لاہور:کرکٹ کے روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے درمیان 15 فروری کو مقابلہ شیڈول کر دیا گیا ہے، تاہم یہ ٹکراؤ مختلف ایونٹس کے تناظر میں ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان نے 7 فروری سے شروع ہونے والے عالمی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کا فیصلہ کر لیا ہے، تاہم قومی کرکٹ ٹیم بطور احتجاج بھارت کے خلاف 15 فروری کو شیڈول میچ نہیں کھیلے گی۔
دوسری جانب اسی روز پاکستان اور بھارت تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں اے سی سی ویمنز ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز کے گروپ میچ میں آمنے سامنے ہوں گے، جس پر شائقین کی نظریں مرکوز ہیں۔
بینکاک میں 13 سے 22 فروری تک منعقد ہونے والے اس ایونٹ کے لیے پاکستان ویمنز اے ٹیم کا تربیتی کیمپ اس وقت کراچی میں جاری ہے۔ پیر کے روز حنیف محمد ہائی پرفارمنس سینٹر میں پریکٹس میچ کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد منتخب کھلاڑیوں کی کارکردگی میں مزید بہتری لانا تھا۔
کیمپ کے اختتام کے بعد پاکستان ویمنز اے ٹیم 10 فروری کو تھائی لینڈ روانہ ہوگی، جہاں وہ ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گی۔
ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ پر مشتمل اس ایونٹ میں مجموعی طور پر 8 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ پاکستان کو گروپ اے میں بھارت، متحدہ عرب امارات اور نیپال کے ساتھ رکھا گیا ہے، جبکہ گروپ بی میں بنگلادیش، سری لنکا، ملائیشیا اور میزبان تھائی لینڈ شامل ہیں۔
ٹورنامنٹ کے فارمیٹ کے مطابق ہر گروپ کی سرفہرست دو ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی۔ چار ممالک اپنی قومی ویمنز ٹیمیں جبکہ چار اے ٹیمیں میدان میں اتاریں گے۔
پاکستان ویمنز اے ٹیم اپنا پہلا میچ 13 فروری کو نیپال کے خلاف کھیلے گی، دوسرا میچ 15 فروری کو بھارت کے خلاف جبکہ تیسرا گروپ میچ 17 فروری کو یو اے ای کے خلاف شیڈول ہے۔
ایونٹ کے سیمی فائنلز 20 فروری کو ہوں گے، جبکہ فائنل مقابلہ 22 فروری کو کھیلا جائے گا۔
کرکٹ ماہرین کی رائے
کرکٹ ماہرین کے مطابق 15 فروری کو پاکستان اور بھارت کا نام ایک بار پھر عالمی کرکٹ میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے، تاہم اس بار صورتحال روایتی نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم کا بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ ایک علامتی احتجاج ہے، جس کے اثرات کرکٹ سے زیادہ سفارتی اور انتظامی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق ویمنز ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز میں پاکستان اور بھارت کا آمنے سامنے آنا ویمنز کرکٹ کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ویمنز اے ٹیم کے لیے یہ میچ نہ صرف گروپ پوزیشن بلکہ اعتماد اور تجربے کے اعتبار سے بھی فیصلہ کن ہوگا۔
سابق کرکٹرز کے مطابق ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں اس طرح کے مختصر مگر سخت مقابلے نوجوان کھلاڑیوں کو بڑے اسٹیج کے لیے تیار کرتے ہیں، اور بھارت جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف کھیلنا پاکستان ویمنز کرکٹ کے لیے سیکھنے کا بہترین موقع ہے۔
15 فروری محض ایک تاریخ نہیں بلکہ پاک بھارت کرکٹ تعلقات کی پیچیدگیوں کی عکاس بن چکی ہے۔ ایک طرف پاکستان نے عالمی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کا فیصلہ کر کے کھیل کو ترجیح دینے کا پیغام دیا ہے، تو دوسری جانب بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان یہ واضح کرتا ہے کہ معاملات اب بھی معمول پر نہیں آئے۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اسی دن ویمنز ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کا مقابلہ شیڈول ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ کھیل مکمل طور پر نہیں رکا بلکہ اس کا رخ بدل گیا ہے۔ مردوں کی کرکٹ میں خاموشی ہے، مگر ویمنز کرکٹ میں مقابلہ پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔
یہ صورتحال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا مستقبل میں پاک بھارت کرکٹ تعلقات مردوں اور خواتین کی کرکٹ کے لیے الگ الگ راستے اختیار کریں گے؟ یا یہ محض وقتی انتظام ہے؟
پاکستان ویمنز اے ٹیم کے لیے یہ ایونٹ محض ایک ٹورنامنٹ نہیں بلکہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیت منوانے کا موقع ہے۔ اگر نتائج پاکستان کے حق میں آئے تو یہ پیغام جائے گا کہ کرکٹ صرف سیاست کی مرہونِ منت نہیں بلکہ محنت اور تیاری سے بھی راستے بنائے جا سکتے ہیں۔
آخرکار، 15 فروری ایک بار پھر ثابت کر رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کا کرکٹ رشتہ صرف کھیل نہیں، بلکہ جذبات، فیصلوں اور پیغامات کا مجموعہ ہے، جس کی گونج میدان سے باہر بھی سنائی دیتی ہے۔





















