لاہور :پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے بلوچستان میں دہشت گردی کی بڑی کوشش ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیک وقت 12 مقامات پر دہشت گرد حملوں کی کوشش ناکام بنانا سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیت، مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورک اور بروقت فیصلہ سازی کا واضح ثبوت ہے۔
خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کا مقصد بلوچستان میں خوف و ہراس، عدم استحکام اور انتشار پھیلانا تھا، تاہم ریاستی اداروں نے ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا کر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کے امن سے کھیلنے والوں کے لیے اب کوئی گنجائش نہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں مجموعی طور پر 78 دہشت گردوں کا مارا جانا اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم غیر متزلزل ہے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ادارے یکسو اور متحد ہیں۔
سیکرٹری جنرل پاکستان عوامی تحریک نے زور دیا کہ سیکیورٹی فورسز کی کامیابیوں کو صرف عسکری کامیابی سمجھنے کے بجائے انہیں امن و امان، عوامی اعتماد، معاشی ترقی اور سماجی انصاف کے ساتھ جوڑنا ناگزیر ہے تاکہ بلوچستان میں دہشت گردی کی جڑیں ہمیشہ کے لیے ختم کی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے مکالمے سے لے کر فیصلہ کن مقابلے تک تمام آپشنز بروئے کار لائے جائیں، کیونکہ دہشت گردی محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گمراہ کن فکر اور انتہا پسندانہ نظریہ ہے جس کا مقابلہ فکری، نظریاتی اور عملی تینوں محاذوں پر ضروری ہے۔خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ بدقسمتی سے قوم نے فتنہ الخوارج کی اصل فکری اور نظریاتی حقیقت کو سمجھنے میں تقریباً چودہ قیمتی سال ضائع کر دیے، جس کا خمیازہ پاکستان نے بے پناہ جانی و مالی قربانیوں کی صورت میں بھگتا۔
انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے 2010ء میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کے خلاف تاریخی فتویٰ جاری کر کے فتنہ الخوارج کی باطنی فکر، گمراہ کن نظریات اور اسلام دشمن ایجنڈے کو علمی، شرعی اور فکری بنیادوں پر بے نقاب کیا، مگر افسوس کہ اس فکری رہنمائی کو بروقت قومی پالیسی کا حصہ نہ بنایا جا سکا۔سیکرٹری جنرل نے کہا کہ آج پوری قوم پاک فوج اور سکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور وطن عزیز کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء قوم کا فخر ہیں۔ قوم شہداء کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے عزم و حوصلے کو سلام پیش کرتی ہے۔انہوں نے آخر میں کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کسی ابہام، کمزوری یا مصلحت کا مظاہرہ نہ کیا جائے بلکہ قومی یکجہتی، واضح بیانیے اور ریاستی رِٹ کے ساتھ اس فتنے کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے تاکہ پاکستان ایک پرامن، محفوظ اور مستحکم ریاست کے طور پر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے بڑا سانحہ ٹال دیا: خرم نواز گنڈاپور
شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری نے 2010 میں فتنہ الخوارج کو بے نقاب کر دیا تھا





















