راولپنڈی:راولپنڈی کے تھانہ دھمیال کے علاقے اشرف کالونی میں انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں گلی میں کھیلتی تین سالہ معصوم بچی کے کانوں سے سونے کی بالیاں نوچ کر ملزم فرار ہو گیا۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظرِ عام پر آ گئی ہے، جس میں ایک شخص کو تیزی سے گلی میں داخل ہوتے اور واردات کے بعد فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔
فوٹیج نے دل دہلا دیا
سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم کے پیچھے پیچھے معصوم بچی شدید درد میں چیختی چلاتی ایک ہاتھ اپنے کان پر رکھے بھاگ رہی ہے۔
فوٹیج میں بچی کی بے بسی اور خوف نے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے، جبکہ شہریوں نے قانون نافذ کرنے
والے اداروں سے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس کارروائی اور مقدمہ درج
پولیس کے مطابق بچی کے والد پرویز کی مدعیت میں سرقہ بالجبر کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے خالد ہمدانی نے ایس ایس پی آپریشنز اور ایس ایس پی انوسٹی گیشن کو فوری طور پر ملزم کو ٹریس کرکے گرفتار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کی شناخت اور گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور مختلف راستوں پر کیمروں کی جانچ کی جا رہی ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرینِ نفسیات اور سماجی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے خلاف ایسے جرائم صرف مالی نقصان نہیں بلکہ شدید نفسیاتی صدمے کا باعث بنتے ہیں۔
ان کے مطابق اس عمر میں ہونے والا تشدد بچے کی ذہنی نشوونما، اعتماد اور سماجی رویوں پر طویل المدتی منفی اثرات چھوڑ سکتا ہے، جس کے لیے فوری نفسیاتی معاونت ضروری ہے۔
راولپنڈی میں پیش آنے والا یہ واقعہ محض ایک اسٹریٹ کرائم نہیں بلکہ معاشرتی زوال کی ایک خوفناک علامت ہے۔
جس معاشرے میں ایک تین سالہ بچی بھی لالچ سے محفوظ نہ رہے، وہاں قانون کا خوف کمزور ہو چکا ہے۔ یہ واردات اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اسٹریٹ کرائم کے ملزمان کے خلاف فوری، سخت اور مثال بننے والی کارروائی کی جائے۔
اگر ایسے واقعات میں ملوث عناصر کو فوری سزا نہ ملی تو یہ رجحان مزید پھیل سکتا ہے، جس کا خمیازہ معاشرے کے سب سے کمزور طبقے—بچوں—کو بھگتنا پڑے





















