اسلام آباد:وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ قومی خزانے پر سب سے بڑا دباؤ قرضوں پر سود کی ادائیگی کا ہے، سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے ضائع ہو رہے تھے۔
پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال ترسیلاتِ زر 38 ارب ڈالر تک پہنچیں، جبکہ رواں مالی سال کے اختتام تک یہ حجم 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، جو معیشت پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے اعتماد کا مظہر ہے۔
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی قوت ہے بلکہ جے ایف-17 طیارے کی برآمدات کے ذریعے عالمی مارکیٹ میں اپنی موجودگی بھی بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے ٹریکٹر سازی، آٹوموبائل اور انجینئرنگ کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کو سراہا، تاہم عالمی مقابلے میں ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 1980 میں چین کی فی کس آمدنی پاکستان سے کم تھی، لیکن آج وہ ہم سے آگے نکل چکا ہے، جبکہ ویتنام کی ایکسپورٹ 408 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ پاکستان کی ایکسپورٹ آج بھی تقریباً 40 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ احسن اقبال نے ملک میں یونیورسٹیوں اور شاہراہوں کے جال کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی مقابلے میں کامیابی کے لیے مزید اقدامات کرنا ضروری ہیں۔
وفاقی وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہے اور ایف بی آر کی مکمل ٹرانسفارمیشن جاری ہے۔ ٹیکس قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے لیے کمپلائنس اور انفورسمنٹ کے نظام کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، جبکہ توانائی کے شعبے میں بھی اصلاحات کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قومی ائیرلائن پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں مقامی سرمایہ کاروں نے بھی بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ مزید یہ کہ 24 سرکاری ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اداروں میں سالانہ تقریباً ایک ہزار ارب روپے ضائع ہو رہے تھے، اسی پس منظر میں یوٹیلٹی اسٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو جیسے ادارے بند کیے گئے، کیونکہ ان پر دی جانے والی سبسڈی میں بدعنوانی کے سنگین مسائل موجود تھے۔
محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ بے جا ڈیوٹیز میں اضافہ معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، اس لیے ڈیوٹیز کو متوازن بنانا اور کاروباری لاگت میں کمی لانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی حکومت کا سب سے بڑا خرچ ہے، تاہم گزشتہ مالی سال اس مد میں 850 ارب روپے کی بچت کی گئی، جبکہ رواں سال بھی سودی اخراجات میں مزید کمی متوقع ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ نے اعلان کیا کہ حکومت آئندہ دو ہفتوں میں پانڈا بانڈز متعارف کرانے جا رہی ہے۔ ایک حالیہ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 73 فیصد سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں، جو عالمی سطح پر ملک کے معاشی امکانات پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اگرچہ تجارتی خسارہ بڑھا ہے، تاہم کرنٹ اکاؤنٹ حکومتی اہداف کے دائرے میں ہے۔ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑی صنعتوں کی کارکردگی حوصلہ افزا رہی، جبکہ نجی شعبے کو فراہم کیے جانے والے قرضوں کا حجم بڑھ کر 1.1 ٹریلین روپے تک جا پہنچا ہے۔
محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ایک لاکھ 35 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے ہیں، اور گزشتہ 18 ماہ کے دوران اسٹاک مارکیٹ میں مجموعی سرمایہ کاری میں 41 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو معیشت میں بحالی اور اعتماد کی مضبوط علامت ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس دنیا کی تیسری سب سے بڑی فری لانسر فورس موجود ہے، اور اس نوجوان صلاحیت کو مؤثر بنانے کے لیے حکومت پر لازم ہے کہ وہ جدید نظام اور قابلِ اعتماد پلیٹ فارمز فراہم کرے تاکہ نوجوان اپنی مہارتوں کو قومی معیشت میں ڈھال سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ 2047 تک تین ٹریلین ڈالر کی معیشت کا خواب اسی وقت حقیقت بن سکتا ہے جب آبادی میں بے قابو اضافے کو روکا جائے، کیونکہ سالانہ 2.55 فیصد آبادی بڑھنے کی رفتار کے ساتھ پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ قرضوں کی ادائیگی میں کمی خود بخود نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے ٹھوس اور بروقت فیصلے کارفرما ہیں۔ رواں سال قرضوں کی مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے نمایاں بچت ممکن بنائی گئی ہے، اور حکومت کی کوشش ہے کہ اس بچت کو قومی ترجیحات اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے تاکہ معیشت کو حقیقی فائدہ پہنچ سکے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان میں اور بیرونِ ملک سرمایہ کاری کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے، جبکہ آئندہ ہفتوں میں پانڈا بانڈ سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب چین کی مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، اور کرنسی کی تبدیلی سے تقریباً 2.5 فیصد مالی فائدہ حاصل ہونے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے اصلاحاتی اقدامات پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جبکہ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) نے پاکستان میں 3.5 ارب ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری مکمل کی ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ نے ریکوڈک منصوبے کے معاشی فوائد اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے تحت برآمدات کا آغاز 2028 میں ہوگا، اور پہلے ہی سال 2.8 ارب ڈالر کی برآمدات متوقع ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹیلی نار کی ٹرانزیکشن میں آئی ایف سی نے 400 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جو پاکستان میں بڑھتے ہوئے سرمایہ کار اعتماد کا ثبوت ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق 73 فیصد سرمایہ کار مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہیں۔
اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیرِ نجکاری محمد علی نے کہا کہ ماضی کی غلط معاشی حکمت عملیوں نے نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی اور قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نجکاری کوئی نظریاتی نعرہ نہیں بلکہ مارکیٹ میں موجود خامیوں کو دور کرنے کا عملی طریقہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط معیشت وہی ہوتی ہے جہاں ادارے مؤثر اور فعال ہوں، اور ایک جدید معاشی ری سیٹ کے لیے سوچ اور طرزِ فکر میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے۔
مصدق ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خوشحالی کا حقیقی اور پائیدار راستہ صرف پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور ہر شہری کو یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں خوشحالی کا تصور اب محدود ہو کر طاقت اور اثر و رسوخ تک پہنچنے تک محدود رہ گیا ہے، جہاں مخصوص طبقات کو سستی بجلی، گیس اور ٹیکس میں چھوٹ دی جاتی ہے۔ ان کے بقول حکومت کو چاہیے کہ بڑے سرمایہ داروں کی بجائے چھوٹے کارخانوں اور نوجوانوں کو وسائل اور مواقع فراہم کرے تاکہ ملک کی حقیقی اقتصادی ترقی ممکن ہو سکے۔
مصدق ملک نے مزید کہا کہ خوشحالی کا اصل سرچشمہ تعلیم، ہنر اور پیداواری صلاحیت ہے۔ معاشی نظام میں ٹیلنٹ اور قابلیت کے اصول کو فوقیت دی جائے تاکہ ہر شخص اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھ سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر پاکستان کی معاشی پالیسیاں درست ہوتیں تو آج ملک بنگلا دیش سے آگے ہوتا۔ معیشت میں ‘بوم اینڈ بسٹ’ سائیکل کی بنیادی وجہ امپورٹ اور داخلی کھپت پر انحصار ہے، جبکہ اشرافیہ کو ترجیح دینے والی پالیسی نے ملک کی پیداواری صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے۔





















