چین کی آبادی تیزی سے کم ہونے لگی، مستقبل میں 1.4ارب سے 80 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ

گزشتہ سال ملک کی مجموعی آبادی میں 33 لاکھ 90 ہزار افراد کی کمی ہوئی، جبکہ ایک کروڑ 13 لاکھ افراد کا انتقال ہوا

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)چین اس وقت آبادی میں مسلسل کمی کے سنگین بحران کا شکار ہے۔اقوامِ متحدہ کے مطابق اگر موجودہ رجحانات جاری رہے تو ملک کی آج کی 1.4 ارب آبادی 2100 تک صرف 80 کروڑ رہ سکتی ہے۔ یہ کمی نہ صرف معیشت بلکہ سماجی ڈھانچے اور محنتی قوت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ملک میں صرف 79 لاکھ 20 ہزار بچے پیدا ہوئے، جو 1949 کے بعد ریکارڈ کی گئی سب سے کم تعداد ہے۔

چینی نیشنل بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق 2025 میں فی ہزار افراد پر پیدائش کی شرح صرف 5.63 رہی، جبکہ گزشتہ ایک سال میں پیدائش کی تعداد میں 17 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اس کے نتیجے میں چین کی آبادی مسلسل چوتھے سال کم ہوئی ہے، جو معاشرتی اور اقتصادی لحاظ سے تشویشناک ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ملک کی مجموعی آبادی میں 33 لاکھ 90 ہزار افراد کی کمی ہوئی، جبکہ ایک کروڑ 13 لاکھ افراد کا انتقال ہوا۔ اس وجہ سے مجموعی آبادی میں کمی کی رفتار مزید تیز ہو گئی ہے، اور ملک کے لیے مستقبل میں بڑھتی ہوئی معیشتی اور سماجی چیلنجز کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق چین اس وقت ایک سنگین آبادیاتی بحران کا سامنا کر رہا ہے، جس کا اثر طویل مدتی اقتصادی ترقی، محنتی قوت، اور معاشرتی ڈھانچے پر پڑ سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے تخمینے کے مطابق اگر موجودہ رجحانات برقرار رہیں تو چین کی موجودہ 1.4 ارب آبادی 2100 تک صرف 80 کروڑ رہ سکتی ہے۔

حکومت کی جانب سے پالیسی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ آبادی میں توازن برقرار رکھا جا سکے، جن میں ون چائلڈ پالیسی کا خاتمہ، بچوں کے لیے مالی سبسڈی، اور سرکاری کنڈرگارٹن فیس میں کمی شامل ہیں۔ تاہم، نوجوان جوڑے معاشی دباؤ، روزگار کی غیر یقینی صورتحال، اور مستقبل کے خدشات کے باعث بچوں کی پیدائش سے گریزاں ہیں۔

چین میں شادیوں کی شرح بھی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، اور نوجوان نسل کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومتی مراعات ان کے لیے کافی نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف مالی مراعات سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ ملازمتوں کے دباؤ میں کمی، رہائشی اخراجات میں آسانی، اور مستقبل کے تحفظ کے مواقع بھی فراہم کرنا ہوں گے۔

چین کے لیے یہ صورتحال نہ صرف معیشت بلکہ معاشرتی ڈھانچے کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ کم پیدائش اور بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی ملک کی محنتی قوت اور سماجی سروسز پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو چین آنے والے دہائیوں میں ایک گہرے آبادیاتی بحران کا شکار ہو سکتا ہے، جو عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب کرے گا۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ چین میں پیدائش کی شرح میں تاریخی کمی نہ صرف معاشرتی بلکہ اقتصادی نقطہ نظر سے بھی خطرناک اشارہ ہے۔ گزشتہ سال صرف 79 لاکھ بچے پیدا ہونا اور مسلسل چوتھے سال آبادی میں کمی، ملک کے لیے ایک دیرپا بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ نوجوان نسل کے بچے پیدا کرنے سے گریز کا سبب صرف مالی دباؤ نہیں بلکہ ملازمتوں کی غیر یقینی صورتحال، رہائش کے بڑھتے اخراجات اور مستقبل کے خدشات بھی ہیں۔

حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سبسڈی اور کنڈرگارٹن فیس میں کمی جیسے اقدامات عارضی حل کے مترادف ہیں، کیونکہ پیدائش کی شرح بڑھانے کے لیے سماجی اور معاشی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو چین کی محنتی قوت کمزور ہو جائے گی، بزرگوں کی تعداد بڑھ جائے گی اور معیشت پر شدید دباؤ آئے گا۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے نہ صرف مالی مراعات بلکہ روزگار کی استحکام، رہائش کی آسانی، اور نوجوانوں کے لیے مستقبل کے محفوظ مواقع فراہم کرنا ضروری ہیں۔ بصورت دیگر، چین آنے والے دہائیوں میں عالمی سطح پر ایک نمایاں آبادیاتی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین