحدہ، یونیسف، عالمی بینک اور عالمی خوراک پروگرام کی رپورٹس ایک سماجی و اخلاقی خطرے کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دنیا تیزی سے بھوک، غربت، بے روزگاری اور معاشی ناانصافی کے گہرے دلدل میں پھنس رہی ہے۔ لاکھوں بچے تعلیم سے محروم، لاکھوں خاندان بے گھر اور کروڑوں انسان خوراک کے ایک نوالے کے محتاج ہو چکے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب سوچ اور نظام دونوں کا ازسرنو جائزہ لینا ناگزیر ہو چکا ہے۔
غربت صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی وقار کا بحران ہے۔ عالمی معاشی نظام جب طاقتور طبقوں کے مفادات کا اسیر ہو جائے، جب جنگیں سیاسی مقاصد کے لیے نسلوں کو برباد کریں اور جب امدادی نظام طاقت کی سیاست میں الجھ جائے تو انسانیت ہمیشہ نقصان اٹھاتی ہے۔ ان کی فکر کے مطابق فلاحی ریاست، وسائل کی منصفانہ تقسیم، سماجی انصاف، تعلیم اور انسانی ہمدردی ہی وہ ستون ہیں جن پر ایک محفوظ اور پرامن دنیا کھڑی ہو سکتی ہے۔
وجودہ عالمی منظر نامے میں پاکستان کے معاشی نظام کو درست سمت میں لے جانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر غربت کے خاتمے کے لیے، انرجی بحران پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ زرعی پیداوار، صنعت اور چھوٹے کاروبار کو فروغ دینا لازمی ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانا، سماجی تحفظ کے پروگرام مضبوط کرنا اور شفاف حکمرانی کو یقینی بنانا بھی اسی مقصد کا حصہ ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں مقابلہ اور داخلی پیداوار کے فروغ کے لیے منصوبہ بندی اور مستحکم معاشی پالیسیوں کا نفاذ ضروری ہے،
آج دنیا کو جنگوں کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے سنجیدہ اجتماعی ارادے کی ضرورت ہے۔ عالمی امداد کے نظام کو شفاف اور مضبوط بنانے، خوراک کی دستیابی یقینی بنانے، قرضوں میں ریلیف دینے، تعلیم و صحت کو اولین ترجیح دینے اور خاص طور پر بچوں کے تحفظ کے لیے مضبوط پالیسیاں اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کے لیے بھی یہی وقت ہے کہ وہ مضبوط معاشی اصلاحات، زراعت و صنعت کی بحالی، فلاحی نظام کی مضبوطی اور شفاف طرز حکمرانی کو ترجیح دیں تاکہ مستقبل محفوظ ہو سکے۔سال 2025 نے واضح کر دیا ہے کہ انسانیت صرف ٹیکنالوجی، ترقی اور معیشت کے اعدادوشمار سے زندہ نہیں رہتی بلکہ امن، انصاف، رحم، اخلاقی ذمہ داری اور اجتماعی تعاون سے قائم رہتی ہے۔ اگر عالمی قیادت نے اس حقیقت کو نہ سمجھا تو آنے والا وقت تاریخ کے صفحات پر مزید سیاہ نقوش چھوڑ جائے گا۔ دنیا کو ایک منصفانہ، انسان دوست اور ذمہ دار عالمی نظام کی ضرورت ہے۔





















