ماہرین نے ممکنہ نئی عالمی وبا سے متعلق تشویشناک خدشات ظاہر کر دیے

منکی پاکس کے بعد بوریل اور کیمل پاکس بھی خطرے کی فہرست میں

جنیوا:طبی ماہرین نے ایک ممکنہ نئی عالمی وبا کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مہلک چیچک یا اس سے ملتے جلتے وائرس آئندہ برسوں میں دنیا کے لیے ایک بڑا صحت کا خطرہ بن سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق چیچک، جسے طب کی زبان میں ویریولا وائرس کہا جاتا ہے، کو عالمی سطح پر ویکسینیشن مہم کے بعد عالمی ادارہ صحت نے 1980 میں باضابطہ طور پر ختم شدہ بیماری قرار دیا تھا۔ اس وقت یہ وائرس صرف چند انتہائی محفوظ اور سخت نگرانی والی ہائی سیکیورٹی لیبارٹریز میں محدود سیمپلز کی صورت میں محفوظ ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چیچک کے خاتمے کے بعد دنیا بھر میں اس کے خلاف اجتماعی مدافعت بتدریج کم ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں دیگر پاکس وائرسز کے لیے راستہ ہموار ہو رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آرتھوپاکس وائرس خاندان سے تعلق رکھنے والے وائرس چیچک کی جگہ لے سکتے ہیں اور مستقبل میں ایک نئی عالمی وبا کا سبب بن سکتے ہیں۔

ان وائرسز میں منکی پاکس کے علاوہ کم معروف بوریل پاکس، بوفیلو پاکس اور کیمل پاکس بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ انسانوں میں تیزی سے منتقل ہونے لگے تو صورتحال تشویشناک ہو سکتی ہے۔

طبی ماہرین نے یاد دلایا کہ بیسویں صدی کے دوران چیچک دنیا بھر میں تقریباً 50 کروڑ اموات کا باعث بنی تھی، جس کے اثرات انسانی تاریخ کے مہلک ترین وبائی ادوار میں شمار کیے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ چیچک خود اس وقت دنیا میں فعال نہیں، لیکن اس سے ملتے جلتے وائرسز پر مسلسل تحقیق، نگرانی اور ویکسین تیاری ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ کسی ممکنہ عالمی وبا سے قبل بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔

ماہرینِ صحت کی رائے

وبائی امراض کے ماہرین کے مطابق چیچک کے خاتمے کو انسانی تاریخ کی بڑی کامیابی ضرور سمجھا جاتا ہے، مگر اس کامیابی کا ایک غیر متوقع نتیجہ یہ بھی نکلا کہ نئی نسل میں پاکس وائرسز کے خلاف قدرتی اور ویکسین سے حاصل ہونے والی مدافعت ختم ہو گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آرتھوپاکس وائرس خاندان سے تعلق رکھنے والے وائرسز جینیاتی طور پر چیچک سے مشابہت رکھتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ انسانوں میں بیماری پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر ان وائرسز میں انسان سے انسان میں تیز منتقلی کی صلاحیت پیدا ہو گئی تو یہ صورتحال ایک نئی عالمی وبا کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق منکی پاکس کے حالیہ کیسز اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ وائرس اب محدود علاقوں تک نہیں رہے۔ ماہرین نے زور دیا کہ عالمی سطح پر نگرانی، ویکسین ریسرچ اور لیبارٹری سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

چیچک کا ذکر سنتے ہی انسانی تاریخ کے وہ سیاہ ابواب یاد آ جاتے ہیں جن میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں زندگیاں اس بیماری کی نذر ہو گئیں۔ اگرچہ 1980 میں چیچک کے خاتمے نے دنیا کو سکھ کا سانس دیا، مگر آج ماہرین کا دوبارہ خبردار کرنا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ وبائیں کبھی مکمل طور پر تاریخ کا حصہ نہیں بنتیں۔

اصل خطرہ خود چیچک نہیں بلکہ اس خلا کا ہے جو اس کے خاتمے کے بعد پیدا ہوا۔ نئی نسل، جسے چیچک کی ویکسین نہیں لگی، اب دیگر پاکس وائرسز کے سامنے نسبتاً غیر محفوظ ہے۔ یہی خلا منکی پاکس، بوفیلو پاکس اور کیمل پاکس جیسے وائرسز کو موقع فراہم کر سکتا ہے۔

کووِڈ-19 نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ وباؤں کے معاملے میں تاخیر کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے۔ اگر ان وائرسز کو آج محض سائنسی خدشات سمجھ کر نظرانداز کیا گیا تو کل یہ خدشات عملی بحران میں بدل سکتے ہیں۔

یہ وقت خوف پھیلانے کا نہیں بلکہ تیاری کا ہے۔ ویکسین ریسرچ، عالمی ڈیٹا شیئرنگ اور شفاف نگرانی وہ اقدامات ہیں جو کسی ممکنہ عالمی وبا کو جنم لینے سے پہلے ہی روک سکتے ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ اگلا وائرس کون سا ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ کیا دنیا اس کے لیے ذہنی، سائنسی اور انتظامی طور پر تیار ہے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین