تہران:ایران نے خلیج فارس کی اسٹریٹجک سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے قریب فضائی حدود میں لائیو فائر فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے باقاعدہ فضائی نوٹس جاری کر دیا ہے، جس کے تحت مخصوص فضائی علاقے کو خطرناک قرار دے دیا گیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ مشقیں 27 سے 29 جنوری کے دوران پانچ ناٹیکل میل کے دائرے میں کی جائیں گی، جن کا دائرہ زمین کی سطح سے لے کر 25 ہزار فٹ کی بلندی تک ہوگا۔ اس دوران شہری اور فوجی پروازوں پر پابندیاں عائد رہیں گی اور فضائی ٹریفک محدود رہے گی۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوج کے فوجی اثاثے مشرق وسطیٰ میں پہنچ چکے ہیں، جس کے باعث خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ایرانی فضائی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مشقوں کے دوران متعلقہ فضائی حدود کو خطرناک سمجھا جائے اور تمام پروازیں جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدامات دفاعی تیاریوں کا حصہ ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت خصوصاً توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہے اور عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی تناؤ میں اضافہ کر سکتی ہے۔
یہ فضائی انتباہ خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے تناظر میں جاری کیا گیا ہے، جس کا مقصد فوری تعیناتی اور آپریشنل صلاحیتوں کا مظاہرہ بتایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن کے حکام نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے تمام آپشنز زیر غور ہیں، جن میں عسکری کارروائی کا امکان بھی شامل ہے۔
ایرانی حکام نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کے حملے کا جواب فوری اور بھرپور دیا جائے گا۔ اس صورتحال کے پیش نظر شہری اور فوجی پروازوں کو محتاط رہنے اور جاری کردہ فضائی ہدایات کی مکمل پابندی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ماہرین کی رائے
دفاعی اور خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی لائیو فائر فضائی مشقیں ایک واضح اسٹریٹجک پیغام ہیں، جس کا مقصد خطے میں اپنی دفاعی صلاحیت اور ردعمل کی تیاری ظاہر کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی اثاثوں کی مشرق وسطیٰ میں موجودگی بڑھ چکی ہے، جس سے طاقت کے توازن کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی لائن کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس علاقے میں فضائی یا بحری سرگرمیوں میں معمولی رکاوٹ بھی عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔
بین الاقوامی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے فضائی حدود کو خطرناک قرار دینا ایک احتیاطی اور دفاعی اقدام ہے، تاہم اس سے عالمی ایوی ایشن اور تجارتی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس قسم کی سرگرمیاں طویل ہوئیں تو خطہ ایک وسیع تر جغرافیائی سیاسی بحران کی طرف جا سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں ایران کی فضائی مشقیں محض ایک عسکری سرگرمی نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی اور سفارتی پیغام بھی ہیں۔ یہ پیغام بیک وقت واشنگٹن، خطے کے اتحادی ممالک اور عالمی منڈیوں کے لیے ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ یا ممکنہ کارروائی کے لیے تیار ہے۔
یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے حساس سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ یہاں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی کا اثر براہِ راست عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی سیاست پر پڑتا ہے۔ ایران اس جغرافیائی اہمیت کو بخوبی سمجھتا ہے اور اسی کو اپنی سفارتی حکمت عملی کا حصہ بنائے ہوئے ہے۔
امریکی فوجی اثاثوں کی مشرق وسطیٰ میں موجودگی اور ایران کی جانب سے لائیو فائر مشقیں اس بات کی علامت ہیں کہ خطہ طاقت کے مظاہرے کے ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگرچہ دونوں فریق فی الحال براہ راست تصادم سے گریز کر رہے ہیں، مگر غلط اندازہ یا ایک چھوٹی سی چنگاری صورتحال کو خطرناک رخ دے سکتی ہے۔
ایران کا یہ اعلان کہ کسی بھی حملے کا جواب فوری اور مکمل ہوگا، دراصل ڈیٹرنس کی پالیسی کا تسلسل ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکمت عملی کشیدگی کم کرے گی یا خطے کو ایک نئے بحران کے دہانے پر لے آئے گی۔ آنے والے دن آبنائے ہرمز ہی نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔





















