لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)خلائی سیاحت اور مستقبل کی رہائش کے شعبے میں سرگرم کمپنی جی آر یو اسپیس نے ایک غیر معمولی اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب عام افراد بھی چاند پر اپنا کمرہ بُک کر سکتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس مقصد کے لیے ابتدائی طور پر 10 لاکھ امریکی ڈالر پیشگی ادائیگی درکار ہوگی۔
کمپنی کے ترجمان نے بتایا کہ یہ منصوبہ مستقبل کی خلائی رہائش کے تصور کے تحت متعارف کرایا گیا ہے، جس میں چاند پر جدید سہولیات سے آراستہ کمروں کی تعمیر شامل ہے۔ ابتدائی بکنگ کا مقصد ممکنہ صارفین کی دلچسپی اور سرمایہ کاری کا جائزہ لینا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ خلائی سیاحت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، تاہم چاند پر نجی رہائش اور ملکیت کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین اور تکنیکی چیلنجز اب بھی ایک بڑا سوال ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونی خلائی معاہدوں کے تحت کسی بھی آسمانی جسم پر نجی ملکیت کی اجازت نہیں، اس لیے ایسے اعلانات کو فی الحال مستقبل کے منصوبوں یا تصوراتی پیشکش کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر بھی اس اعلان نے خاصی توجہ حاصل کی ہے، جہاں کچھ صارفین اسے مستقبل کی جھلک قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے محض ایک تشہیری مہم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
جی آر یو اسپیس نے واضح کیا ہے کہ منصوبے کی مزید تفصیلات اور عملی پیش رفت آنے والے مہینوں میں سامنے لائی جائیں گی، جس سے خلائی سیاحت کے شوقین افراد کے لیے دلچسپی مزید بڑھنے کی توقع ہے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ جی آر یو اسپیس کی جانب سے چاند پر کمرا بُک کرنے کی پیشکش نہ صرف خلائی سیاحت کے شعبے میں دلچسپ پیش رفت ہے بلکہ اس نے عام افراد کے لیے مستقبل کی رہائش کے خواب کو بھی ممکنہ شکل دی ہے۔ 10 لاکھ امریکی ڈالر کی ابتدائی ادائیگی کے ساتھ یہ منصوبہ، بظاہر ایک شاندار اور جرات مندانہ اقدام لگتا ہے، جو تکنیکی ترقی اور خلائی تحقیق میں انسانی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔
مگر ماہرین اور قانونی حلقوں کی رائے اس معاملے کو قدرے پیچیدہ بناتی ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق کسی بھی آسمانی جسم پر نجی ملکیت کی اجازت نہیں، اس لیے چاند پر کمرہ حاصل کرنا فی الحال عملی طور پر ایک تصوراتی پیشکش کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کے علاوہ، چاند پر رہائش کے لیے درکار تکنیکی اور حفاظتی اقدامات بھی انتہائی پیچیدہ ہیں، جن میں زمین سے رسد، ماحولیاتی تحفظ، توانائی اور انسانی جسم کی بقا جیسے مسائل شامل ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس اعلان نے حیرت اور دلچسپی دونوں پیدا کی ہیں۔ بعض صارفین اسے مستقبل کی جھلک اور خلائی رہائش کے امکانات کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے محض تشہیری مہم یا مارکیٹنگ حربے کے طور پر لے رہے ہیں۔ یہ ردعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خلائی سیاحت کے شعبے میں عوامی دلچسپی بڑھ رہی ہے، لیکن حقیقت اور تصور میں ایک واضح فرق موجود ہے۔
جی آر یو اسپیس کے اس اقدام کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے خلا میں انسانی رہائش کے امکانات کے بارے میں عام افراد میں شعور پیدا کیا ہے۔ ابتدائی بکنگ کے ذریعے کمپنی صارفین کی دلچسپی اور ممکنہ سرمایہ کاری کا جائزہ لے گی، جو مستقبل میں خلائی رہائش کے منصوبوں کو حقیقت کا رنگ دے سکتی ہے۔
آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ چاند پر رہائش کا تصور ابھی زیادہ تر نظریاتی اور ترقی پذیر ہے۔ اگرچہ یہ ایک پرکشش اور دلچسپ پیشکش ہے، مگر عملی سطح پر اسے حاصل کرنے کے لیے قانونی، تکنیکی اور مالی رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہوگا۔ موجودہ مرحلے میں، یہ منصوبہ انسانیت کے لیے خلائی تحقیق اور سیاحت میں نئے امکانات کی جانب ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے، جو مستقبل میں خواب کو حقیقت میں بدلنے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔





















