ممبئی:بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان اور بھومیکا چاؤلہ کی 2003 میں ریلیز ہونے والی رومانوی فلم تیرے نام کو ایک بار پھر محدود مدت کے لیے سینما گھروں میں پیش کیا جا رہا ہے، جس کا باضابطہ شیڈول بھی سامنے آ گیا ہے۔
فلمی شائقین اور سلمان خان کے مداحوں کو اس دوبارہ ریلیز کے ذریعے رومان، جذبات سے بھرپور مناظر اور ناقابلِ فراموش موسیقی کو بڑی اسکرین پر دوبارہ دیکھنے کا موقع ملے گا، جس نے دو دہائیاں گزرنے کے باوجود اپنی مقبولیت برقرار رکھی ہوئی ہے۔
بھارتی سینما چین PVR Cinemas اور INOX نے فلم کی دوبارہ ریلیز کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر تاریخ بھی جاری کر دی ہے۔
اعلان کے مطابق تیرے نام 27 فروری کو ایک بار پھر سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔
سنیما چینز کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف وہ شائقین دوبارہ بڑی اسکرین کا رخ کریں گے جنہوں نے فلم کو اس کی پہلی ریلیز کے وقت دیکھا تھا، بلکہ وہ نوجوان ناظرین بھی سینما آئیں گے جنہوں نے تیرے نام کو ٹی وی یا اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر دیکھا ہے۔
پی وی آر اور اینوکس نے انسٹاگرام پر جاری بیان میں بتایا کہ رواں ماہ فروری میں محبت کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے، جہاں شائقین کو بلاک بسٹر رومانوی فلموں کے مختلف رنگ دیکھنے کا موقع ملے گا۔ اسی سلسلے میں دیوداس 6 فروری اور یووا 20 فروری کو دوبارہ ریلیز کی جائیں گی۔
تیرے نام اپنی ریلیز کے بیس سال سے زائد عرصے بعد بھی اپنے مشہور گانوں، مکالموں اور سلمان خان کی بطور رادھے جذباتی اداکاری کے باعث شائقین کے ذہنوں میں تازہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس کی واپسی کو خاصا جوش و خروش مل رہا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق تیرے نام کی دوبارہ نمائش بالی ووڈ کی کلاسک فلموں کو سینما گھروں میں دوبارہ پیش کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے، جس کے تحت شاہ رخ خان، اجے دیوگن، ابھیشک بچن اور ویوک اوبرائے کی فلمیں بھی ایک بار پھر بڑی اسکرین پر لائی جا رہی ہیں۔
فلمی ناقدین کی رائے
فلمی ناقدین کے مطابق تیرے نام ان چند بالی ووڈ فلموں میں شامل ہے جو وقت گزرنے کے باوجود اپنی جذباتی شدت اور موسیقی کی وجہ سے زندہ رہتی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فلم کی اصل طاقت سلمان خان کی بطور رادھے اداکاری، سادہ مگر درد بھری کہانی اور وہ گانے ہیں جو آج بھی سننے والوں کو ماضی میں لے جاتے ہیں۔
ناقدین کے مطابق تیرے نام نے اپنے دور میں رومانوی فلموں کے بیانیے کو ایک مختلف رخ دیا، جہاں محبت خوشی کے بجائے قربانی، درد اور خاموشی میں بدل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ فلم صرف ایک رومانوی کہانی نہیں بلکہ ایک جذباتی تجربہ سمجھی جاتی ہے۔
کچھ ناقدین کا ماننا ہے کہ موجودہ دور میں جب تیز رفتار اور ہلکی پھلکی فلمیں زیادہ مقبول ہیں، تیرے نام جیسی سنجیدہ اور دل توڑنے والی فلم کا دوبارہ سینما میں آنا ایک خوش آئند تبدیلی ہے، جو شائقین کو جذباتی سینما کی یاد دلاتی ہے۔
تیرے نام کی دوبارہ ریلیز دراصل صرف ایک فلم کی واپسی نہیں بلکہ ایک پورے دور کی یاد تازہ کرنے کا موقع ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بالی ووڈ میں محبت کو صرف کامیابی یا خوشی سے نہیں بلکہ ناکامی اور قربانی سے بھی جوڑا جاتا تھا۔
سلمان خان کے کیریئر میں تیرے نام ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ یہ فلم ان کی اسٹار امیج سے ہٹ کر ایک ایسے کردار کو سامنے لائی جس میں کمزوری، جنون اور ٹوٹا ہوا دل نمایاں تھا۔ رادھے کا کردار آج بھی اسی لیے یاد رکھا جاتا ہے کہ وہ مکمل نہیں تھا، بلکہ درد سے بھرا ہوا تھا۔
اس فلم کی دوبارہ ریلیز کا ایک پہلو تجارتی بھی ہے، مگر اس سے زیادہ یہ بالی ووڈ کے اس رجحان کی عکاسی کرتی ہے جہاں پرانی فلموں کو نئی نسل کے سامنے دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔ وہ ناظرین جنہوں نے تیرے نام صرف موبائل یا ٹی وی اسکرین پر دیکھی، اب اسے سینما کے ماحول میں محسوس کر سکیں گے، جہاں موسیقی اور جذبات کا اثر کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔
تیرے نام ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ کامیاب محبت کی کہانیاں ہی نہیں بلکہ ادھوری محبتیں بھی سینما کی روح ہوتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دو دہائیاں گزرنے کے باوجود رادھے کی خاموش آنکھیں اور اس کی محبت آج بھی ناظرین کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں۔





















