پیٹ بھرا، پیمپر صاف، پھر بھی بچہ کیوں روتا ہے؟ ماہرین نے اہم وجوہات بتا دیں

اکثر بچوں کو دودھ پیتے وقت ہوا نگلنے کی وجہ سے پیٹ میں گیس یا مروڑ محسوس ہوتا ہے

لاہور:(غلام مرتضیٰ)اگر بچے کا پیٹ بھرا ہوا ہو، پیمپر بھی صاف ہو اور پھر بھی وہ رو رہا ہو تو والدین کے لیے یہ صورتحال پریشان کن ہو سکتی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق نوزائیدہ بچوں کا اس طرح رونا ایک عام بات ہے، البتہ بعض اوقات اس کے پیچھے ایسی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں جن پر توجہ دینا اور بروقت ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہوتا ہے۔

بعض اوقات بچے کے رونے کی کوئی ظاہری وجہ نظر نہیں آتی، لیکن اس کے باوجود چند ممکنہ عوامل اس کا سبب بن سکتے ہیں۔

اکثر بچوں کو دودھ پیتے وقت ہوا نگلنے کی وجہ سے پیٹ میں گیس یا مروڑ محسوس ہوتا ہے، جس سے وہ بے چین ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں بچے کو ڈکار دلانا یا ہلکے ہاتھ سے پیٹ سہلانا مفید ثابت ہوتا ہے۔

نیند کی کمی بھی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔ بعض بچے تھکے ہوتے ہیں مگر شور، تیز روشنی یا ماحول کی وجہ سے سو نہیں پاتے، جس کے نتیجے میں وہ رونا شروع کر دیتے ہیں۔

کچھ بچوں میں کولک کی کیفیت پائی جاتی ہے، جو عموماً دو ہفتے سے چار ماہ کی عمر کے درمیان ظاہر ہوتی ہے۔ اس دوران بچے مخصوص اوقات میں بغیر کسی واضح وجہ کے تیز رونا شروع کر دیتے ہیں۔

موسم کی شدت بھی بچے کو بے چین کر سکتی ہے۔ زیادہ کپڑوں کی وجہ سے گرمی لگنا یا کم کپڑوں کے باعث سردی محسوس ہونا بھی رونے کی وجہ بن سکتا ہے۔

اکثر اوقات بچے کو کسی جسمانی مسئلے کے بجائے صرف والدین کی قربت درکار ہوتی ہے۔ ماں یا باپ کی گود میں لینے سے بچے کو سکون ملتا ہے اور وہ خاموش ہو جاتا ہے۔

بعض دفعہ کپڑوں کا لیبل، تنگ لباس یا کسی چیز کا جسم میں چبھنا بھی بچے کو تکلیف دے سکتا ہے، جس کا اظہار وہ رونے سے کرتا ہے۔

دانت نکلنے کے ابتدائی مرحلے میں مسوڑھوں میں خارش یا درد کی وجہ سے بھی بچہ بے چین رہتا ہے اور زیادہ روتا ہے۔

اس کے علاوہ کان کا درد، بخار، انفیکشن یا کوئی اور جسمانی بیماری بھی بچے کے رونے کا سبب ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچے کا رونا غیر معمولی طور پر تیز ہو، کئی گھنٹوں تک بند نہ ہو، ساتھ بخار، قے، اسہال ہو، دودھ پینے سے انکار کرے یا بچہ غیر معمولی طور پر سست اور بے جان لگے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

یاد رکھیں، ہر رونا خطرے کی علامت نہیں ہوتا، لیکن والدین کی بروقت توجہ اور سمجھداری بچے کی صحت کے لیے بے حد اہم ہے۔

ماہرین کی رائے (Doctor Opinion)

ماہرِ اطفال کے مطابق:

“نوزائیدہ بچے بول کر اپنی ضرورت نہیں بتا سکتے، اس لیے رونا ہی ان کی زبان ہوتی ہے۔ زیادہ تر معاملات میں رونا کسی سنگین بیماری کی علامت نہیں ہوتا بلکہ گیس، نیند یا توجہ کی ضرورت کا اظہار ہوتا ہے۔ تاہم اگر رونا غیر معمولی ہو تو والدین کو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔”

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے کے رونے کے پیچھے وجہ جاننے کے لیے والدین کا پرسکون رہنا اور بچے کے رویے پر توجہ دینا سب سے اہم ہے۔

روزنامہ تحریک کے صحافی غلام مرتضیٰ کا تجزیہ کرتے ہو کہنا تھا کہ نوزائیدہ بچوں کا رونا اکثر ہمارے معاشرے میں خوف اور غیر ضروری پریشانی کا باعث بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر رونا بیماری نہیں، لیکن ہر رونے کو نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔

پاکستانی والدین میں سب سے بڑی کمی یہ دیکھی جاتی ہے کہ وہ بچے کی جذباتی ضرورت کو کم اہم سمجھتے ہیں، حالانکہ جدید تحقیق کے مطابق بچے کی ذہنی نشوونما میں ماں باپ کی قربت بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

بچے کا رونا دراصل والدین کے لیے ایک پیغام ہوتا ہے، جسے سمجھنے کے لیے صبر، علم اور توجہ درکار ہے۔ اگر ہم رونے کو صرف ضد سمجھ کر نظر انداز کریں تو یہ مستقبل میں بچے کی ذہنی صحت پر اثر ڈال سکتا ہے۔

آج کے دور میں ضروری ہے کہ والدین سوشل میڈیا کے غیر مستند مشوروں کے بجائے مستند طبی معلومات اور ماہرین کی رائے کو ترجیح دیں۔

ماں باپ کے لیے گائیڈ (Parent Guide)

✔ بچے کو ڈکار دلائیں
✔ ماحول پرسکون رکھیں
✔ موسم کے مطابق کپڑے پہنائیں
✔ بچے کو گود میں لیں، بات کریں
✔ رونے کا وقت اور شدت نوٹ کریں
✔ شک ہونے پر ڈاکٹر سے رجوع کریں

یاد رکھیں: آپ کی توجہ بچے کے لیے سب سے بڑی دوا ہے۔

🩺 ڈاکٹر ایڈوائس فارمیٹ (When to See a Doctor)

فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں اگر:

رونا کئی گھنٹے مسلسل جاری رہے

بخار، قے یا اسہال ہو

بچہ دودھ پینے سے انکار کرے

بچہ غیر معمولی طور پر سست یا بے جان لگے

رونے کے ساتھ نیلاہٹ یا سانس میں مسئلہ ہو

متعلقہ خبریں

مقبول ترین