طبی ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک چکنائی سے بھرپور غذا کے استعمال کے نتیجے میں شریانوں کی اندرونی دیواروں پر چکنائی جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے، جس سے شریانیں بتدریج تنگ ہو جاتی ہیں اور فالج یا ہارٹ اٹیک جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شریانوں میں جمی چکنائی راتوں رات ختم نہیں کی جا سکتی، تاہم طرزِ زندگی میں درست اور مستقل تبدیلی کے ذریعے نہ صرف اس چکنائی کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ اس کے مزید بڑھنے کو بھی مؤثر طور پر روکا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس عمل کا سب سے اہم مرحلہ خوراک میں تبدیلی ہے۔ فرائی اشیاء، گھی، بناسپتی، فاسٹ فوڈ اور پروسیسڈ غذاؤں کا استعمال کم سے کم یا مکمل طور پر ترک کرنا ضروری ہوتا ہے۔
ان کی جگہ سبز سبزیاں، تازہ پھل، دالیں اور ثابت اناج جیسے جو اور براؤن چاول کو خوراک کا حصہ بنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح مچھلی، السی کے بیج اور اخروٹ کے استعمال پر زور دیا جاتا ہے کیونکہ ان میں موجود اومیگا-3 فیٹی ایسڈ شریانوں میں جمی چکنائی کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ماہرین یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ روزانہ 1 سے 2 جوئے لہسن کھائے جائیں اور کھانا پکانے میں زیتون کے تیل کا استعمال کیا جائے، جبکہ چینی اور سفید آٹے کو یا تو مکمل ترک کر دیا جائے یا انتہائی محدود مقدار میں استعمال کیا جائے۔
طبی ماہرین کے مطابق فائبر سے بھرپور غذا شریانوں میں جمی چکنائی کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ باقاعدہ جسمانی سرگرمی کو معمول بنانا بھی ناگزیر ہے۔ روزانہ 30 سے 45 منٹ تیز چہل قدمی، سائیکل چلانا یا تیراکی مفید سمجھی جاتی ہے۔
ورزش کے ذریعے جسم میں ایچ ڈی ایل یعنی اچھے کولیسٹرول کی مقدار بڑھتی ہے، جو شریانوں کو صاف رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہلدی، کالی مرچ اور سبز چائے کا استعمال بھی چکنائی کم کرنے میں معاون ہے، جبکہ میٹھے کا کم استعمال اور نمک کو مناسب مقدار تک محدود رکھنا دل کی صحت کے لیے ضروری ہے۔
طبی ماہرین نے زور دیا ہے کہ اگر کسی فرد کو کولیسٹرول، بلڈ پریشر یا شوگر کا مسئلہ درپیش ہو تو باقاعدہ طبی معائنہ اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق علاج کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ متوازن طرزِ زندگی اور علاج مل کر ہی بہتر نتائج دیتے ہیں۔





















