اخلاق حسنہ کے ذریعے معاشرے میں اپنی مثال قائم کریں:پروفیسر ڈاکٹر حسین قادری کا طلبہ سے خطاب

جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن میں فارغ التحصیل طلبہ و علماء کے اعزاز میں ایک شاندار اور باوقار الوداعی تقریب کا انعقاد

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن میں فارغ التحصیل طلبہ و علماء کے اعزاز میں ایک شاندار اور باوقار الوداعی تقریب منعقد کی گئی۔ اس تقریب میں والدین، اساتذہ، اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس سے تقریب کا ماحول انتہائی پرجوش اور پرمسرت بنا رہا۔

اخلاق حسنہ کے ذریعے معاشرے میں اپنی مثال قائم کریں:پروفیسر ڈاکٹر حسین قادری کا طلبہ سے خطاب

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ دن نہ صرف طلبہ کے لیے خوشی اور فخر کا موقع ہے بلکہ والدین اور اساتذہ کے لیے بھی مسرت کا لمحہ ہے۔ اس موقع پر طلبہ کی محنت، اساتذہ کی سالوں کی تربیت، اور والدین کی بے پناہ قربانیوں کو سراہا گیا، کیونکہ انہی کی کوششوں کے نتیجے میں طلبہ دینِ مصطفی ﷺ کی خدمت کے اہل بنے ہیں۔

انہوں نے طلبہ کو یاد دلایا کہ جامعہ میں گزارے گئے سات سال صرف اسناد اور درجات حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، مگر علم کا حقیقی سفر ابھی باقی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے، اور یہ سمجھ حاصل کرنے کا عمل زندگی بھر جاری رہتا ہے۔

اخلاق حسنہ کے ذریعے معاشرے میں اپنی مثال قائم کریں:پروفیسر ڈاکٹر حسین قادری کا طلبہ سے خطاب

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی نیت میں خالصیت برقرار رکھیں، علم کو عبادت کا درجہ دیں، اور دین کے نمائندے کے طور پر اپنے کردار، گفتار، لباس اور اخلاق کے ذریعے معاشرے میں دین کی حقیقی تصویر پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ علم صرف کتابی معلومات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا عملی اثر کردار اور عمل میں بھی دکھائی دینا چاہیے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے امام غزالیؒ کی زندگی کو مثال کے طور پر پیش کیا، جنہوں نے علم، شہرت اور منصب کے اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے باوجود اخلاص اور نیت کی اہمیت کو ترجیح دی۔ امام غزالیؒ نے خلوت اختیار کی، دنیاوی شہرت سے الگ ہو کر علم اور عمل کو حقیقی روحانیت کے ساتھ جوڑا، تاکہ دین کی خدمت اور اخلاقی بلندی ممکن ہو سکے۔

اخلاق حسنہ کے ذریعے معاشرے میں اپنی مثال قائم کریں:پروفیسر ڈاکٹر حسین قادری کا طلبہ سے خطاب

تقریب میں اساتذہ کی محنت و خلوص، والدین کی قربانیاں، اور طلبہ کی محنت کو بھی خصوصی سراہا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے نصیحت کی کہ طلبہ ہمیشہ قرآنِ مجید سے گہرا تعلق رکھیں، روزانہ ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ مطالعہ کریں، دینی اور جدید علوم میں خود کو اپ ڈیٹ رکھیں، اور اخلاق حسنہ، وقار اور انکساری کے ساتھ معاشرے میں اپنی مثال قائم کریں۔

آخر میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ تمام فارغ التحصیل طلبہ کو اخلاص، استقامت، اور کامیابی سے نوازے، والدین اور اساتذہ کی خدمات قبول فرمائے، جامعہ کو علم و عمل کا روشن چراغ بنائے، اور ہم سب کو دینِ اسلام کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

تقریب میں پرنسپل کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز پروفیسر ڈاکٹر محمد ممتاز الحسن باروی، معروف صوفی سکالر صاحبزادہ عاصم مہاروی، نائب ناظمِ اعلیٰ تنظیمات تحریکِ منہاج القرآن ڈاکٹر محمد رفیق نجم، مفتی عبد القیوم خان ہزاروی، ڈاکٹر محمد اکرم رانا، پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد جامی، پروفیسر ڈاکٹر فیض اللہ بغدادی، پروفیسر ڈاکٹر شفاقت علی بغدادی، پروفیسر ڈاکٹر افتخار شاہ بخاری، ڈاکٹر مسعود احمد مجاہد، ڈاکٹر مراد علی دانش، محب اللہ اظہر، کرنل ر خالد جاوید، ڈاکٹر محمد فاروق رانا، ونگ کمانڈر عبد الغفار، جواد حامد، علامہ محمد عباس نقشبندی، صابر حسین نقشبندی، سہیل رضا، عائشہ مبشرہ، جوریہ افضل اور ثناء وحید سمیت فارغ التحصیل اور زیرِ تعلیم طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اخلاق حسنہ کے ذریعے معاشرے میں اپنی مثال قائم کریں:پروفیسر ڈاکٹر حسین قادری کا طلبہ سے خطاب

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن میں منعقد ہونے والی فارغ التحصیل طلبہ و علماء کی الوداعی تقریب نہ صرف ایک رسمی اجتماع تھی بلکہ یہ علم، تربیت، اور اخلاقی کردار کے امتزاج کی علامت بھی تھی۔ اس موقع پر والدین، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد کی موجودگی اس بات کا مظہر تھی کہ دین کی تعلیم اور تربیت ایک اجتماعی کوشش کا نتیجہ ہے، جس میں ہر فرد کی اپنی ایک اہم ذمہ داری ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کے خطاب نے اس تقریب کو محض ایک خوشی کے موقع سے بڑھا کر ایک روحانی و فکری تجربہ بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعات میں گزارے گئے سات سال اسناد حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں، مگر علم کا حقیقی سفر اب شروع ہوتا ہے۔ یہ تصور طلبہ کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ تعلیمی کامیابی محض ایک ابتدائی مرحلہ ہے، جبکہ اصل امتحان علم کو معاشرے میں عمل اور کردار کے ذریعے ظاہر کرنے میں ہے۔

تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو پروفیسر قادری نے علم کی تین بنیادی جہتیں واضح کیں:

نیت اور اخلاص: علم صرف کتابی معلومات یا منصب کے حصول کا نام نہیں بلکہ خالص نیت اور عبادت کے درجہ کا تقاضا کرتا ہے۔

عملی تطبیق: دین کے اصول اور اخلاق صرف سمجھنے سے نہیں بلکہ روزمرہ کے کردار، گفتار، اور معاشرتی رویوں میں ظاہر ہونے چاہیے۔

مسلسل سیکھنے کا عمل: علم حاصل کرنا ایک مستمر عمل ہے، اور جدید و دینی علوم میں خود کو اپ ڈیٹ رکھنا ہر عالم یا طالب علم کی ذمہ داری ہے۔

امام غزالیؒ کی زندگی کی مثال دینے سے یہ پیغام مزید واضح ہوا کہ اعلیٰ مقام اور شہرت علم کی اصل قدر کی شرط نہیں؛ اصل قدر تو اس علم کی عملی اور روحانی تطبیق میں ہے۔ امام غزالیؒ نے یہ سکھایا کہ علم اور عمل کا تعلق اخلاص اور روحانیت کے بغیر نامکمل ہے۔

تقریب میں اساتذہ، والدین اور طلبہ کی محنت و قربانی کو سراہا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ تعلیم ایک اجتماعی ذمہ داری ہے، جس میں فرد، استاد اور خاندان کی مشترکہ کوششیں ایک کامیاب اور متوازن علمی شخصیت کو جنم دیتی ہیں۔

مزید یہ کہ پروفیسر قادری نے طلبہ کو نصیحت کی کہ قرآنِ مجید سے تعلق مضبوط رکھیں، اخلاق حسنہ اختیار کریں، اور معاشرتی مثال قائم کریں۔ یہ نصیحت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ علم کی قیمت اس کے اثر اور اطلاق سے جانی جاتی ہے، نہ کہ صرف تعلیمی ڈگری سے۔

تجزیہ کرنے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن نے تعلیم کو علم، عمل اور اخلاق کے متوازن امتزاج کے طور پر پیش کرنے کی ایک مضبوط روایت قائم کی ہے۔ یہ تقریب اس بات کا عملی ثبوت تھی کہ فارغ التحصیل طلبہ صرف علمی سند کے حامل نہیں، بلکہ معاشرتی ذمہ داری اور اخلاقی قیادت کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

اختتامی کلمات میں دعا اور نیک تمناؤں کا شامل ہونا اس تقریب کو صرف رسمی نہیں بلکہ روحانی اور معنوی رنگ بھی دیتا ہے، جو فارغ التحصیل طلبہ کے لیے زندگی بھر کی رہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہ تجزیہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ تعلیم کی اصل کامیابی صرف درجات اور اسناد میں نہیں بلکہ علم کی عملی اور اخلاقی تطبیق میں مضمر ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین