ٹرمپ کا امریکی دفاعی بجٹ 901 ارب ڈالر سے بڑھا کر 1.5 ٹریلین ڈالر کرنے کا مطالبہ

یہ اضافی رقم ایک مضبوط اور جدید “Dream Military” کے قیام میں لگائی جائے گی، جو امریکہ کو ہر ممکن دشمن کے سامنے محفوظ رکھے گی

واشنگٹن(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2027 کے لیے امریکی دفاعی بجٹ کو 50 فیصد بڑھا کر 1.5 ٹریلین ڈالر کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے انہوں نے “پریشان کن اور خطرناک دور” میں قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر کہا کہ ابتدائی طور پر وہ 1 ٹریلین ڈالر کے بجٹ کے حامی تھے، لیکن عالمی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر اب فوجی اخراجات میں خاطر خواہ اضافہ ضروری ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اضافی رقم ایک مضبوط اور جدید “Dream Military” کے قیام میں لگائی جائے گی، جو امریکہ کو ہر ممکن دشمن کے سامنے محفوظ رکھے گی۔

صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ اضافی فنڈز کا ایک حصہ امریکی ٹیرف محصولات (Tariff Revenues) سے حاصل کیا جائے گا، جو تجارتی اقدامات کے ذریعے وفاقی خزانے میں جمع ہوتے ہیں۔ موجودہ فوجی بجٹ جو 2026 میں تقریباً 901 ارب ڈالر تھا، اگلے سال اس میں 50 فیصد تک اضافہ ہو جائے گا۔

ٹرمپ کے اس اعلان کے فوراً بعد بین الاقوامی دفاعی کمپنیوں کے حصص میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جبکہ کچھ بڑی کمپنیوں کو مزید ہتھیار اور جدید سازوسامان تیار کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی ترغیب بھی ملی۔ ساتھ ہی صدر نے دفاعی صنعت میں اعلیٰ عہدے داروں کی اجرتوں اور منافع کی تقسیم پر ممکنہ پابندیوں کا عندیہ بھی دیا۔

یہ تجویز حتمی شکل پانے کے لیے کانگریس کی منظوری کی محتاج ہے، اور بعض قانون سازوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اتنے بڑے دفاعی بجٹ کے نتیجے میں وفاقی خسارہ بڑھ سکتا ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2027 کے لیے دفاعی اخراجات کو 50 فیصد بڑھا کر 1.5 ٹریلین ڈالر کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جوکہ موجودہ منظور شدہ 901 ارب ڈالر کے بجٹ سے بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے اسے “پریشان کن اور خطرناک دور” میں قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک ضروری قدم قرار دیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے اعلان میں کہا ہے کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطرات نے امریکہ کو اربوں ڈالر کے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ خاص طور پر وہ اسے ایک “Dream Military” — یعنی ایک خوابیدہ مگر طاقتور فوج — بنانے کا موقع قرار دے رہے ہیں، جو کہ ہر ممکن دشمن کے سامنے مضبوط دفاع فراہم کرے گا۔ Reutersیہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوج نے حال ہی میں وینیزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو گرفتار کرنے جیسی کارروائیاں کی ہیں، اور امریکہ نے کیریبین سمندر میں اپنے فوجی دستے بھیجے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے اقدامات عالمی کشیدگی کو بڑھا دیتے ہیں، جس کے پیشِ نظر دفاعی بجٹ میں اضافہ ٹرمپ کے نظریے کا حصہ ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اضافی دفاعی رقم کا ایک بڑا حصہ ٹیرف محصول (Tariff Revenues) سے حاصل کیا جائے گا، یعنی تجارت پر عائد کیے جانے والے ٹیکسوں کے ذریعے فنڈز جمع کیے جائیں گے۔ Reutersحالانکہ ٹیرف محصولات میں اضافہ ہوا ہے — 2025 میں تقریباً 288.5 ارب ڈالر حاصل ہوئے — لیکن یہ رقم پھر بھی بجٹ بڑھانے کی ضروریات کے مقابلے میں کافی نہیں سمجھی جاتی۔ ایک تخمینہ یہ ہے کہ ٹیکس اور ٹیرف مل کر صرف ضمنی حصہ پورا کر سکتے ہیں جب کہ اصل لاگت بہت زیادہ ہے۔

ماہرین کا تخمینہ ہے کہ صرف 2027 کا یہ دفاعی منصوبہ ہی خسارے میں کئی ٹریلین ڈالر کا اضافہ کر سکتا ہے۔ جبکہ ٹرمپ ٹیرف محصولات کے ذریعے بجٹ بڑھانا چاہتے ہیں، اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ اس سے مہنگائی، امریکاکی معیشت میں عدم استحکام، اور عوامی شعبوں پر دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔مزید براں، اگر دفاعی اخراجات بڑھ جائیں تو تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر جیسی عوامی خدمات کے لیے فنڈز کم پڑ سکتے ہیں، جس سے مجموعی معاشی نمو متاثر ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ نے دفاعی کمپنیوں پر بھی سختی کی ہے — انہوں نے بعض بڑی کمپنیوں کو منافع بانٹنے اور اسٹاک بائیکٹس پر پابندیوں کا عندیہ دیا ہے، جب تک وہ ہتھیار اور سازوسامان کی پیداوار تیز نہیں کرتے۔ The Guardianیہ اقدام دفاعی صنعت کے لیے ایک انتہائی مضبوط سگنل ہے، جس سے بازار میں حصص کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ ہوا، بعض سرمایہ کار امید رکھتے ہیں کہ زیادہ خرچ سے کمپنیوں کو منافع ملے گا، جبکہ کچھ خدشات بھی ہیں۔

نیٹو اور یورپی اتحادی ممالک: امریکہ کا دفاعی بجٹ بڑھنے سے اتحادی ممالک پر دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ بھی اپنے دفاعی اخراجات بڑھائیں، جس سے عالمی دفاعی مقابلہ سخت ہو سکتا ہے۔روس، چین اور مشرق وسطیٰ: امریکہ کے دفاعی اثاثے بڑھے تو بعض ترجمان ممالک اسے خطرہ سمجھ سکتے ہیں، جس سے فوجی کشیدگی میں اضافہ ممکن ہے۔مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی امریکہ: ٹرمپ کے بعض فوجی اقدامات، جیسے وینیزویلا میں کارروائی، دفاعی بجٹ میں اضافے کے ضمنی محرک بھی بن رہے ہیں۔

اگرچہ دفاعی طاقت بڑھانا قومی سلامتی کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن معاشی استحکام، ٹیکس داروں پر بوجھ، اور عوامی خدمات کے ساتھ توازن قائم کرنا بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس کی منظوری لازمی ہے — جس میں سیاسی اختلافات اور مخالفت ہو سکتی ہے — اس لیے اس تجویز کا حتمی نفاذ یقینی نہیں۔

صدر ٹرمپ کا 1.5 ٹریلین ڈالر دفاعی بجٹ کا منصوبہ ایک انتہائی جارحانہ اور غیر معمولی دفاعی پالیسی اقدام ہے جس کا مقصد امریکہ کو عالمی دفاعی میدان میں برتری دلانا ہے۔ البتہ اس کے معاشی، سیاسی اور بین الاقوامی اثرات انتہائی پیچیدہ اور طویل المدتی ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف امریکہ کے اندرونی مالیاتی توازن کو چیلنج کرتا ہے بلکہ عالمی فورس بیلنس، علاقائی سکیورٹی اور تجارتی پالیسیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین