بسنت سے قبل خطرے کی گھنٹی بج گئی،تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش

اتھارٹی نے رپورٹ میں آگاہ کیا کہ غیر محفوظ چھتوں کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)لاہور ہائیکورٹ میں پتنگ بازی کی اجازت کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران والڈ سٹی اتھارٹی نے اپنی جامع اور تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی، جس میں بسنت کے ممکنہ خطرات اور تاریخی علاقوں میں موجود خستہ حال عمارتوں کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے۔

والڈ سٹی اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق بسنت سے قبل اندرونِ لاہور میں خطرناک اور بوسیدہ عمارتوں کا باقاعدہ سروے مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس سروے کے دوران مجموعی طور پر 346 عمارتوں کو انسانی جان کے لیے خطرناک قرار دیا گیا، جن میں 183 عمارتیں ناقابلِ مرمت جبکہ 163 عمارتیں قابلِ مرمت ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتہائی خستہ اور شدید خطرے کی حامل 92 عمارتوں کو خالی کروا لیا گیا ہے، تاہم 254 خطرناک عمارتیں اب بھی آباد ہیں، جنہیں خطرات کے باوجود مختلف وجوہات کی بنا پر خالی نہیں کروایا جا سکا۔ ان آباد عمارتوں میں سے 103 عمارتیں ناقابلِ مرمت جبکہ 151 قابلِ مرمت قرار دی گئی ہیں۔

والڈ سٹی اتھارٹی کے مطابق خالی کروائی گئی عمارتوں میں سے 80 عمارتیں مسمار کیے جانے کے قابل ہیں، جبکہ 12 عمارتوں کو مرمت کے ذریعے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان خطرناک عمارتوں کی چھتیں بسنت کی سرگرمیوں کے لیے ہرگز محفوظ نہیں اور ان پر موجودگی کسی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

اتھارٹی نے رپورٹ میں آگاہ کیا کہ غیر محفوظ چھتوں کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف علاقوں میں وارننگ نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں اور عوامی آگاہی کے لیے بینرز آویزاں کیے جا رہے ہیں، تاکہ بسنت کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

رپورٹ میں ضلعی انتظامیہ سے سفارش کی گئی ہے کہ خطرناک عمارتوں اور غیر محفوظ چھتوں کے حصوں کو فوری طور پر سیل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ بسنت کے موقع پر پولیس اور پیرا فورس کی تعیناتی کی بھی تجویز دی گئی ہے تاکہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

والڈ سٹی اتھارٹی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ تاریخی لاہور کے تحفظ اور شہریوں کی سلامتی کے لیے تمام ضروری اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں گے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں بسنت کے موقع پر ہونے والی پتنگ بازی ہر سال لوگوں کے لیے خوشی اور جوش و خروش کا باعث بنتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ سیکیورٹی اور حفاظتی خطرات کا بھی پیش خیمہ بن جاتی ہے۔ والڈ سٹی اتھارٹی کی تازہ رپورٹ نے ان خطرات کو منظر عام پر لاتے ہوئے یہ واضح کر دیا ہے کہ تاریخی اور پرانی عمارتیں بسنت کے دوران شہریوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، لاہور میں 346 عمارتیں خطرناک قرار دی گئی ہیں، جن میں 183 ناقابلِ مرمت اور 163 قابلِ مرمت ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف اعداد نہیں بلکہ شہری زندگی کی حفاظت کے لیے ایک انتباہ ہیں۔ خطرناک عمارتوں میں سے 92 عمارتیں خالی کروا لی گئی ہیں، لیکن 254 اب بھی آباد ہیں، جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ صرف قانونی احکامات کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

سب سے بڑا مسئلہ چھتوں کی غیر محفوظ حالت ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بہت سی چھتیں بسنت کے لیے بالکل موزوں نہیں ہیں اور ان پر موجودگی کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے پیش نظر والڈ سٹی اتھارٹی نے وارننگ نوٹسز اور آگاہی بینرز آویزاں کیے ہیں اور خطرناک عمارتوں کو خالی کرانے کے ساتھ سیل کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

یہ رپورٹ ایک طرف شہریوں کی حفاظتی ترجیحات کو اجاگر کرتی ہے، تو دوسری طرف یہ بھی بتاتی ہے کہ انتظامیہ کو بسنت کے دنوں میں پولیس اور پیرا فورس کی تعیناتی پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ تاریخی لاہور کی گلیاں اور پرانی عمارتیں صرف شہر کی شناخت نہیں بلکہ شہری زندگی کے لیے بھی حساس ہیں، لہذا حفاظتی اقدامات کو ہر سال منظم اور بروقت ہونا چاہیے۔

اس رپورٹ کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ آگاہی اور قانونی عمل کے درمیان خلا کو ختم کرنا ضروری ہے۔ عوام کو خطرات کے بارے میں معلومات فراہم کرنا اور ان کے تعاون سے حفاظتی اقدامات کو مؤثر بنانا، بسنت کی خوشیوں کے ساتھ جان و مال کی حفاظت بھی یقینی بناتا ہے۔
والڈ سٹی اتھارٹی کی رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ بسنت محض تفریح کا موقع نہیں، بلکہ انتظامیہ، شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔ تاریخی اور خستہ عمارتوں کی موجودگی میں، صرف قانونی اقدامات کافی نہیں بلکہ آگاہی، عملی اقدامات اور ہنگامی تیاری لازمی ہے۔ اگر یہ اقدامات بروقت کیے جائیں تو بسنت کی خوشیاں محفوظ رہیں گی اور لاہور میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا خطرہ کم کیا جا سکے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین