بھارت میں شیڈول ICC Men’s T20 World Cup 2026 مسلسل تنازعات کی زد میں آتا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی خدشات، سیاسی کشیدگی اور ویزا مسائل کے باعث ایونٹ کی تیاریاں کئی ممالک کے لیے مشکلات کا سبب بن چکی ہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم پہلے ہی ہائبرڈ ماڈل معاہدے کے تحت اپنے تمام ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچز بھارت کے بجائے سری لنکا میں کھیلنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔
اسی طرح بنگلادیش کرکٹ بورڈ بھی اپنی ٹیم کو بھارت بھیجنے سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔
ان حالات کے برعکس اب بھارت پر یہ الزام بھی سامنے آ رہا ہے کہ وہ مختلف ٹیموں کے پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو ویزے جاری کرنے میں تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے۔
انگلینڈ کے کھلاڑی بھی متاثر
میڈیا رپورٹس کے مطابق Adil Rashid اور Rehan Ahmed کو تاحال بھارتی ویزا جاری نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق دونوں کھلاڑیوں کا تعلق پاکستانی نژاد خاندانوں سے ہے، جس کے باعث ویزا کلیئرنس کا عمل التوا کا شکار ہے۔
اس صورتحال کے نتیجے میں عادل رشید اور ریحان احمد کا اس ہفتے کے اختتام پر سری لنکا کے خلاف 6 وارم اپ میچز کی سیریز کے لیے انگلش اسکواڈ کے ہمراہ سفر کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔
پہلے بھی مثالیں موجود
یہ پہلا موقع نہیں کہ انگلینڈ کے پاکستانی نژاد کرکٹرز کو بھارت میں ویزا مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہو۔
دو سال قبل Shoaib Bashir بھارت کے دورے کے ابتدائی ٹیسٹ میچ میں شرکت نہ کر سکے تھے اور ویزا پراسیس مکمل کروانے کے لیے لندن واپس جانا پڑا تھا۔
اسی طرح Saqib Mahmood کو بھی ماضی میں بھارتی ویزا کے معاملے پر مشکلات پیش آ چکی ہیں۔
ماہرین کی رائے
کرکٹ امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ویزا مسائل کو بروقت حل نہ کیا گیا تو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا انعقاد کھیل سے زیادہ سفارتی تنازع بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی کھلاڑی کے نسلی یا خاندانی پس منظر کی بنیاد پر رکاوٹیں ڈالنا آئی سی سی قوانین اور کھیل کی روح کے منافی ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیسے عالمی ایونٹ میں ویزا مسائل کا بار بار سامنے آنا بھارت کی میزبانی پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے۔
پاکستان، بنگلادیش اور اب انگلینڈ کے پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو درپیش مشکلات یہ تاثر مضبوط کر رہی ہیں کہ کھیل کو سیاست کی نذر کیا جا رہا ہے۔
اگر آئی سی سی نے بروقت اور غیر جانبدار کردار ادا نہ کیا تو نہ صرف ایونٹ کی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ مستقبل میں بھارت کی میزبانی پر بھی سوالات کھڑے ہو سکتے ہیں۔
یہ معاملہ اب صرف دو کھلاڑیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی کرکٹ کے منصفانہ ڈھانچے کے لیے ایک امتحان بن چکا ہے۔





















