بلوچستان میں دہشت گردی کی بڑی کوشش ناکام، 12 مقامات پر حملے پسپا، 37 دہشت گرد مارے گئے

مختلف مقامات پر دہشت گردوں کا تعاقب اور مقابلہ تاحال جاری ہے۔ سیکیورٹی حکام

کوئٹہ:بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فتنۃ الہندوستان سے منسوب دہشت گردوں کی جانب سے 12 مختلف مقامات پر کی گئی حملوں کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ سیکیورٹی کارروائیوں کے دوران 37 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات دہشت گردوں نے صوبے کے مختلف علاقوں میں بیک وقت بزدلانہ حملے کیے، تاہم سیکیورٹی فورسز اور دیگر اداروں کی بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی کے باعث تمام حملے ناکام بنا دیے گئے۔

ذرائع نے بتایا کہ ان جھڑپوں کے دوران اب تک فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 37 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، جبکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے لڑتے ہوئے سیکیورٹی اداروں اور پولیس کے 10 جوان شہید ہو گئے۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق مختلف مقامات پر دہشت گردوں کا تعاقب اور مقابلہ تاحال جاری ہے۔ جاری کارروائیوں کے نتیجے میں مزید دہشت گردوں کے جانی و مالی نقصان کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی دیگر کارروائیوں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے پہلے ہی فتنۃ الہندوستان کے 41 دہشت گردوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔

سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے آپریشنز جاری رہیں گے اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

سیکیورٹی و دفاعی ماہرین کی رائے

دفاعی اور انسدادِ دہشت گردی کے ماہرین کے مطابق بلوچستان میں بیک وقت 12 مقامات پر حملوں کی کوشش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دہشت گرد عناصر صوبے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی منظم کوشش کر رہے تھے۔ تاہم فورسز کی فوری اور مربوط کارروائی نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ہی وقت میں متعدد مقامات پر حملوں کا مقصد سیکیورٹی اداروں کو الجھانا اور خوف و ہراس پھیلانا ہوتا ہے، مگر حالیہ کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ انٹیلی جنس شیئرنگ اور فیلڈ کوآرڈینیشن مؤثر رہی۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں میں 41 دہشت گردوں کی ہلاکت اور حالیہ کارروائیوں میں مزید 37 دہشت گردوں کا مارا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ ایسے آپریشنز سے دہشت گردوں کی تنظیمی صلاحیت، نقل و حرکت اور مقامی سہولت کاری کو زک پہنچتی ہے۔

بلوچستان میں حالیہ واقعات محض سیکیورٹی آپریشن نہیں بلکہ ریاستی رٹ کے واضح اظہار کی مثال ہیں۔ بیک وقت 12 مقامات پر حملوں کی کوشش اس بات کی علامت ہے کہ دہشت گرد عناصر ایک بڑا پیغام دینا چاہتے تھے، مگر فورسز نے اس پیغام کو طاقت کے ساتھ مسترد کر دیا۔

قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ فورسز نے نہ صرف حملے ناکام بنائے بلکہ دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان بھی پہنچایا۔ تاہم اس کامیابی کی قیمت 10 بہادر جوانوں کی شہادت کی صورت میں ادا کی گئی، جو اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ امن کی قیمت ہمیشہ قربانی ہوتی ہے۔

گزشتہ 48 گھنٹوں میں مجموعی طور پر 78 دہشت گردوں کا مارا جانا ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورک شدید دباؤ میں ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں دشمن آخری اور زیادہ خطرناک کوششیں کرتا ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں سیکیورٹی الرٹ مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔

یہ کارروائیاں یہ پیغام بھی دیتی ہیں کہ بلوچستان میں ریاست کمزور نہیں، اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے فورسز کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ اصل چیلنج اب صرف آپریشنز نہیں بلکہ ان کے بعد دیرپا امن، ترقی اور عوامی اعتماد کو مضبوط کرنا ہے، تاکہ دہشت گردی کی جڑیں مستقل طور پر ختم کی جا سکیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین