بنگلادیش کی حمایت میں پاکستان بھی متحرک، بھارت کے خلاف میچ خطرے میں

بنگلادیش کا مؤقف اصولوں پر مبنی ہے، آئی سی سی کے دہرے معیار کو مسترد کرتے ہیں، چیئرمین پی سی بی

بھارت میں شیڈول ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 ایک بار پھر سیاسی اور انتظامی تنازعات کی زد میں آ گیا ہے۔ بنگلادیش کے بعد اب پاکستان کی شرکت بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو چکی ہے، جس کے باعث آئی سی سی کے لیے بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔

پاکستان ٹیم کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ آج متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی آج وزیر اعظم شہباز شریف سے اہم مشاورت کے بعد قومی مؤقف کو حتمی شکل دیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے دو آپشنز زیر غور ہیں، جن میں پورے ایونٹ کے بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ صرف بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کی تجویز بھی شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق مضبوط امکان ہے کہ پاکستان ٹیم بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کر سکتی ہے، جبکہ باقی میچز کے حوالے سے مختلف قانونی اور سفارتی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین پی سی بی نے بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے بھارت میں کھیلنے سے انکار کے مؤقف کی کھل کر حمایت کی تھی۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ بنگلادیش کا مؤقف اصولوں پر مبنی ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی کے دہرے معیار کو کسی صورت قبول نہیں کرتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایک ٹیم کو سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے تو یہی حق دیگر ٹیموں کو بھی دیا جانا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق پی سی بی کا مؤقف ہے کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنے کا اصول صرف کمزور ٹیموں پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔

ماہرین کی رائے

کرکٹ امور کے ماہرین کے مطابق اگر پاکستان صرف بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرتا ہے تو یہ ایک علامتی مگر طاقتور پیغام ہوگا، جس سے آئی سی سی پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ یکساں پالیسی اختیار کرے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل بائیکاٹ کے مقابلے میں جزوی بائیکاٹ سفارتی سطح پر زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے پاکستان اپنے اصولی مؤقف کے ساتھ ایونٹ کا حصہ بھی رہے گا۔

پاکستان کا یہ ممکنہ فیصلہ محض کرکٹ تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی اسپورٹس گورننس کے دوہرے معیار کے خلاف ایک واضح احتجاج ہے۔

اگر پاکستان صرف بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلتا ہے تو یہ پیغام ہوگا کہ کھیل کے نام پر سیکیورٹی، وقار اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ معاملہ مستقبل میں آئی سی سی کی پالیسی سازی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، کیونکہ اب چھوٹے اور بڑے ممالک کے لیے یکساں اصولوں کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین