ملک بھر میں سردی کی نئی لہر کے ساتھ مغربی ہواؤں کا طاقتور سسٹم داخل ہو چکا ہے، جس کے باعث بالائی علاقوں میں شدید سردی، برفباری اور میدانی علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر الرٹس جاری کر دیے ہیں۔
ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی سسٹم کے زیرِ اثر بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بارش اور برفباری کا دوسرا اسپیل داخل ہو چکا ہے جو آئندہ دو روز تک جاری رہ سکتا ہے۔
بلوچستان میں کوئٹہ، قلات، مستونگ، کان مہترزئی، مسلم باغ، چمن اور دیگر اضلاع میں رات گئے برفباری شروع ہوئی جس کے باعث سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا۔ محکمہ موسمیات نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بارشوں اور برف پگھلنے سے پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی پیدا ہو سکتی ہے۔
پی ڈی ایم اے بلوچستان نے متعلقہ اضلاع کو الرٹ جاری کرتے ہوئے قومی شاہراہوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔ ترجمان کے مطابق کان مہترزئی، کوڑک، لکپاس اور زیارت روڈ پر برف ہٹانے والی مشینری اور عملہ تعینات ہے جبکہ این ایچ اے اور پی ڈی ایم اے کا عملہ سڑکوں کی بحالی میں مصروف ہے۔
خیبرپختونخوا میں پشاور سمیت میدانی علاقوں میں بارش جبکہ بالائی اضلاع میں برفباری کا امکان ہے۔ چترال لوئر میں گلیشیئر گرنے سے کئی سڑکیں چوتھے روز بھی بند ہیں، جس کے باعث گرم چشمہ، لٹکوہ، ارکاری، کریم آباد اور پرسان جانے والی رابطہ سڑکیں بند ہو چکی ہیں۔
سڑکوں کی بندش کے باعث شدید سردی میں مریض، خواتین اور بزرگ محصور ہو گئے ہیں اور بعض علاقوں میں لوگ لاشیں کئی کلو میٹر پیدل اٹھانے پر مجبور ہیں۔ لوئر اور اپر چترال، بونی، مستوج اور لاسپور تک سڑکوں کی بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی ہدایات پر کالام بازار میں لیٹ نائٹ سنو کلیئرنس آپریشن دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے تاکہ سیاحوں اور مقامی افراد کی آمد و رفت بحال رکھی جا سکے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کالام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 9، پاراچنار میں منفی 8، چترال میں منفی 3 اور دیر بالا میں منفی 4 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔
ریسکیو 1122 کے مطابق گزشتہ تین دن میں صوبے بھر میں برف میں پھنسے 3010 افراد کو بحفاظت نکالا گیا جبکہ 942 گاڑیوں کو برف سے نکال کر ٹریفک بحال کی گئی۔
ضلع اورکزئی اور کرم میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں جہاں بھاری مشینری کے ذریعے بند راستے کھول دیے گئے ہیں۔
پنجاب میں مری، گلیات اور گردونواح میں 27 جنوری تک شدید بارش اور برفباری کی پیش گوئی کی گئی ہے جبکہ بیشتر اضلاع میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ بعض علاقوں میں صبح کے اوقات میں ہلکی سے درمیانی دھند کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین موسمیات کے مطابق مغربی سسٹم کی شدت غیر معمولی ہے اور اس کے اثرات بالائی علاقوں میں خطرناک صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ برفانی علاقوں میں سفر، پہاڑی شاہراہوں اور گلیشیئر زونز میں نقل و حرکت انتہائی احتیاط سے کی جائے۔
موجودہ موسمی صورتحال ایک بار پھر یہ ثابت کر رہی ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کی زد میں ہے۔ برفباری جہاں ایک طرف قدرتی حسن کا منظر پیش کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف کمزور انفراسٹرکچر، ناقص منصوبہ بندی اور ہنگامی ردعمل کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر رہی ہے۔
اگر بروقت اقدامات، مستقل برف ہٹانے کے نظام اور محفوظ راستوں کی منصوبہ بندی نہ کی گئی تو ہر سال یہی صورتحال دہرائی جاتی رہے گی، جس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔





















