ڈاکٹر بننے کے جنون میں اپنا پاؤں خود کٹوانے والا نوجوان ایڈمیشن اور محبت دونوں سے محروم

ڈس ایبلیٹی کوٹے کے لیے خود کو معذور ثابت کرنے کی کوشش، پولیس تفتیش میں چونکا دینے والے انکشافات

جونپور /(خصوصی رپورٹ غلام مرتضی):بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع جونپور میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک نوجوان نے ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے مبینہ طور پر اپنا ہی پاؤں کٹوا دیا، تاہم اس خطرناک قدم کے باوجود نہ تو اسے میڈیکل کالج میں ایڈمیشن مل سکا اور نہ ہی اس کی ذاتی زندگی بچ سکی۔

پولیس کے مطابق 20 سالہ سورج بھاسکر دو مرتبہ NEET امتحان میں ناکامی کے بعد شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا، جس کے باعث اس نے انتہائی اور ناقابلِ تصور قدم اٹھایا۔

ابتدائی طور پر سورج کے اہل خانہ نے پولیس کو اطلاع دی کہ نامعلوم افراد نے رات کے وقت اس پر حملہ کیا، اسے بے ہوش کیا اور اس کا پاؤں کاٹ کر فرار ہوگئے۔ پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی۔

تاہم تفتیش کے دوران سورج کے بیانات میں مسلسل تضادات سامنے آئے۔ پولیس نے اس کا موبائل فون ضبط کر کے ڈیٹا چیک کیا، ایک خاتون سے بھی پوچھ گچھ کی جس کا نمبر ریکارڈ میں آیا، جبکہ بعد ازاں سورج کی ذاتی ڈائری بھی برآمد ہوئی۔

ڈائری میں درج ایک جملہ پولیس کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا جس میں لکھا تھا:
’’میں 2026 میں MBBS ڈاکٹر بنوں گا‘‘

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ سورج نے ڈس ایبلیٹی کوٹے کے تحت میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے خود کو معذور ظاہر کرنے کا منصوبہ بنایا اور واقعے کو مجرمانہ حملہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی۔

پولیس حکام کے مطابق مسلسل پوچھ گچھ اور شواہد کی جانچ کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ سورج کی کہانی حقائق پر مبنی نہیں تھی۔

ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (سٹی) آیوش شری واستو کو کیس کی مکمل رپورٹ پیش کر دی گئی ہے جبکہ پولیس اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ نوجوان کے خلاف کن قانونی دفعات کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

لائن بازار تھانے کے ایس ایچ او ستیش سنگھ کے مطابق سورج اس وقت ایک نجی اسپتال میں زیر علاج ہے اور مزید قانونی کارروائی زیر غور ہے۔

ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعد سورج کی گرل فرینڈ نے بھی اس سے تعلق ختم کر لیا، یوں وہ نہ صرف اپنے خواب بلکہ محبت اور جسمانی صحت سے بھی محروم ہو گیا۔

ماہرین کی رائے

نفسیاتی ماہرین کے مطابق امتحانات میں ناکامی کے بعد نوجوانوں میں شدید ذہنی دباؤ، احساسِ ناکامی اور سماجی دباؤ خطرناک فیصلوں کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں بروقت ذہنی معاونت اور خاندانی سپورٹ نہ ملے تو نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق ڈس ایبلیٹی کوٹہ حقیقی معذور افراد کے لیے بنایا گیا ہے، اس کا غلط استعمال نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ قانونی طور پر بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ واقعہ ہمارے معاشرے میں پھیلے ہوئے اس خطرناک دباؤ کی عکاسی کرتا ہے جہاں کامیابی کو زندگی اور ناکامی کو موت سمجھ لیا گیا ہے۔

ڈاکٹر بننے کا خواب قابلِ احترام ہے، مگر جب یہی خواب عقل، اخلاق اور انسانیت سے بڑا ہو جائے تو وہ تباہی میں بدل جاتا ہے۔ اس نوجوان کا انجام ایک واضح پیغام ہے کہ مقابلے کے اس جنون میں ذہنی صحت کو نظرانداز کرنا کس قدر مہنگا پڑ سکتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت کے شعبے کو بھی سنجیدگی سے لیا جائے، تاکہ مزید نوجوان ایسے خودساختہ سانحات کا شکار نہ ہوں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین