لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کا کہنا ہے کہ دولت انسان کے لیے خوشی کی ضمانت نہیں ہوتی، اور یہ حقیقت وہی لوگ بہتر طور پر سمجھتے ہیں جنہوں نے اس جملے کو کہا ہے۔
ٹیسلا، اسپیس ایکس اور دیگر بڑی کمپنیوں کے مالک ایلون مسک نے یہ بات حال ہی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ کے ذریعے کہی۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ یہ بات بالکل درست ہے کہ دولت خوشی نہیں خرید سکتی، اور جس شخص نے یہ جملہ کہا وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔
ایلون مسک کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا، جہاں صارفین نے اس پر مختلف انداز میں ردِعمل دیا۔ کئی صارفین نے مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی دولت خوشی نہیں خرید سکتی تو ایلون مسک انہیں 10 لاکھ ڈالر بھیج کر یہ بات سمجھنے کا موقع دیں۔
ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ فلسفیانہ باتیں کرنا اُس وقت آسان ہو جاتا ہے جب کرایہ، بل اور دیگر اخراجات پہلے ہی ادا ہو چکے ہوں۔
کچھ افراد کا کہنا تھا کہ اگرچہ دولت خوشی کی مکمل ضمانت نہیں، لیکن اس کی کمی انسان کی زندگی پر گہرے اور منفی اثرات ضرور ڈالتی ہے۔
بعض صارفین نے یہ رائے بھی دی کہ اصل خوشی دوسروں کی مدد کرنے میں ہے، اور ایلون مسک کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ اپنے وسائل کے ذریعے کروڑوں بلکہ اربوں لوگوں کی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایلون مسک کی دولت عالمی سطح پر مسلسل توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ فوربز کے مطابق حالیہ دنوں میں وہ دنیا کے پہلے شخص بنے تھے جن کی مجموعی دولت 800 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی، تاہم بعد ازاں اس میں کچھ کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کا یہ کہنا کہ دولت خوشی نہیں خرید سکتی، بظاہر ایک عام سا جملہ ہے، مگر اس کی اہمیت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب یہ بات ایک ایسے شخص کی جانب سے سامنے آئے جس کے پاس بے پناہ دولت، اختیار اور عالمی اثر و رسوخ موجود ہو۔ ایلون مسک کی یہ رائے دراصل اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ خوشی اور دولت دو الگ تصورات ہیں، جنہیں اکثر ایک ہی ترازو میں تول دیا جاتا ہے۔ دولت انسان کو سہولت، تحفظ اور مالی آزادی تو فراہم کر سکتی ہے، مگر ذہنی سکون، قلبی اطمینان اور اندرونی خوشی کا متبادل نہیں بن سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے امیر ترین افراد بھی اکثر تنہائی، ذہنی دباؤ اور عدم اطمینان کا شکار دکھائی دیتے ہیں، جو اس تصور کو تقویت دیتا ہے کہ خوشی کا تعلق صرف پیسے سے نہیں بلکہ انسان کے مقصدِ حیات، تعلقات اور اندرونی کیفیت سے ہوتا ہے۔
ایلون مسک کا یہ بیان اس سماجی حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے کہ جدید دور میں دولت کو خوشی اور کامیابی کا معیار بنا دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا اور سرمایہ دارانہ نظام نے یہ تاثر مضبوط کر دیا ہے کہ زیادہ پیسہ زیادہ خوشی لاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں دولت صرف بنیادی ضروریات اور سہولیات کی حد تک زندگی کو آسان بناتی ہے۔ اس کے بعد خوشی کا انحصار انسان کے رویے، سوچ اور تعلقات پر ہوتا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دولت کی کمی زندگی کو مشکل بنا دیتی ہے، اور مالی پریشانی انسان کے ذہنی سکون کو بری طرح متاثر کرتی ہے، اسی لیے عوامی ردعمل میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ فلسفیانہ باتیں اُس وقت آسان لگتی ہیں جب بنیادی اخراجات پہلے ہی پورے ہو چکے ہوں۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ردعمل دراصل طبقاتی فرق اور معاشی حقیقتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ کچھ صارفین نے طنزیہ انداز میں دولت مانگ کر یہ پیغام دیا کہ مالی تحفظ خود ایک بڑی خوشی ہے، جبکہ دیگر افراد نے اس نکتے پر زور دیا کہ حقیقی خوشی دوسروں کی مدد اور انسانیت کی خدمت میں پوشیدہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایلون مسک کے بیان کو ایک اخلاقی ذمہ داری سے جوڑا جانے لگا، کیونکہ اربوں ڈالر کی دولت رکھنے والے افراد کے پاس یہ موقع موجود ہوتا ہے کہ وہ اپنی دولت کو صرف ذاتی آسائش کے بجائے اجتماعی بہتری کے لیے استعمال کریں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو دولت خود خوشی نہیں، بلکہ ایک ذریعہ ہے، جسے درست سمت میں استعمال کر کے خوشی کو جنم دیا جا سکتا ہے۔
آخرکار ایلون مسک کا یہ بیان ہمیں ایک اہم سوال پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ کیا ہم واقعی خوشی کو صرف دولت کے ساتھ جوڑ کر درست سمت میں سوچ رہے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ دولت زندگی کو آسان ضرور بناتی ہے، مگر خوشی کا اصل سرچشمہ انسان کی سوچ، تعلقات، مقصد اور دوسروں کے لیے فائدہ مند بننے کی صلاحیت میں پوشیدہ ہے۔ یوں ایلون مسک کے الفاظ ایک یاد دہانی بن جاتے ہیں کہ دولت کی دوڑ میں خوشی کو نظرانداز کرنا دراصل سب سے بڑی محرومی ہے۔





















