لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)وزارتِ خارجہ نے پاکستانی شہریوں کو ان کی جان و مال کے تحفظ کے پیشِ نظر ہدایت کی ہے کہ حالات معمول پر آنے تک اسلامی جمہوریہ ایران کا غیر ضروری سفر مؤخر کر دیں۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ٹریول ایڈوائزری میں ایران میں مقیم پاکستانیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مکمل احتیاط برتیں، ہر وقت چوکس رہیں اور سیکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر ضروری نقل و حرکت سے اجتناب کیا جائے اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں پاکستانی سفارتی مشنز سے مسلسل رابطہ قائم رکھا جائے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایران کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت محض ایک رسمی بیان نہیں بلکہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال، سیکیورٹی خدشات اور سفارتی ذمہ داریوں کا ایک واضح اظہار ہے۔ کسی بھی ملک کی جانب سے اپنے شہریوں کے لیے ٹریول ایڈوائزری جاری کرنا اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ زمینی حقائق معمول کے مطابق نہیں رہے اور ممکنہ خطرات کو نظرانداز کرنا دانشمندی نہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران خطے کا ایک اہم اور بااثر ملک ہے، جس کے پاکستان کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور ہمسائیگی کے رشتے قائم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات، تجارتی روابط، مذہبی زیارات اور سرحدی آمدورفت ایک معمول کا حصہ رہے ہیں۔ تاہم، حالیہ عرصے میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، اندرونی سلامتی کے چیلنجز اور جیو پولیٹیکل تناؤ نے صورتحال کو حساس بنا دیا ہے، جس کے اثرات عام شہریوں تک پہنچنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
دفترِ خارجہ کی ایڈوائزری میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ایران میں مقیم پاکستانی شہری غیر ضروری نقل و حرکت محدود رکھیں اور ہر وقت چوکس رہیں۔ یہ ہدایت اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ غیر یقینی حالات میں ہجوم، غیر ضروری سفر یا لاپرواہی کسی بھی فرد کو غیر متوقع خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔ ایسے میں احتیاط، آگاہی اور ذمہ دارانہ رویہ ہی سب سے مؤثر حفاظتی تدبیر ثابت ہوتا ہے۔
مزید یہ کہ پاکستانی سفارتی مشنز سے مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت سفارتی حکمتِ عملی کا ایک اہم جزو ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال، قانونی مسئلے یا سیکیورٹی خطرے کی صورت میں سفارتخانے ہی وہ واحد مستند پلیٹ فارم ہوتے ہیں جو اپنے شہریوں کو بروقت رہنمائی، مدد اور تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزارتِ خارجہ نے رابطے کو باقاعدہ اور مؤثر رکھنے پر خاص زور دیا ہے۔
یہ ٹریول ایڈوائزری اس تاثر کو بھی زائل کرتی ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو بیرونِ ملک حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہے۔ درحقیقت، ایسے بیانات ریاستی ذمہ داری، پیشگی حکمتِ عملی اور انسانی تحفظ کے عالمی اصولوں سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی اسی طرز پر اپنے شہریوں کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کرتے اور احتیاطی تدابیر اپنانے کی تلقین کرتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ایڈوائزری کا مقصد خوف پھیلانا نہیں بلکہ احتیاط کو فروغ دینا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے نہ تو مکمل سفری پابندی عائد کی ہے اور نہ ہی ایران میں موجود پاکستانیوں کو واپسی کی ہدایت دی ہے، بلکہ صرف غیر ضروری سفر سے گریز اور محتاط طرزِ زندگی اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے، جو ایک متوازن اور ذمہ دارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
علاقائی سطح پر دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ اور اس سے ملحقہ خطے میں سیاسی کشیدگی، سیکیورٹی واقعات اور سفارتی تناؤ اکثر اچانک شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسے حالات میں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، خصوصاً وہ لوگ جو روزگار، زیارات یا تعلیم کے سلسلے میں بیرونِ ملک مقیم ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان کی جانب سے بروقت انتباہ ایک مثبت اور قابلِ تحسین قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔





















