پاکستان سمیت 75 ممالک کے ویزوں کی معطلی کا فیصلہ عدالت پہنچ گیا، ٹرمپ انتظامیہ کو قانونی چیلنج

امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ معطل کرنے کا یہ فیصلہ 21 جنوری سے نافذ العمل ہے

نیویارک:ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان سمیت 75 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ معطل کرنے کے فیصلے کو امریکی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ ایک نئے قانونی تنازع کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق شہری حقوق کی تنظیموں کے ایک اتحاد نے نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں امریکی محکمہ خارجہ کے خلاف باقاعدہ مقدمہ دائر کیا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی امریکا کے امیگریشن نظام کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے، جو دہائیوں سے ایک متوازن اور مستحکم قانونی ڈھانچے کے تحت چلتا آ رہا ہے۔

عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ویزا پروسیسنگ کی اس معطلی سے ہزاروں خاندان متاثر ہو رہے ہیں اور یہ فیصلہ امریکی آئین اور امیگریشن قوانین کی روح کے منافی ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس پالیسی پر فوری عملدرآمد روکا جائے اور اسے غیر قانونی قرار دیا جائے۔

واضح رہے کہ امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ معطل کرنے کا یہ فیصلہ 21 جنوری سے نافذ العمل ہے، جس کے باعث متعدد ممالک کے شہری غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔

اس فیصلے سے متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان کے علاوہ افغانستان، البانیہ، الجزائر، آرمینیا، آذربائیجان، بنگلادیش، بیلاروس، بھوٹان، بوسنیا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس پالیسی کو نہ روکا گیا تو یہ امریکا کی امیگریشن پالیسی میں ایک خطرناک مثال قائم کرے گی، جس کے اثرات طویل المدت اور عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

امیگریشن اور قانونی ماہرین کی رائے

امیگریشن قانون کے ماہرین کے مطابق 75 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ یکطرفہ طور پر معطل کرنا غیر معمولی اور متنازع اقدام ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی امیگریشن سسٹم دہائیوں سے واضح قوانین، کوٹہ سسٹم اور شفاف طریقہ کار کے تحت چلتا آیا ہے، اور اس نوعیت کی اجتماعی پابندیاں اس قانونی ڈھانچے کو کمزور کر سکتی ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق اگرچہ امریکی حکومت کو قومی سلامتی اور امیگریشن کنٹرول کے اختیارات حاصل ہیں، تاہم ان اختیارات کا استعمال امتیازی یا غیر متناسب انداز میں نہیں کیا جا سکتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت میں یہ دلیل خاصی مضبوط ہو سکتی ہے کہ ویزا معطلی سے خاندانوں کے ملاپ، ملازمتوں اور تعلیمی منصوبوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

امیگریشن ماہرین کے مطابق اس مقدمے کا فیصلہ مستقبل میں امریکی ویزا پالیسی کے لیے ایک اہم مثال بن سکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک کے شہریوں کے لیے جو طویل عرصے سے قانونی طریقے سے امریکا جانے کے منتظر ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں کیے گئے فیصلے ایک بار پھر امریکی عدالتوں میں کٹہرے میں کھڑے نظر آ رہے ہیں، اور 75 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزوں کی معطلی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ لاکھوں افراد کی زندگیوں، خوابوں اور منصوبوں سے جڑا معاملہ ہے۔

پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ پابندی صرف ویزا کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور معاشی چیلنج بھی ہے۔ برسوں سے زیر التوا درخواستیں، خاندانوں کا بکھراؤ اور قانونی طریقے سے امریکا جانے کے خواہشمند افراد کے لیے یہ فیصلہ شدید مایوسی کا باعث بنا ہے۔

عدالت میں دائر مقدمہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکی سول سوسائٹی اس قسم کی پالیسیوں کو بغیر سوال قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اگر عدالت نے اس پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا تو یہ نہ صرف متاثرہ ممالک بلکہ خود امریکا کے امیگریشن نظام کے لیے بھی ایک بڑی نظیر قائم کرے گا۔

دوسری جانب اگر حکومت اپنے مؤقف میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ مستقبل میں مزید سخت امیگریشن اقدامات کا راستہ ہموار کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کیس محض ایک قانونی جنگ نہیں بلکہ امریکا کی امیگریشن سمت کے تعین کی لڑائی بن چکا ہے۔

یہ معاملہ ایک بار پھر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا امیگریشن کو محض سیکیورٹی کے تناظر میں دیکھا جائے یا انسانی حقوق اور خاندانی زندگی کو بھی برابر کی اہمیت دی جائے۔ آنے والا عدالتی فیصلہ اسی سوال کا جواب دے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین