نئی دہلی / کولکتہ:بھارت میں نپاہ وائرس کے محدود کیسز سامنے آنے کے بعد ایشیا کے متعدد ممالک نے اپنے ہوائی اڈوں پر ہائی الرٹ نافذ کرتے ہوئے مسافروں کی اسکریننگ کے اقدامات سخت کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تھائی لینڈ، نیپال اور تائیوان نے بھارتی ریاست مغربی بنگال سے آنے والے مسافروں کی خصوصی نگرانی شروع کر دی ہے، جبکہ کووڈ-19 کے طرز پر درجہ حرارت اور علامات کی جانچ دوبارہ نافذ کر دی گئی ہے۔
نپاہ وائرس کیا ہے اور کتنا خطرناک؟
صحت حکام کے مطابق نپاہ ایک زونوٹک وائرس ہے جو بنیادی طور پر چمگادڑوں اور سوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، جبکہ قریبی انسانی رابطے سے بھی پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق نپاہ وائرس کی ابتدائی علامات میں:
-
بخار
-
سر درد
-
پٹھوں میں درد
-
قے
-
گلے میں خراش
شامل ہیں، تاہم شدید صورت میں:
-
سانس کی شدید تکلیف
-
دماغی سوزش (Encephalitis)
جیسے مہلک اثرات سامنے آ سکتے ہیں، جو جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
شرحِ اموات تشویشناک
طبی ماہرین کے مطابق نپاہ وائرس کی شرحِ اموات 40 سے 75 فیصد تک ہو سکتی ہے، جو اسے دنیا کے خطرناک ترین وائرسز میں شامل کرتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تاحال نپاہ وائرس کے خلاف کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں، تاہم علاج کے لیے مونوکلونل اینٹی باڈیز کے استعمال پر کام جاری ہے۔
بھارتی حکام کا مؤقف
بھارتی صحت حکام کے مطابق صورتحال قابو میں ہے اور کیسز کی تعداد محدود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کیرالہ اور مغربی بنگال نپاہ وائرس کے اینڈیمک علاقے سمجھے جاتے ہیں، جہاں ماضی میں بھی ایسے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
مغربی بنگال میں حالیہ پھیلاؤ کا آغاز چند ہیلتھ ورکرز میں انفیکشن سے ہوا، جس کے بعد درجنوں ممکنہ رابطوں کو نگرانی میں رکھا گیا۔
حکام کے مطابق باراتاس (کولکتہ کے قریب) اب تک صرف دو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ مشتبہ افراد کے ٹیسٹ منفی آنے پر انہیں قرنطینہ سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
قرنطینہ، اسکریننگ اور عالمی سطح پر اقدامات
طبی ماہرین کے مطابق نپاہ وائرس کا قرنطینہ دورانیہ 21 دن تک ہو سکتا ہے اور زیادہ تر قریبی رابطے متاثر ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر:
-
تھائی لینڈ نے بینکاک اور پھوکٹ ایئرپورٹس پر اسکریننگ شروع کر دی
-
نیپال نے سرحدی اور فضائی نگرانی بڑھا دی
-
تائیوان نپاہ کو انتہائی خطرناک قابلِ اطلاع بیماری قرار دینے پر غور کر رہا ہے
عالمی ادارۂ صحت عالمی ادارۂ صحت نپاہ وائرس کو وبائی خطرے کے باعث ترجیحی پیتھوجن کی فہرست میں شامل کر چکا ہے۔
ماہرینِ صحت کی رائے
ماہرین کے مطابق اگرچہ کیسز محدود ہیں، مگر نپاہ وائرس کی بلند شرحِ اموات اور تیز پھیلاؤ کی صلاحیت کے باعث احتیاطی اقدامات میں ذرا سی نرمی بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈوں پر بروقت اسکریننگ، قرنطینہ اور رابطہ ٹریسنگ ہی وائرس کو پھیلنے سے روکنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
غلام مرتضیٰ کے مطابق نپاہ وائرس نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وبائی خطرات اب کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر بھارت میں کیسز واقعی محدود بھی ہوں، تب بھی علاقائی ممالک کا فوری ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ ایشیا کورونا کے تجربے کے بعد کسی نئی وبا کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں۔
غلام مرتضیٰ کے مطابق ہوائی اڈوں پر سخت اسکریننگ وقتی زحمت ضرور ہے، مگر یہی اقدام بڑے انسانی سانحات سے بچا سکتا ہے۔





















