چمکتی اسکرین کے پیچھے اندھیرا، تاپسی پنو نے بالی ووڈ کا اصل چہرہ دکھا دیا

کئی فنکار محنت اور کام کے بجائے خبروں میں رہنے کے لیے مصنوعی امیج تخلیق کر رہے ہیں۔

بھارتی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ تاپسی پنو نے بالی ووڈ کے پسِ پردہ چلنے والے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔

حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران تاپسی پنو نے فلم انڈسٹری میں پبلک ریلیشنز یعنی پی آر کے بڑھتے ہوئے اور متنازع کردار پر کھل کر بات کی۔

38 سالہ اداکارہ نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں انہوں نے جان بوجھ کر اپنے کام کی رفتار کم کی، جس کے بعد انہیں یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ بالی ووڈ میں تشہیر اور بیانیہ کس طرح بنایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں پی آر کا مقصد کسی فنکار کے کام یا فلم کو اجاگر کرنا ہوتا تھا، مگر اب حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں۔

تاپسی کے مطابق آج کل کچھ لوگ صرف خود کو نمایاں کرنے پر ہی نہیں بلکہ دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے بھی منفی پی آر مہمات پر بھاری رقوم خرچ کر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کسی کی کامیابی کو کسی دوسرے کی ناکامی سے کیوں جوڑا جا رہا ہے، اور یہ سوچ فن اور تخلیق کے لیے کس قدر نقصان دہ ہے۔

 مصنوعی شہرت کا رجحان

تاپسی پنو نے مزید کہا کہ کئی فنکار محنت اور کام کے بجائے خبروں میں رہنے کے لیے مصنوعی امیج تخلیق کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق کچھ اداکار اور اداکارائیں اپنے کام کے ذریعے پہچان بنانے کے بجائے منظم پی آر مہمات کے ذریعے خود کو اہم ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اداکارہ نے واضح کیا کہ وہ اپنی کمائی اپنے اور اپنے قریبی لوگوں پر خرچ کرنا بہتر سمجھتی ہیں، نہ کہ منفی خبروں یا کردار کشی پر۔

حالیہ اور آئندہ منصوبے

واضح رہے کہ تاپسی پنو حال ہی میں مدثر عزیز کی فلم کھیل کھیل میں میں نظر آئیں۔

جبکہ آئندہ وہ دیواشیش مکھرجی کی ہدایت کاری میں بننے والی انتقامی ڈرامہ فلم گندھاری میں مرکزی کردار ادا کریں گی۔

 ماہرین کی رائے

فلم انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق تاپسی پنو کے بیانات اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں جس پر اکثر فنکار کھل کر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ منفی پی آر کلچر نہ صرف فنکاروں کے کیریئر کو متاثر کرتا ہے بلکہ ناظرین کے اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

ان کے مطابق اگر انڈسٹری میں میرٹ کے بجائے تشہیری مہمات کو فوقیت دی جاتی رہی تو معیاری سینما خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

تاپسی پنو کا یہ بیان محض ایک اداکارہ کی شکایت نہیں بلکہ بالی ووڈ کے اس نظام پر فردِ جرم ہے جہاں شہرت اب اسکرین پر نہیں بلکہ بیانیے کی جنگ میں بنتی ہے۔

پی آر مہمات کے ذریعے نہ صرف اپنی شبیہ چمکائی جا رہی ہے بلکہ حریفوں کو نقصان پہنچانا بھی ایک حکمتِ عملی بن چکی ہے۔

یہ رجحان ثابت کرتا ہے کہ فلم انڈسٹری میں طاقت کا مرکز آہستہ آہستہ فنکار سے نکل کر تشہیری مشینری کے ہاتھ میں جا رہا ہے۔

اگر اس روش کو نہ روکا گیا تو آنے والے وقت میں بالی ووڈ کا اصل سرمایہ، یعنی تخلیق اور اداکاری، پس منظر میں چلا جائے گا اور مصنوعی شہرت ہی معیار بن جائے گی

متعلقہ خبریں

مقبول ترین