ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ جو افراد ہفتے میں کم از کم ایک بار ڈراؤنے خواب دیکھتے ہیں، ان میں قبل از وقت موت کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہوتا ہے جنہیں ایسے خواب شاذ و نادر ہی آتے ہیں۔
یہ نتائج European Academy of Neurology کے کانگریس میں پیش کیے گئے ایک تحقیقی مقالے سے حاصل ہوئے، جسے عالمی سطح پر سائنسی حلقوں میں خاصی توجہ اور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
تحقیق کے دوران چار بڑے طویل المدتی مطالعات کا جائزہ لیا گیا، جن میں 26 سے 74 سال کی عمر کے ہزاروں افراد کے ڈیٹا کو شامل کیا گیا۔ شرکاء سے تحقیق کے آغاز میں یہ معلومات لی گئیں کہ انہیں ڈراؤنے خواب کتنی بار آتے ہیں، جس کے بعد محققین نے تقریباً 18 سے 19 سال تک ان افراد کی صحت اور زندگی کے نتائج کا تفصیلی مشاہدہ کیا۔
تحقیقی نتائج سے معلوم ہوا کہ وہ افراد جنہیں ہفتہ وار بنیاد پر ڈراؤنے خواب آتے تھے، ان میں 75 سال کی عمر سے پہلے وفات پانے کا امکان تقریباً تین گنا زیادہ تھا۔ یہ تعلق اس وقت بھی برقرار رہا جب محققین نے عمر، جنس، تمباکو نوشی، ذہنی صحت اور جسمانی صحت جیسے دیگر عوامل کو بھی مدنظر رکھا۔
تحقیق میں وضاحت کی گئی کہ ڈراؤنے خواب صرف نیند کے معمولات کو متاثر نہیں کرتے بلکہ جسم میں اسٹریس ہارمونز، خصوصاً کورٹیسول کی سطح میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں جسم کی حیاتیاتی عمر تیزی سے بڑھ سکتی ہے اور خلیوں کی مجموعی صحت متاثر ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلسل ڈراؤنے خواب دیکھنے سے جسم خود کو اصل عمر سے زیادہ بوڑھا محسوس کرنے لگتا ہے، جو بالآخر قبل از وقت موت کے خطرے میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ تحقیق اپنی نوعیت کا پہلا بڑا مطالعہ قرار دی جا رہی ہے جس نے ڈراؤنے خوابوں اور قبل از وقت موت کے درمیان تعلق کو واضح انداز میں اجاگر کیا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ڈراؤنے خواب محض ذہنی دباؤ کی علامت نہیں بلکہ طبی لحاظ سے بھی سنگین نتائج سے جڑے ہو سکتے ہیں۔
تحقیق کے اختتام پر ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ جن افراد کو بار بار ڈراؤنے خواب آتے ہیں، انہیں اسے محض نیند کا مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ایسے افراد کے لیے ضروری ہو سکتا ہے کہ وہ نیند کے معیار، ذہنی دباؤ اور مجموعی صحت کے حوالے سے پیشہ ورانہ طبی مشورہ حاصل کریں تاکہ ممکنہ خطرات سے بروقت نمٹا جا سکے۔
ماہرینِ صحت کی رائے
ماہرینِ نیورولوجی اور نیند کے ماہرین کے مطابق ڈراؤنے خواب دماغ اور اعصابی نظام پر شدید دباؤ کا باعث بنتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب انسان بار بار خوفناک خواب دیکھتا ہے تو اس کا جسم مسلسل خطرے کی کیفیت میں رہتا ہے، جس کے نتیجے میں اسٹریس ہارمونز جیسے کورٹیسول کی سطح بڑھ جاتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق کورٹیسول کی بلند سطح دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور قوتِ مدافعت میں کمی جیسے مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ یہی عوامل قبل از وقت بڑھاپے اور جلد موت کے خطرے میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
نیند کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈراؤنے خواب اکثر ذہنی دباؤ، اضطراب، ڈپریشن اور غیر متوازن نیند کے معمولات سے جڑے ہوتے ہیں۔ اگر بروقت علاج اور رہنمائی حاصل نہ کی جائے تو یہ مسئلہ وقت کے ساتھ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
ڈراؤنے خوابوں سے متعلق یہ تحقیق نیند کے تصور کو ایک نئی جہت دیتی ہے۔ عام طور پر خوابوں کو غیر سنجیدہ یا محض ذہنی کیفیت سمجھا جاتا ہے، مگر یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ نیند کے دوران ہونے والے یہ مناظر انسانی صحت اور عمر پر براہِ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ تحقیق جذبات یا قیاس آرائی پر نہیں بلکہ طویل المدتی ڈیٹا اور ہزاروں افراد کے مشاہدے پر مبنی ہے۔ 18 سے 19 سال تک افراد کی صحت کا جائزہ لینا اس نتیجے کو مضبوط بناتا ہے کہ ڈراؤنے خواب محض ایک علامت نہیں بلکہ ایک خطرے کی نشاندہی بھی ہو سکتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں نیند کے مسائل کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ لوگ خوفناک خوابوں کو روحانی، وہمی یا وقتی کیفیت کہہ کر ٹال دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ جسم کے اندر چلنے والی ایک گہری جنگ کا اشارہ ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اچھی نیند عیش نہیں بلکہ بنیادی صحت کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی فرد مسلسل ڈراؤنے خواب دیکھ رہا ہے تو یہ اس کے جسم اور دماغ کی مدد کی پکار ہو سکتی ہے، جسے سنجیدگی سے لینا اب ایک انتخاب نہیں بلکہ ضرورت بن چکا ہے۔





















