سردی کی شدید لہر، پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں چھٹیوں میں توسیع کا اعلان

صوبائی وزیر تعلیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر عوامی رائے جانچنے کے لیے سروے کیا

اسلام آباد:( غلام مرتضیٰ)سرد موسم کی شدت اور بڑھتی ہوئی سردی کی لہر کے پیش نظر صوبائی حکومت نے تعلیمی اداروں میں چھٹیاں ایک ہفتہ بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ فیصلہ صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے طلبہ کی صحت اور والدین کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا۔

صوبائی وزیر تعلیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر عوامی رائے جانچنے کے لیے سروے کیا، جس میں واضح اکثریت نے چھٹیوں میں توسیع کی حمایت کی۔

رانا سکندر حیات کے مطابق عوامی سروے میں تقریباً 87 فیصد افراد نے تعلیمی اداروں کی چھٹیاں بڑھانے کے حق میں رائے دی، جبکہ 13 فیصد افراد نے تعلیمی سرگرمیاں 12 جنوری سے بحال کرنے کی حمایت کی۔

اعداد و شمار کے مطابق 19 جنوری کے حق میں 1 لاکھ 54 ہزار 178 ووٹ کاسٹ ہوئے، جبکہ 12 جنوری کے حق میں 24 ہزار 829 ووٹ سامنے آئے۔

صوبائی وزیر تعلیم نے اعلان کیا کہ عوامی رائے، موسم کی شدت اور طلبہ کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام تعلیمی ادارے اب 19 جنوری سے کھلیں گے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ تمام اضلاع کے چیف ایگزیکٹو افسران اس فیصلے پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور کسی قسم کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔

ماہرین کی رائے

ماہرینِ صحت کے مطابق شدید سرد موسم میں بچوں کا اسکول جانا سانس، گلا اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کے خطرات بڑھا دیتا ہے۔

چائلڈ ہیلتھ اسپیشلسٹس کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں میں نمونیا، فلو اور وائرل انفیکشن کے امکانات سرد موسم میں زیادہ ہوتے ہیں، ایسے میں چھٹیوں میں توسیع ایک بروقت اور دانشمندانہ فیصلہ ہے۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق موسم بہتر ہونے کے بعد تعلیمی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز زیادہ مؤثر ثابت ہوگا اور حاضری بھی بہتر رہے گی۔

یہ فیصلہ محض تعلیمی پالیسی نہیں بلکہ ایک سماجی اور عوام دوست اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماضی میں ایسے فیصلے عموماً دفاتر میں بیٹھ کر کیے جاتے تھے، مگر اس بار عوامی سروے کو بنیاد بنانا حکومتی طرزِ حکمرانی میں ایک نئی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔

سرد موسم میں بچوں کو اسکول بھیجنے پر والدین پہلے ہی تشویش کا شکار تھے، ایسے میں حکومت کا براہِ راست عوامی رائے لینا اعتماد سازی کی مثال ہے۔

یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ تعلیمی پالیسی صرف نصاب تک محدود نہیں بلکہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو بھی برابر اہمیت دی جا رہی ہے۔

اگر مستقبل میں بھی تعلیمی فیصلے اسی عوامی مشاورت کے ساتھ کیے گئے تو یہ ماڈل دیگر صوبوں کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین