سوات، چترال میں بارش اور برفباری، سڑکوں پر پھسلن، احتیاطی اقدامات سخت

سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے بغیر سنو چین گاڑیوں کو بالائی علاقوں کی جانب جانے سے روک دیا ہے

چترال (خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)ملک میں داخل ہونے والے مغربی سسٹم کے زیرِ اثر چترال بھر میں گزشتہ رات سے بارش جبکہ بالائی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث سردی کی شدت ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ لواری ٹنل روڈ کے دونوں اطراف، کالاش ویلیز، مڈک لشٹ، گرم چشمہ، اپر چترال کے علاقوں تورکھو، موڑکھو، مستوج اور یارخون میں بھی برفباری ریکارڈ کی گئی۔

لواری ٹنل روڈ پر برفباری کے باوجود ٹریفک معمول کے مطابق جاری رہی، تاہم اپر اور لوئر چترال میں برفباری کے باعث موسم شدید سرد ہو گیا ہے۔ سردی میں اضافے کے ساتھ ہی چترال میں جلانے کی لکڑی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے، جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

دوسری جانب سوات کے میدانی علاقوں میں بارش کا سلسلہ رک گیا ہے، تاہم سردی بدستور برقرار ہے، جبکہ بالائی علاقوں کالام اور مالم جبہ میں بارش اور ہلکی برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ برفباری کے بعد برف پوش علاقوں کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے مقامی اور غیر مقامی سیاح بڑی تعداد میں ان علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق برفباری کے باعث سڑکوں پر شدید پھسلن پیدا ہو چکی ہے، جس کے پیش نظر احتیاطی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے بغیر سنو چین گاڑیوں کو بالائی علاقوں کی جانب جانے سے روک دیا ہے۔ ترجمان سعید الرحمان کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ سیاحوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں داخل ہونے والے مغربی سسٹم کے نتیجے میں چترال اور سوات کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کا یہ سلسلہ محض ایک موسمی تبدیلی نہیں بلکہ اس کے اثرات سماجی، معاشی اور انتظامی سطح پر بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بالائی علاقوں میں برفباری جہاں قدرتی حسن میں اضافہ کر رہی ہے، وہیں مقامی آبادی کے لیے مشکلات اور چیلنجز بھی لے کر آئی ہے۔

چترال جیسے سرد خطے میں برفباری کوئی غیر معمولی بات نہیں، تاہم حالیہ برفباری نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ سرد موسم کے لیے پیشگی تیاری اور بنیادی سہولیات کی کمی آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اپر اور لوئر چترال میں درجہ حرارت میں اچانک کمی کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے ہیں، جبکہ جلانے کی لکڑی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع اور سستے ایندھن کی عدم دستیابی سرد علاقوں کے عوام کے لیے ہر سال ایک مستقل بحران کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

لواری ٹنل روڈ پر برفباری کے باوجود ٹریفک کا بحال رہنا بلاشبہ ایک مثبت پیش رفت ہے اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں انفراسٹرکچر میں بہتری آئی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مسلسل برفباری کی صورت میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشینری، عملے اور متبادل راستوں کی مکمل تیاری ناگزیر ہے، کیونکہ بالائی علاقوں میں سڑکوں کی بندش کا براہِ راست اثر خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی پر پڑتا ہے۔

دوسری جانب سوات کے بالائی علاقوں کالام اور مالم جبہ میں ہلکی برفباری نے سیاحتی سرگرمیوں کو ایک بار پھر متحرک کر دیا ہے۔ برف پوش مناظر مقامی اور غیر مقامی سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ رہے ہیں، جو علاقے کی معیشت کے لیے خوش آئند پہلو ہے۔ تاہم سڑکوں پر شدید پھسلن اور موسم کی سختی نے سیاحتی انتظامات پر سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔ بغیر سنو چین گاڑیوں پر پابندی اور احتیاطی اقدامات کا نفاذ درست سمت میں قدم ہے، لیکن اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاحت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح بنایا جائے۔

انتظامیہ اور سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے حفاظتی اقدامات اور کارروائیاں اس امر کی عکاس ہیں کہ ماضی کے تلخ تجربات سے کچھ سبق سیکھا گیا ہے۔ تاہم صرف کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ عوام اور سیاحوں میں شعور بیدار کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے تاکہ وہ موسم کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو حالیہ بارش اور برفباری ایک طرف قدرتی حسن، سیاحت اور آبی وسائل کے لیے فائدہ مند ہے، تو دوسری طرف سرد علاقوں میں مہنگائی، توانائی کے بحران اور آمدورفت کے مسائل کو بھی نمایاں کر رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے موسمی تغیرات کو سامنے رکھتے ہوئے طویل المدتی منصوبہ بندی کریں، تاکہ چترال اور سوات جیسے علاقوں کے عوام ہر سال انہی مشکلات کا شکار نہ ہوں اور قدرتی حسن نعمت کے ساتھ زحمت نہ بن جائے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین