درست پیشگوئیوں کے باعث دنیا بھر میں مشہور بلغارین نابینا پیشگو Baba Vanga برسوں قبل انتقال کرگئی تھیں، تاہم ان کی کئی پیشگوئیاں وقت گزرنے کے ساتھ حقیقت بنتی دکھائی دے رہی ہیں۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بابا وانگا نے ٹیکنالوجی کے مستقبل سے متعلق ایک ایسی پیشگوئی کی تھی جسے اس وقت سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، مگر آج وہ حیران کن حد تک درست ثابت ہو رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق بابا وانگا نے کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب انسان روزمرہ زندگی میں مدد کے لیے چھوٹے الیکٹرونک آلات پر انحصار کرنے لگے گا، اور یہی آلات آہستہ آہستہ انسانوں کے باہمی تعلقات اور رابطے کے طریقوں کو بدل دیں گے۔
آج اس پیشگوئی پر نظر ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ بچے ہوں یا بزرگ، ہر عمر کے افراد موبائل فونز، ٹیبلٹس، کمپیوٹرز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کرتے۔
یہ ڈیجیٹل آلات اب نہ صرف کام اور تفریح بلکہ رابطے، سماجی میل جول اور معلومات کے حصول کا بنیادی ذریعہ بن چکے ہیں، جس کے باعث اسکرین ٹائم میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بابا وانگا نے یہ بھی پیشگوئی کی تھی کہ جیسے جیسے انسان ان چھوٹے آلات پر زیادہ انحصار کرے گا، ویسے ویسے حقیقی زندگی کے تعلقات کمزور ہوتے جائیں گے، جس کا براہِ راست اثر ذہنی صحت پر پڑے گا۔
آج کے دور میں اس پیشگوئی کی جھلک واضح طور پر نظر آتی ہے، جہاں اسمارٹ فونز نے معیارِ زندگی کو بہتر تو بنایا، مگر ان کے بے جا استعمال نے تنہائی، ذہنی دباؤ اور سماجی فاصلے کو بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرینِ نفسیات کے مطابق اسکرین کے حد سے زیادہ استعمال کو بے چینی، ڈپریشن، توجہ کی کمی اور نیند کی خرابی جیسے مسائل سے جوڑا جا رہا ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق بچوں میں موبائل فون کے بڑھتے استعمال سے جسمانی سرگرمیاں کم ہو رہی ہیں اور وہ ماضی کے مقابلے میں کم باہر کھیلتے یا ہم عمر بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کی ایک تحقیق کے مطابق تقریباً 23.8 فیصد بچے سونے سے قبل بستر میں اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، اور یہ شرح عمر کے ساتھ مزید بڑھتی جاتی ہے، جو بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔
بابا وانگا کی یہ پیشگوئی محض ایک روحانی دعویٰ نہیں بلکہ جدید معاشرتی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ غلام مرتضیٰ کے مطابق ٹیکنالوجی نے انسان کو سہولت تو دی، مگر اس کے ساتھ ایک نادیدہ قیمت بھی وصول کی جا رہی ہے۔
آج کا انسان اسکرین سے جتنا قریب ہو رہا ہے، حقیقی رشتوں سے اتنا ہی دور ہوتا جا رہا ہے۔ بچوں کی خاموشی، نوجوانوں کی بے چینی اور بڑوں کی تنہائی اسی تبدیلی کا عکس ہے۔ بابا وانگا کی پیشگوئی دراصل ایک انتباہ تھی کہ ٹیکنالوجی انسان کی خادم رہے تو فائدہ ہے، مگر اگر انسان اس کا غلام بن جائے تو نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔





















