بھارت میں کھیلنے سے انکار مہنگا پڑ گیا، بنگلہ دیش ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے باہر ،نئی ٹیم اِن

بنگلادیش آئی سی سی بورڈ کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہا، جس کی بنیاد پر اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا،خط

لاہور(خصوصی رپورٹ: رمیض حسین)انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیش کرکٹ ٹیم کی جانب سے بھارت میں کھیلنے سے انکار کے بعد آئی سی سی نے صورتحال کا جائزہ لیا اور اسکاٹ لینڈ کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آئی سی سی نے چند روز قبل بنگلادیش کرکٹ بورڈ کو معاملات حل کرنے کے لیے 24 گھنٹوں کی مہلت دی تھی، تاہم مقررہ وقت میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی، جس کے بعد آئی سی سی نے حتمی قدم اٹھایا۔

ذرائع کے مطابق آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو نے ہفتے کی صبح آئی سی سی بورڈ کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ بنگلادیش کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات آئی سی سی کی پالیسی کے مطابق نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلادیش آئی سی سی بورڈ کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہا، جس کی بنیاد پر اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ تحریری مراسلہ بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام کو بھی ارسال کیا گیا، جو آئی سی سی بورڈ کے رکن بھی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی سی سی کی جانب سے کرکٹ اسکاٹ لینڈ کو باضابطہ دعوت نامہ بھی ارسال کر دیا گیا ہے، تاہم کرکٹ اسکاٹ لینڈ کی چیف ایگزیکٹو کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکاٹ لینڈ کو یہ موقع ماضی کے آئی سی سی ایونٹس میں اس کی کارکردگی اور موجودہ عالمی درجہ بندی، جس میں وہ 14ویں نمبر پر ہے، کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ 2024 کے ورلڈ کپ میں اسکاٹ لینڈ گروپ بی میں تیسری پوزیشن پر رہا تھا، جبکہ 2021 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اسکاٹ لینڈ نے بنگلادیش کو شکست دے کر کرکٹ دنیا کو حیران کر دیا تھا۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کا فیصلہ بظاہر ایک انتظامی اقدام نظر آتا ہے، تاہم گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ فیصلہ عالمی کرکٹ میں پالیسی، نظم و ضبط اور رکن ممالک کی ذمہ داریوں سے جڑا ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

آئی سی سی ہمیشہ سے یہ مؤقف رکھتی آئی ہے کہ عالمی ایونٹس میں شرکت کرنے والی ٹیموں کو میزبان ملک میں کھیلنے کے حوالے سے طے شدہ پروٹوکول اور پالیسیوں پر عمل کرنا ہوگا۔ بنگلادیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے بھارت میں کھیلنے پر سیکیورٹی، ویزا اور انتظامی تحفظات کا اظہار اپنی جگہ قابل فہم ہو سکتا ہے، تاہم آئی سی سی کے نزدیک ان تحفظات کو اس انداز میں پیش کیا گیا جو اس کی پالیسی فریم ورک سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ یہی نکتہ اس تنازع کی بنیادی وجہ بن کر سامنے آیا۔

یہ بھی قابل غور ہے کہ آئی سی سی نے بنگلادیش کو فوری طور پر باہر کرنے کے بجائے 24 گھنٹوں کی مہلت دی، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی کرکٹ باڈی معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتی تھی۔ تاہم مقررہ وقت میں کسی واضح پیش رفت کا نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریقین کے مؤقف میں خاصا فاصلہ موجود تھا۔ نتیجتاً آئی سی سی کو اپنی پالیسی کی عملداری برقرار رکھنے کے لیے سخت مگر حتمی فیصلہ کرنا پڑا۔

دوسری جانب اسکاٹ لینڈ کو ملنے والا یہ موقع عالمی کرکٹ میں ابھرتی ہوئی ٹیموں کے لیے ایک مثبت پیغام بھی ہے۔ ماضی کے آئی سی سی ایونٹس میں اسکاٹ لینڈ کی کارکردگی، خصوصاً 2021 میں بنگلادیش کے خلاف تاریخی فتح اور 2024 کے ورلڈ کپ میں گروپ بی میں تیسری پوزیشن، اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسوسی ایٹ ٹیمیں اب محض شرکت تک محدود نہیں رہیں بلکہ مقابلے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ عالمی درجہ بندی میں 14ویں نمبر پر موجود اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنا آئی سی سی کی اس پالیسی کو بھی تقویت دیتا ہے جس کا مقصد کرکٹ کو روایتی طاقتوں سے آگے لے جانا ہے۔

بنگلادیش کے لیے یہ فیصلہ نہ صرف ایک بڑا دھچکا ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ عالمی ایونٹس میں شرکت محض کرکٹ صلاحیت پر نہیں بلکہ انتظامی ہم آہنگی اور آئی سی سی کے فیصلوں پر بروقت عمل درآمد سے بھی مشروط ہے۔ اگر بنگلادیش کرکٹ بورڈ اس معاملے سے سبق حاصل نہیں کرتا تو مستقبل میں بھی ایسے انتظامی تنازعات اس کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ فیصلہ آئی سی سی کی پالیسی کی سختی، عالمی کرکٹ میں نظم و ضبط کی اہمیت اور ابھرتی ہوئی ٹیموں کے لیے مواقع کے نئے دروازے کھولنے کی علامت ہے۔ اسکاٹ لینڈ کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے جبکہ بنگلادیش کے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ، جو آنے والے برسوں میں اس کی عالمی کرکٹ میں حیثیت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین