اے آئی سے نوکریوں کو کوئی خطرہ نہیں، کام کا طریقہ بدل جائے گا:دی اکانومسٹ

دفتری شعبوں میں روزگار کے مواقع ختم ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں،آئندہ انسان اور مشین کے باہمی اشتراک سے کام ہوگا

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بارے میں یہ خدشہ کہ وہ وائٹ کالر ملازمتوں کو ختم کر دے گی، تازہ اعداد و شمار اور عالمی معاشی تجزیوں کی روشنی میں درست ثابت نہیں ہو رہا۔ معروف جریدے دی اکانومسٹ کے تازہ تجزیے کے مطابق اے آئی نہ تو دفتری پیشوں کا خاتمہ کر رہی ہے اور نہ ہی ان کی مجموعی قدر میں کمی لا رہی ہے، بلکہ یہ انسانی صلاحیتوں، فیصلہ سازی اور مشینی رفتار کے امتزاج کے ذریعے کام کی نوعیت کو نئی شکل دے رہی ہے۔

جریدے کے مطابق مستقبل کا دفتر روبوٹس کے غلبے کا منظر پیش نہیں کرے گا، بلکہ وہاں انسان اور مشین کے باہمی اشتراک سے کام ہوگا۔ اس اشتراک کے نتیجے میں نہ صرف دفتری ملازمتوں کا دائرہ کار وسیع ہوگا بلکہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور وائٹ کالر پیشوں کی مجموعی قدر میں بھی بہتری متوقع ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران عالمی سطح پر کئی اہم شخصیات نے اے آئی کے باعث لیبر مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر تباہی کے خدشات ظاہر کیے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ نے اے آئی کے اثرات کو لیبر مارکیٹ کے لیے ’’سونامی‘‘ سے تشبیہ دی، تاہم دی اکانومسٹ کے مطابق یہ انتباہ زمینی حقائق کے مقابلے میں مبالغہ آمیز دکھائی دیتا ہے۔

اسی طرح جے پی مورگن کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے دفتری عملے میں نمایاں کمی کی پیش گوئی کی گئی، جبکہ مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اینتھروپک کے سربراہ نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ انٹری لیول کی نصف وائٹ کالر نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں۔ تاہم تازہ اعداد و شمار ان دعوؤں کی مکمل تائید نہیں کرتے۔

جریدے کے مطابق امریکہ میں گزشتہ تین برسوں کے دوران وائٹ کالر ملازمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس عرصے میں تقریباً 30 لاکھ نئی وائٹ کالر نوکریاں پیدا ہوئیں، جبکہ بلیو کالر ملازمتیں مجموعی طور پر مستحکم رہیں۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اے آئی کے باوجود دفتری شعبوں میں روزگار کے مواقع ختم ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق سافٹ ویئر ڈویلپرز کی تعداد میں 7 فیصد اضافہ ہوا ہے، ریڈیالوجسٹ کی تعداد 10 فیصد بڑھی ہے، جبکہ پیرا لیگلز جیسے پیشوں میں 21 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ وہ شعبے ہیں جہاں اے آئی معاون کردار ادا کر رہی ہے، یعنی انسان کے فیصلے اور مہارت کو تیز اور مؤثر بنانے میں مدد دے رہی ہے، نہ کہ انہیں مکمل طور پر بدلنے میں۔

دی اکانومسٹ کا کہنا ہے کہ اصل تبدیلی ملازمتوں کے خاتمے کی نہیں بلکہ ان کی نوعیت کے بدلنے کی ہے۔ مستقبل میں وہ ملازمتیں زیادہ قیمتی ہوں گی جو انسانی فہم، تخلیقی صلاحیت اور اخلاقی فیصلہ سازی کو مشینی تجزیے اور رفتار کے ساتھ جوڑ سکیں گی۔ رپورٹ کے مطابق یہی رجحان مستقبل کی لیبر مارکیٹ کی اصل سمت کا تعین کرے گا۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے گرد پھیلا یہ خوف کہ وہ وائٹ کالر ملازمتوں کو ختم کر دے گی، درحقیقت حقائق سے زیادہ قیاس آرائی پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔ حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ اے آئی دفتری پیشوں کی جگہ لے لے گی، مگر تازہ اعداد و شمار اور معتبر عالمی تجزیے اس بیانیے کی مکمل تائید نہیں کرتے۔ دی اکانومسٹ کے مطابق اے آئی نہ تو ملازمتوں کا صفایا کر رہی ہے اور نہ ہی انسانی محنت کی قدر گھٹا رہی ہے، بلکہ یہ کام کرنے کے طریقوں کو بدل رہی ہے اور انسانی صلاحیتوں کو نئی جہت دے رہی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر بڑی تکنیکی پیش رفت کے ساتھ خوف جنم لیتا ہے، جیسا کہ ماضی میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے بارے میں ہوا تھا۔ اسی تناظر میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ نے اے آئی کے اثرات کو لیبر مارکیٹ کے لیے سونامی قرار دیا، جبکہ عالمی مالیاتی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان نے دفتری ملازمتوں میں نمایاں کمی کی پیش گوئیاں کیں۔ تاہم جب ان دعوؤں کو زمینی حقائق اور اعداد و شمار کے ساتھ پرکھا جاتا ہے تو تصویر خاصی مختلف نظر آتی ہے۔

امریکہ میں گزشتہ تین برسوں کے دوران وائٹ کالر ملازمتوں میں تقریباً 30 لاکھ کا اضافہ ہوا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اے آئی کے دور میں دفتری پیشے ختم نہیں ہو رہے۔ اس کے برعکس بلیو کالر ملازمتیں مجموعی طور پر مستحکم رہیں، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ جدید معیشت میں علمی اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی مانگ برقرار ہے۔ یہ رجحان اس خیال کی نفی کرتا ہے کہ اے آئی براہِ راست انسانی روزگار کا نعم البدل بن چکی ہے۔

مزید برآں، کچھ ایسے شعبے جنہیں پہلے اے آئی سے سب سے زیادہ خطرے میں سمجھا جا رہا تھا، وہی شعبے تیزی سے ترقی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سافٹ ویئر ڈویلپرز کی تعداد میں 7 فیصد، ریڈیالوجسٹ میں 10 فیصد اور پیرا لیگلز جیسے پیشوں میں 21 فیصد تک اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ اے آئی انسانی مہارت کو ختم نہیں بلکہ مضبوط کر رہی ہے۔ ان شعبوں میں اے آئی معاون کردار ادا کرتی ہے، جہاں مشین ڈیٹا کی رفتار بڑھاتی ہے اور انسان اس کی تشریح، فیصلہ سازی اور اخلاقی ذمہ داری نبھاتا ہے۔

اصل تبدیلی ملازمتوں کے خاتمے کی نہیں بلکہ ان کی نوعیت کے بدلنے کی ہے۔ وہ کام جو دہرائے جانے والے اور قواعد پر مبنی تھے، اب تیزی سے خودکار نظاموں کے حوالے ہو رہے ہیں، جبکہ انسان ایسے کاموں کی طرف منتقل ہو رہا ہے جہاں تخلیقی سوچ، تنقیدی تجزیہ اور انسانی فہم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں وائٹ کالر ملازمتیں کمزور ہونے کے بجائے زیادہ مہارت طلب اور زیادہ قیمتی بنتی جا رہی ہیں۔

مستقبل کا دفتر نہ تو مکمل طور پر مشینوں کے قبضے میں ہوگا اور نہ ہی انسان ٹیکنالوجی سے بے نیاز رہ سکے گا۔ اصل حقیقت انسان اور مشین کے باہمی اشتراک میں پوشیدہ ہے، جہاں اے آئی رفتار، درستگی اور تجزیے کی قوت فراہم کرتی ہے اور انسان سمت، فیصلہ اور ذمہ داری کا تعین کرتا ہے۔ یہی اشتراک آنے والے وقت میں پیداواری صلاحیت بڑھانے اور دفتری پیشوں کو نئی اہمیت دینے کا باعث بنے گا۔

یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بارے میں پھیلایا گیا خوف اپنی جگہ، مگر زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ وائٹ کالر ملازمتیں ختم نہیں ہو رہیں بلکہ ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہیں۔ اصل چیلنج نوکریوں کے خاتمے کا نہیں بلکہ مہارتوں کی تبدیلی اور خود کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کا ہے، کیونکہ مستقبل انہی افراد اور اداروں کا ہوگا جو انسان اور مشین کے اس نئے رشتے کو سمجھ کر آگے بڑھیں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین