لاہور:پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل سیریز کا پہلا مقابلہ آج کھیلا جائے گا، جس کے لیے دونوں ٹیمیں قذافی اسٹیڈیم لاہور میں آمنے سامنے ہوں گی۔ میچ شام 4 بجے شروع ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں ٹیموں نے سیریز کے لیے بھرپور تیاریاں مکمل کر لی ہیں، جبکہ اس سیریز کو 7 فروری سے شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تیاری کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
گزشتہ روز پاکستان اور آسٹریلیا کے کپتانوں نے ٹی ٹوئنٹی سیریز کی ٹرافی کی رونمائی بھی کی، جس کے بعد شائقین کرکٹ میں جوش و خروش مزید بڑھ گیا ہے۔
دوسری جانب سیریز کے پیش نظر لاہور میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ لاہور پولیس کے مطابق ٹی ٹوئنٹی میچز کے دوران فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ سیکیورٹی ڈیوٹی پر 9 ایس پیز، 25 ڈی ایس پیز اور 73 ایس ایچ اوز تعینات ہوں گے۔
اس کے علاوہ 351 اپر سب آرڈینیٹس، 188 لیڈی کانسٹیبلز سمیت 6 ہزار سے زائد افسران اور اہلکار میچز کے دوران سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے۔ پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوران ایک ہزار سے زائد ٹریفک وارڈنز بھی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔
سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کے موقع پر شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی۔ ان کے مطابق لاہور پولیس ملکی و غیر ملکی کرکٹرز کے ساتھ ساتھ شائقین کو بھی مکمل تحفظ فراہم کرے گی۔
سی سی پی او لاہور نے پولیس افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں رہیں۔ انہوں نے اسٹیڈیم، کھلاڑیوں کی رہائش گاہوں اور آمد و رفت کے راستوں پر سیکیورٹی ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔
بلال صدیق کمیانہ کے مطابق اسٹیڈیم میں داخلے سے قبل ہر فرد کی تلاشی لی جائے گی، جبکہ خواتین شائقین کی چیکنگ لیڈیز پولیس کے ذریعے کی جائے گی۔ سیکیورٹی صورتحال کی نگرانی کے لیے سیف سٹی اتھارٹی اور دیگر کنٹرول رومز کے ذریعے مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ میچز کے دوران ڈولفن فورس، پیرو اور ایلیٹ فورس کی ٹیمیں مؤثر پٹرولنگ کریں، جبکہ سینئر پولیس افسران فیلڈ میں موجود رہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں۔
ماہرینِ کرکٹ کی رائے
کرکٹ ماہرین کے مطابق پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز دونوں ٹیموں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ سیریز 7 فروری سے شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل آخری بڑی تیاری سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو اپنی بیٹنگ میں تسلسل اور مڈل آرڈر کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ بولنگ کے شعبے میں نوجوان فاسٹ بولرز کے لیے یہ سیریز خود کو منوانے کا سنہری موقع ہے۔
دوسری جانب آسٹریلوی ٹیم اپنی جارحانہ بیٹنگ اور فیلڈنگ کے لیے جانی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق لاہور کی کنڈیشنز میں اسپن بولرز کا کردار بھی فیصلہ کن ہو سکتا ہے، جس سے میچز مزید دلچسپ ہونے کا امکان ہے۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز محض دو ٹیموں کا مقابلہ نہیں بلکہ ورلڈکپ سے قبل حکمت عملی، کمبی نیشن اور اعصاب کا امتحان ہے۔ پاکستان کے لیے یہ سیریز اس لیے بھی اہم ہے کہ ہوم کنڈیشنز میں شائقین کی توقعات ہمیشہ زیادہ ہوتی ہیں۔
قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والا پہلا میچ دونوں ٹیموں کے لیے سمت کا تعین کرے گا۔ اگر پاکستان ابتدا میں مضبوط کارکردگی دکھاتا ہے تو ٹیم کا اعتماد ورلڈکپ تک برقرار رہ سکتا ہے، لیکن کسی بھی کمزوری کو آسٹریلیا جیسی تجربہ کار ٹیم فوراً بے نقاب کر سکتی ہے۔
اس سیریز میں نوجوان کھلاڑیوں پر خاص نظر رہے گی۔ پاکستان کرکٹ کی تاریخ گواہ ہے کہ بڑے ٹورنامنٹس سے قبل ایسی سیریز ہی نئے اسٹارز کو جنم دیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی ٹیم اس موقع کو درست انداز میں استعمال کر پائے گی یا پرانی غلطیاں دہرائی جائیں گی۔
ایک بات طے ہے کہ یہ سیریز صرف جیت ہار تک محدود نہیں بلکہ ورلڈکپ کی تصویر واضح کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی، اور پہلا میچ اسی تصویر کا ابتدائی خاکہ پیش کرے گا۔





















