سم کارڈز اور برقی چپس سے سونا نکالنے کا دعویٰ، چینی بلاگر کی ویڈیو وائرل

’سم الکیمی‘ پروسیس، حقیقت یا مبالغہ؟ ماہرین نے سوال اٹھا دیے

بیجنگ:چین سے تعلق رکھنے والے ایک بلاگر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سِم کارڈ چپس اور دیگر برقی آلات سے قابلِ ذکر مقدار میں سونا حاصل کر لیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

صوبہ گوانگ ڈونگ کے رہائشی بلاگر کے مطابق اس نے مختلف پیچیدہ کیمیائی اور تکنیکی مراحل کے ذریعے مجموعی طور پر 191.73 گرام سونا جمع کیا۔ بلاگر کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے اس نے اسٹرانگ ایسڈ ڈِسولوشن اور الیکٹرولائٹک ری ڈکشن جیسے طریقے استعمال کیے، جن کے ذریعے برقی چپس میں موجود قیمتی دھات کو الگ کیا گیا۔

بلاگر نے اس پورے عمل کی ویڈیو بھی شیئر کی، جسے اس نے ’سِم الکیمی‘ کا نام دیا۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد بڑی تعداد میں ناظرین نے اس عمل میں دلچسپی ظاہر کی اور بعض افراد نے خود بھی سِم کارڈز سے سونا نکالنے کی کوششیں شروع کر دیں۔

وائرل ویڈیو پر تبصروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ دس سال کی نوکری کے مقابلے میں کباڑ اکٹھا کرنا زیادہ فائدہ مند لگتا ہے، جبکہ اسی صارف نے بلاگر سے یہ طریقہ سیکھنے کے لیے شاگرد بنانے کی درخواست بھی کی۔ ایک اور صارف نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے کبھی معلوم نہیں تھا کہ سِم چپس کو سونا حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ماہرین نے اس دعوے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق عام طور پر ایک سِم کارڈ میں صرف 0.47 ملی گرام سونا استعمال کیا جاتا ہے، اور اس حساب سے تقریباً 191 گرام سونا حاصل کرنے کے لیے چار لاکھ کے قریب سِم کارڈز درکار ہوں گے۔

اس تنقید کے جواب میں بلاگر نے وضاحت کی ہے کہ اس نے صرف سِم کارڈز پر انحصار نہیں کیا، بلکہ مختلف مواصلاتی اور برقی آلات میں موجود سونا چڑھی ہوئی چپس بھی اس عمل میں شامل کیں، جس کے باعث اتنی مقدار میں سونا حاصل کرنا ممکن ہوا۔

یہ ویڈیو جہاں سوشل میڈیا صارفین کے لیے حیرت کا باعث بنی ہوئی ہے، وہیں الیکٹرانک ویسٹ سے قیمتی دھاتیں حاصل کرنے کے امکانات پر بھی نئی بحث کو جنم دے رہی ہے۔

ماہرین کی رائے

الیکٹرانکس اور کیمیکل انجینئرنگ سے وابستہ ماہرین کے مطابق یہ بات درست ہے کہ سِم کارڈز اور دیگر برقی چپس میں معمولی مقدار میں سونا استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ سونا بہترین کنڈکٹر اور زنگ سے محفوظ دھات ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدار انتہائی کم ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایک عام سِم کارڈ میں تقریباً 0.47 ملی گرام سونا پایا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ بڑی مقدار میں سونا حاصل کرنے کے لیے لاکھوں سِم کارڈز یا برقی آلات درکار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسٹرانگ ایسڈ ڈِسولوشن اور الیکٹرولائٹک ری ڈکشن جیسے طریقے نہایت خطرناک، مہنگے اور ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ عام افراد کے لیے اس طرح کے تجربات گھر پر کرنا جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ تیزاب اور کیمیکل غلط استعمال کی صورت میں شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

چینی بلاگر کی وائرل ویڈیو دراصل ڈیجیٹل دور کی ایک پرانی انسانی خواہش کو نئی شکل دیتی ہے، یعنی کباڑ سے خزانہ نکالنے کا خواب۔ ’سم الکیمی‘ کا نام سن کر یہ تاثر ضرور ملتا ہے کہ شاید جدید ٹیکنالوجی نے صدیوں پرانی کیمیاگری کو حقیقت بنا دیا ہے، مگر زمینی حقائق اس سے کہیں مختلف ہیں۔

یہ درست ہے کہ الیکٹرانک ویسٹ میں قیمتی دھاتیں موجود ہوتی ہیں، مگر انہیں نکالنا نہ تو آسان ہے اور نہ ہی ہر فرد کے بس کی بات۔ صنعتی سطح پر یہ کام بڑے پلانٹس، سخت حفاظتی اقدامات اور بھاری سرمایہ کاری کے بغیر ممکن نہیں۔

سوشل میڈیا کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک وائرل ویڈیو حقیقت اور مبالغے کے درمیان فرق کو دھندلا دیتی ہے۔ لوگ صرف نتیجہ دیکھتے ہیں، عمل، خطرات اور لاگت کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ صارفین نوکری چھوڑ کر کباڑ اکٹھا کرنے جیسے تبصرے کرنے لگتے ہیں۔

یہ ویڈیو ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ الیکٹرانک ویسٹ ری سائیکلنگ مستقبل کی ایک اہم صنعت ضرور ہے، مگر اس کو سنسنی خیزی کے بجائے سائنسی اور صنعتی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ سونا نکالنے کے خواب میں لوگ خود کو نقصان پہنچا بیٹھیں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین