لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)امریکا نے ایران کی جانب ایک بڑی فوجی قوت بھیج دی ہے جس میں جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ڈیوس سے واپسی کے دوران طیارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی ایک بڑی فورس ایران کی طرف روانہ ہو چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے قریب احتیاطی طور پر فوجی تعینات کی جا رہی ہے، تاہم دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس دنیا کے سب سے جدید اور بہترین ہتھیار موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ ہو، لیکن ایران پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ اگر پھانسیاں دی گئیں تو امریکا کارروائی کرے گا، اور ایران نے ہماری دھمکی پر پھانسیاں روک دی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے ایران میں 827 پھانسیاں روکی ہیں، اور اگر یہ سلسلہ جاری رہتا تو امریکا حملہ کر دیتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر جلد ہی 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کی جانب فوجی نقل و حرکت کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا لازمی طور پر کارروائی کرے گا، تاہم صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کی طرف بڑی بحری اور فضائی قوت بھیج رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی فوجی اثاثے مشرق وسطیٰ منتقل کیے جائیں گے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ اور دیگر فوجی دستے مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔
اس فورس میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن، جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی نہیں کرے گا، لیکن اگر ایران اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرتا ہے تو امریکا جواب دے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرے تو امریکا حملہ کر دے گا، اور ایران پر ممکنہ حملہ جوہری پروگرام سے بھی زیادہ بڑا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو امریکا بھی تیار ہے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات ہمیشہ عالمی سیاست میں حساس مسئلہ رہے ہیں۔ حالیہ خبروں کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی ہدایات پر ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ اور دیگر فوجی دستے مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ اس فورس میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن، جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے شامل ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر اپنے فوجی اثاثے اس خطے میں مستعد کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کے بیانات یہ واضح کرتے ہیں کہ امریکا فی الحال ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی نہیں کرنا چاہتا، لیکن اگر ایران اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرتا ہے یا جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو امریکا کسی بھی وقت سخت جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ یہ بیانات عالمی سطح پر ایران کے لیے ایک واضح انتباہ ہیں، جبکہ امریکا یہ پیغام بھی دے رہا ہے کہ وہ بات چیت کے لیے کھلا ہے، جو کشیدگی کو کم کرنے کی ایک حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے۔
تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فوجی نقل و حرکت صرف ایک حفاظتی اقدام ہے تاکہ ایران کے کسی ممکنہ خطرے کا بروقت جواب دیا جا سکے۔ دوسری جانب، یہ قدم مشرق وسطیٰ میں امریکی موجودگی کو مضبوط کرتا ہے اور خطے میں دیگر ممالک کو بھی خبردار کرتا ہے کہ امریکا اپنے اتحادیوں اور مفادات کی حفاظت کے لیے سخت موقف اختیار کر سکتا ہے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ موجودہ فوجی حرکت کا مقصد فوری کارروائی نہیں، لیکن اس طرح کے اقدامات ایران پر سیاسی اور اقتصادی دباؤ بڑھانے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ خاص طور پر یہ دباؤ ایران کے جوہری پروگرام اور عالمی معاہدوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے، اور ساتھ ہی خطے میں تیل اور تجارتی راستوں کی سکیورٹی کو بھی یقینی بناتا ہے۔
امریکا کی یہ فوجی تیاریاں اور بیانات واضح پیغام دیتے ہیں کہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے طاقت اور مذاکرات دونوں کی ضرورت ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر نظر رکھنے، فوجی اثاثے تعینات کرنے اور بات چیت کی پیشکش کرنے کا امتزاج عالمی سیاست میں حکمت عملی اور محتاط توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا فی الحال محاذ آرائی سے بچنا چاہتا ہے، لیکن کسی بھی خطرے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔





















