جدید ذہن اور صوفیانہ بصیرت میں کشمکش

زمانے کے ساتھ خانقاہی نظام میں جو تبدیلیاں آئیں، وہ بھی اس فکری تضاد میں اہم کردار ادا کرتی ہیں

خصوصی تحریر: سیّد مؤیّد علی بخاری

دورِ حاضر کا انسان فکری ارتقا کے ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں اس کی سوچ زیادہ تر عملی، تجرباتی اور ٹھوس حقائق تک محدود ہو گئی ہے۔ اس ذہنی رویےّ نے اگرچہ سائنسی اور مادی ترقی کو فروغ دیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ انسان کی وہ صلاحیت کمزور پڑ گئی ہے جو اسے روحانی اور باطنی تجربات کی گہرائی تک لے جاتی تھی۔ نتیجتاً جدید انسان نہ صرف ایسے تجربات کو سمجھنے سے قاصر نظر آتا ہے بلکہ انہیں وہم، فریب یا نفسیاتی دھوکے کے طور پر بھی دیکھتا ہے۔ یہی فکری پس منظر ہے جس کے تحت وہ تصوف اور اہلِ تصوف کے تجربات سے انکار یا کم از کم شدید شک کا رویّہ اختیار کر لیتا ہے۔

اسی حقیقت کو مصورِ پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے اپنی کتاب
The Reconstruction of Religious Thought in Islam
میں کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں۔
The modern man by developing habits of concrete thought habits which islam itself fostered at least in the earlier stages of it’s cultural career has rendered himself less capable of that experience which he further suspects because of it’s liability to illusion.
کہ آج کا انسان عملی اور ٹھوس سوچ کا عادی ہو گیا ہے۔ یہ عادتیں اسلام نے بھی اپنے ابتدائی دور میں لوگوں میں پیدا کی تھیں۔ لیکن اس عملی سوچ کی وجہ سے جدید انسان اب روحانی یا باطنی تجربات کو سمجھنے کی صلاحیت کم رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایسے تجربات پر شک بھی کرتا ہے کہ ان میں دھوکہ یا وہم ہو سکتا ہے۔

اب اگر علامہ اقبالؒ کی اس بات پر غور کیا جائے تو یہاں ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر عملی اور ٹھوس سوچ اسلام نے اپنے ابتدائی دور میں خود فروغ دی تھی، تو پھر یہی سوچ جدید انسان میں صوفیانہ اور روحانی تجربات کو سمجھنے کی صلاحیت کیوں کم کر دیتی ہے؟

اگر اس نکتے پر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تعلیماتِ اسلام پہلے جیسی تھیں اب بھی ویسی ہی ہیں ۔ فرق صرف ہمارے سمجھنے میں آیا ہے۔ بنیادی مسئلہ عملی سوچ نہیں بلکہ اس سوچ کا دائرہ ہے۔

اسلام نے انسان کو غور و فکر، عمل اور تجربے کی دعوت ضرور دی، مگر ساتھ ہی یہ بھی سکھایا کہ عقل کے ساتھ دل اور روح کو بھی زندہ رکھنا ضروری ہے۔ ابتدائی اسلامی معاشرے میں عملی سوچ اخلاق اور روحانیت کے تابع تھی، اس لیے عقل اور باطن میں کوئی ٹکراؤ نہیں تھا۔

اسی توازن کی عملی صورت ہمیں رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ میں نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے زندگی کے مختلف مراحل میں عقل، تدبیر اور تجربے کو پوری طرح بروئے کار لایا، مگر ان سب کو کبھی روحانی شعور اور اخلاقی اقدار سے جدا نہیں ہونے دیا۔ تجارت کے میدان میں دیانت، امانت اور عدل کا التزام ہو یا اجتماعی معاملات میں مشاورت اور حکمتِ عملی کا اختیار کرنا، ہر جگہ یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عملی فکر کو باطن کی رہنمائی حاصل تھی۔

یہی توازن بعد کے مراحل میں بھی برقرار رہا۔ غزوۂ بدر کے موقع پر جہاں ایک طرف جنگی حکمتِ عملی، صف بندی اور حالات کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا گیا، وہیں دوسری طرف فتح کو محض تدبیر کا نتیجہ سمجھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی نصرت پر کامل اعتماد کا اظہار بھی کیا گیا۔ یہ اس حقیقت کی دلیل ہے کہ اسلامی فکر میں عمل اور توکل، عقل اور روح، ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔

اس کے برعکس ، جب عملی فکر کو اس کے روحانی اور اخلاقی دائرے سے جدا کر دیا جائے تو فہمِ دین میں یک رُخی پیدا ہو جاتی ہے۔ موجودہ دور میں یہی یک رُخی جدید ذہن کی فکری ساخت کا حصہ بن چکی ہے، جہاں عقل اور تجربہ تو باقی رہتے ہیں، مگر باطن، وجدان اور روحانی شعور کو غیر معتبر سمجھ لیا جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ توازن، جو سیرتِ نبوی ﷺ میں عمل اور توکل کے امتزاج کی صورت میں نمایاں تھا، جدید انسان کی فکری زندگی میں برقرار نہیں رہ سکا۔

اسی عدمِ توازن نے ایک طرف جدید ذہن کو صوفیانہ بصیرت سے دور کیا، تو دوسری طرف خانقاہی نظام کے بعض نمائندوں کو عملی زندگی کے تقاضوں سے کاٹ دیا۔ یوں عقل اور روح، جو اسلامی فکر میں ایک ہی حقیقت کے دو پہلو تھے، موجودہ دور میں باہم متصادم نظر آنے لگے۔

اس تناظر میں علامہ اقبال خانقاہی اداروں پر بھی نگاہِ تنقید ڈالتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ تصوف کے مستند مکاتبِ فکر نے اسلامی مذہبی تجربے کی تشکیل اور رہنمائی میں گراں قدر خدمات انجام دیں، تاہم جدید دور میں ان کے بعض نمائندے جدید فکر اور تجربے سے کوئی تازہ روحانی رہنمائی حاصل کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے ہیں۔ اقبال لکھتے ہیں
The more genuine schools of sufism have, no doubt, done good work in shaping and directing the evolution of religious experience in islam; but their latter-day represantatives, owing to the ignorance of the modern mind, have become absolutely incapable of receiving any fresh inspiration from modren thought and experience.
کہ تصوف کے زیادہ مستند اور حقیقی مکاتبِ فکر نے بلاشبہ اسلام میں مذہبی تجربے کی تشکیل اور سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن ان کے موجودہ نمائندے جدید ذہن سے ناواقف ہونے کے باعث جدید فکر اور تجربے سے کسی بھی نئی روحانی بصیرت یا الہام کو قبول کرنے سے بالکل قاصر ہو چکے ہیں۔

زمانے کے ساتھ خانقاہی نظام میں جو تبدیلیاں آئیں، وہ بھی اس فکری تضاد میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جہاں ایک طرف تصوف کے اصل مکاتبِ فکر نے انسان کی روحانی تربیت اور عملی زندگی کے امتزاج کو برقرار رکھا، وہیں موجودہ خانقاہیں اکثر صرف رسمی آداب، پیری مریدی، گوشہ نشینی اور باطنی تجربات تک محدود ہو گئی ہیں۔ اس محدودیت کے باعث وہ جدید انسانی فکر اور عملی دنیا کی ضروریات سے کٹ گئی ہیں۔ اقبال علیہ رحمہ اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ خانقاہی نظام کے بعض نمائندے جدید فکر اور تجربات سے قطع تعلق ہو چکے ہیں، جس سے روحانی بصیرت کی فضا ان تک پہنچنے سے قاصر ہے۔

یوں جدید ذہن کی عملی سوچ اور خانقاہی نظام کی عملی لاتعلقی، دونوں مل کر اس توازن کو متاثر کرتی ہیں جو اسلام میں عقل، عمل اور روح کے امتزاج کی صورت میں موجود تھا۔ نتیجتاً عقل اور روح، جو حضور نبی اکرمﷺ کی سیرت میں ایک متوازن امتزاج کی شکل اختیار کیے ہوئے تھے، آج جدید انسان کے نزدیک بظاہر متصادم اور الگ الگ پہلو نظر آنے لگتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین