عالمی اداروں میں بھارتی نژاد افراد پر سیکیورٹی خدشات، رپورٹ نے سوالات اٹھا دیے

خفیہ معلومات تک رسائی کے واقعات، مغرب اور خلیجی ممالک الرٹ

واشنگٹن/لندن:بین الاقوامی نشریاتی اداروں کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عالمی اور مغربی اداروں میں حساس عہدوں پر تعینات بھارتی نژاد افراد کو اب ایک ممکنہ سیکیورٹی چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت بیرونِ ملک موجود اپنے شہریوں کے ذریعے حساس نوعیت کی معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس پر عالمی سطح پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق مختلف ممالک میں بھارتی نژاد افراد کی اہم سرکاری، دفاعی اور سائبر سیکیورٹی عہدوں پر موجودگی ایسے خدشات کو جنم دے رہی ہے کہ حساس معلومات غیر مجاز طور پر شیئر ہو سکتی ہیں یا ان تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی سائبر دفاعی ادارے Cybersecurity and Infrastructure Security Agency کے عبوری سربراہ مدھو گوتمکلا کی جانب سے حساس نوعیت کی سرکاری دستاویزات ایک اے آئی ایپلیکیشن پر اپلوڈ کیے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہ دستاویزات “For Official Use Only” کے زمرے میں شامل تھیں، جنہیں عام یا غیر محفوظ پلیٹ فارمز پر شیئر نہیں کیا جا سکتا۔

اس واقعے کے بعد United States Department of Homeland Security میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور معاملے کی باضابطہ تحقیقات جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مدھو گوتمکلا کا تعلق بھارت کی ریاست آندھرا پردیش سے ہے اور وہ ٹرمپ انتظامیہ کے دوران CISA کے عبوری سربراہ کے طور پر ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں جب بھارتی نژاد افراد سے منسلک حساس ڈیٹا لیک یا جاسوسی کے الزامات سامنے آئے ہوں۔ اکتوبر 2025 میں بھارتی نژاد امریکی اسٹریٹجک ماہر ایشلی جے ٹیلس کو گرفتار کیا گیا تھا، جن کے گھر سے ایک ہزار سے زائد خفیہ اور ٹاپ سیکریٹ امریکی دفاعی دستاویزات برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

اسی طرح 2023 میں قطر میں جاسوسی کے الزامات کے تحت بھارتی بحریہ کے آٹھ سابق افسران کو حراست میں لیا گیا تھا، جس پر امریکی سیکیورٹی اداروں نے ان واقعات کو قومی سلامتی کے لیے انتہائی سنگین خطرہ قرار دیا تھا۔

دفاعی اور سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان واقعات نے مغربی اور خلیجی ممالک میں بھارتی شہریوں کی حساس معلومات تک رسائی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے سے ایک ایسا پیٹرن سامنے آ رہا ہے جس میں دفاعی منصوبوں، خفیہ دستاویزات اور سائبر نظاموں تک رسائی میں بھارتی نژاد افراد کا کردار زیرِ بحث رہا ہے۔

ماہرین نے امریکہ سمیت مغربی اور خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ حساس عہدوں پر فائز افراد کے پس منظر، بین الاقوامی روابط اور ممکنہ مفادات کا ازسرِنو جائزہ لیں تاکہ قومی سلامتی کو لاحق ممکنہ خطرات سے بروقت نمٹا جا سکے۔

ماہرینِ سیکیورٹی کی رائے

دفاعی اور سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق حالیہ رپورٹس ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کر رہی ہیں، جس میں حساس اداروں تک رسائی رکھنے والے بعض افراد کی ذاتی وابستگی اور پس منظر سیکیورٹی رسک بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ کسی ایک قومیت کا نہیں بلکہ اسکریننگ اور نگرانی کے نظام کی کمزوری کا ہے، تاہم بار بار سامنے آنے والے واقعات تشویش کو بڑھا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سائبر اور دفاعی اداروں میں کام کرنے والے افراد کی جانب سے حساس معلومات کا غیر محفوظ پلیٹ فارمز پر اپلوڈ ہونا قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی ایپلیکیشنز اور ڈیجیٹل ٹولز کے بڑھتے استعمال کے باعث ڈیٹا لیک کے امکانات کئی گنا بڑھ گئے ہیں، جس کے لیے سخت پروٹوکولز ناگزیر ہو چکے ہیں۔

خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق اگر مغربی اور خلیجی ممالک نے حساس عہدوں پر تعیناتیوں کے وقت پس منظر، روابط اور ممکنہ مفادات کا باریک بینی سے جائزہ نہ لیا تو مستقبل میں ایسے واقعات مزید سنگین شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

عالمی اداروں میں بھارتی نژاد افراد سے جڑے حالیہ واقعات نے ایک حساس مگر اہم بحث کو جنم دیا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کوئی فرد کس ملک سے تعلق رکھتا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ عالمی نظام میں سیکیورٹی جانچ کا معیار بدلنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

امریکی سائبر ادارے میں حساس دستاویزات کا اے آئی ایپ پر اپلوڈ ہونا محض ایک تکنیکی غلطی نہیں بلکہ ڈیجیٹل دور میں قومی سلامتی کے نئے خطرات کی واضح مثال ہے۔ اسی طرح ماضی میں سامنے آنے والے جاسوسی اور ڈیٹا لیک کے واقعات اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ مسئلہ انفرادی نہیں بلکہ ایک وسیع پیٹرن کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

مغربی دنیا نے برسوں تک کھلے معاشرے اور تنوع کو اپنی طاقت قرار دیا، مگر اب یہی کھلا پن سیکیورٹی کمزوری بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ خلیجی ممالک میں بھارتی نیوی کے سابق افسران کی گرفتاری ہو یا امریکہ میں خفیہ دستاویزات کی برآمدگی، ہر واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حساس اداروں میں تعیناتی کے اصولوں پر ازسرنو غور ناگزیر ہو چکا ہے۔

آنے والے دنوں میں اگر مغربی اور خلیجی ممالک نے سیکیورٹی اسکریننگ، ڈیٹا ہینڈلنگ اور ادارہ جاتی نگرانی کو مزید سخت نہ کیا تو یہ مسئلہ صرف ایک رپورٹ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی سیکیورٹی کے لیے مستقل چیلنج بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین