نظام المدارس پاکستان کے بورڈ آف گورنرز کا سالانہ اجلاس ڈپٹی چیئرمین خرم نواز گنڈاپور کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ناظم اعلیٰ نظام المدارس پاکستان ڈاکٹر میر آصف اکبر نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مدارس دینیہ میں زیر تعلیم طلبہ کو قومی، تعلیمی و ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لئے “Navttc“کے ذریعے 40سے زائد ٹیکنیکل کورسز کروائے گئے ہیں تاکہ یہاں سے فارغ التحصیل طلباء دین اور پاکستان کی خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ باعزت روزگار بھی حاصل کر سکیں،
انہوں نے بتایا کہ ڈی جی آر ای کے تعاون سے ملک بھر میں عصری علوم کے سینکڑوں مدرسین کی پیشہ وارانہ تربیت کا اہتمام کیا گیا۔
اس کے علاوہ مدارس کے الحاق کا نظام بھی مکمل ڈیجیٹل بنا دیا گیا ہے۔ امتحانی نظام کو شفاف بنانے کے لئے ویڈیو لنک کے ذریعے آن لائن مانیٹرنگ کا نظام متعارف کروایا گیا ہے جو مدارس دینیہ کی تاریخ میں پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا کامیاب تجربہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مدارس دینیہ کے طلباء کو قومی دھارے میں شامل رکھنے کے لئے تدریسی و تکنیکی تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی توجہ دی جارہی ہے اور زیر تعلیم طلباء کو شجر کاری مہمات، جشن آزادی تقریبات، سیرت النبیؐ کانفرنسز، تقریری مقابلہ جات اور سپورٹس سرگرمیوں میں شامل کیا گیا ہے اور ملک گیر امن کانفرنسز منعقد کر کے طلباء میں امن کی ضرورت و اہمیت کا شعور اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ امتحان میں پوزیشن ہولڈرز طلباء کی حوصلہ افزائی کے لئے انہیں کیش پرائز، میڈلز اور اسناد بھی دی گئیں۔ انہوں نے بورڈ کو بتایا کہ نظام المدارس کے ذمہ دارانہ تدریسی و انتظامی کردار کے اعتراف میں ڈی جی آر ای کے تحت 20ہزار رجسٹرڈ مدارس جن میں 7 انسٹی ٹیوٹس بھی شامل ہیں کا ایک مشترکہ فورم متحدہ مدارس کونسل پاکستان تشکیل دیا گیا ہے، قومی سطح پر جس کی متفقہ ترجمانی نظام المدارس پاکستان کو دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس نے کہا کہ اس وقت 25سو سے زائد مدارس دینیہ نے الحاق کیا ہے اور رواں سال ایک لاکھ 17ہزار 2سو 55 طلبا نے مختلف مدارج کے امتحانات میں حصہ لیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نظام المدارس پاکستان پہلا دینی وفاق ہے جو گزشتہ 5سالوں سے درس نظامی، تجوید و قرأت اور حفظِ قرآن کے اساتذہ کی مرکزی، زونل اور ڈویژنل سطح پر ٹریننگز کا اہتمام کررہا ہے۔
نظام المدارس نے قلیل مدت میں مکمل انتظامی امور سنٹرل مینجمنٹ سسٹم پر منتقل کر کے پیپر لیس دفتری نظام قائم کیا ہے۔ ڈپٹی چیئرمین خرم نواز گنڈاپور نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ مدارس دینیہ کے طلبا کو قومی، تعلیمی دھارے میں شامل کرنے کے حوالے سے نظام المدارس پاکستان کی خدمات قابل تحسین ہیں اور مختصر عرصہ میں مدارس دینیہ کے اندر انقلابی تدریسی اصلاحات متعارف کروائی گئیں جس پر جملہ منتظمین مبارکباد کے مستحق ہیں۔اجلاس میں صدر مفتی غلام اصغر صدیقی، علامہ بدالزمان قادری، ڈاکٹر ممتاز الحسن باروی، علامہ عین الحق بغدادی، ڈاکٹر خرم شہزاد، ڈاکٹر محمد فاروق رانا، ڈاکٹر علی وقار قادری، عظمت علی قادری، اشفاق علی چشتی، قاضی فیض الاسلام نے شرکت کی۔ مفتی مکرم خان قادری نے زوم لنک پر کراچی سے اور سیدہ اختر کلثوم نے فیصل آباد سے شرکت کی۔





















