ایک مہینے میں دوسری بار بسنت کی اجازت مل گئی ،تیاریاں عروج پر

بلوچستان کے دارالحکومت میں 13، 14 اور 15 فروری (جمعہ سے اتوار) تک تین روزہ بسنت میلہ منانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسینلاہور میں بسنت 2026 کے رنگ بکھرنے کے بعد اب کوئٹہ بھی اس خوشگوار تہوار کی تیاریوں میں مصروف نظر آتا ہے۔ بلوچستان کے دارالحکومت میں 13، 14 اور 15 فروری (جمعہ سے اتوار) تک تین روزہ بسنت میلہ منانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے، جس سے شہریوں میں خوشی اور جوش کی فضا قائم ہو گئی ہے۔

شہر بھر میں بسنت کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ بازاروں میں رنگ برنگی پتنگیں، مضبوط ڈور، پیلے لباس اور بسنت سے متعلق دیگر اشیاء نمایاں طور پر نظر آ رہی ہیں۔ گرد سنگھ روڈ، پرنس روڈ، علمدار روڈ، کاسی روڈ، سرکی روڈ، جان محمد روڈ، سبزل روڈ، نوا کلی، بروری روڈ، جیل روڈ، لیاقت بازار اور دیگر علاقوں میں خریداری کا سلسلہ عروج پر ہے، جہاں شہری نت نئی پتنگوں کے ڈیزائن دیکھ کر خاصی دلچسپی لے رہے ہیں۔

امکان ہے کہ آئندہ دنوں میں کوئٹہ کا آسمان رنگین پتنگوں سے سج جائے گا، جبکہ مختلف علاقوں میں مقامی ثقافتی پروگرامز، موسیقی اور روایتی تقریبات کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ بسنت جیسا تہوار کوئٹہ میں تفریحی مواقع کی کمی کو کسی حد تک پورا کرے گا۔ ایک شہری، مصباح ایڈووکیٹ، کے مطابق کوئٹہ جیسے شہر میں جہاں روزمرہ زندگی کے مسائل زیادہ ہیں، اس طرح کے تہوار خوشی کے ساتھ ساتھ سماجی ہم آہنگی اور مثبت تشخص کو فروغ دینے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ تقریبات حکومتی سطح پر منعقد ہوتیں تو دلچسپی مزید بڑھ جاتی، تاہم لاہور کے بعد کوئٹہ میں بسنت کا انعقاد سیاحت کے لیے ایک اچھا پیغام ہے۔

منتظمین کے مطابق بسنت میلہ شہر کے مختلف علاقوں میں منعقد کیا جائے گا، جہاں پتنگ بازی کے ساتھ ساتھ مقامی فنکاروں کی پرفارمنسز، روایتی کھانوں کے اسٹالز اور خاندانی تفریح کا خصوصی انتظام ہوگا۔ ان کے مطابق یہ میلہ کوئٹہ میں ایک نئے ثقافتی باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، جو شہریوں کو چند دنوں کے لیے روزمرہ کی پریشانیوں سے دور لے جا کر خوشیوں کے رنگ بکھیرے گا۔

واضح رہے کہ لاہور کے بعد کوئٹہ دوسرا بڑا شہر ہے جہاں بسنت کو دوبارہ منانے کی روایت بحال ہو رہی ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تہوار کو پرامن اور محفوظ انداز میں منائیں اور حفاظتی تدابیر پر مکمل عمل کریں تاکہ یہ خوشی کا موقع کسی ناخوشگوار واقعے کا سبب نہ بنے۔

دوسری جانب اب تک حکومتی سطح پر بسنت کے انعقاد یا اس کی منسوخی کے حوالے سے کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریر دراصل ایک ایسے سماجی لمحے کی عکاسی کرتی ہے جہاں خوشی، ثقافت اور عوامی اُمنگ ایک ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے۔ بسنت جیسے تہوار محض پتنگ بازی یا رنگوں تک محدود نہیں ہوتے بلکہ یہ معاشرے کی نفسیاتی کیفیت، اجتماعی رویّوں اور سماجی ضرورتوں کو بھی بے نقاب کرتے ہیں۔ طویل عرصے بعد کسی شہر میں بسنت کی واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ عوام معمول کی مشکلات، معاشی دباؤ اور مسلسل خبروں کے بوجھ سے کچھ دیر کے لیے نکل کر سانس لینا چاہتے ہیں۔

تحریر میں بازاروں کی رونق، لوگوں کی دلچسپی اور ثقافتی سرگرمیوں کا ذکر اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ تہوار عوامی ضرورت بن چکے ہیں۔ جب تفریح کے مواقع محدود ہوں تو ایسے اجتماعات نہ صرف خوشی کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، مختلف طبقے ایک ہی رنگ میں رنگ جاتے ہیں اور شہر کا مجموعی ماحول نسبتاً مثبت ہو جاتا ہے۔

یہ تجزیہ بھی اہم ہے کہ بسنت کی بحالی صرف ثقافتی پہلو نہیں رکھتی بلکہ معاشی سرگرمیوں کو بھی متحرک کرتی ہے۔ پتنگ سازی، کپڑوں، خوراک اور مقامی فنکاروں سے وابستہ افراد کے لیے یہ دن روزگار اور آمدن کا ذریعہ بنتے ہیں، جو مقامی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اسی کے ساتھ سیاحت کے امکانات بھی جنم لیتے ہیں، جو کسی بھی شہر کے لیے ایک مثبت پیغام ہوتا ہے۔

تاہم تحریر ایک خاموش سوال بھی اٹھاتی ہے کہ حکومتی سطح پر اس حوالے سے واضح موقف کا نہ ہونا کس حد تک درست ہے۔ عوامی جوش و خروش اپنی جگہ، لیکن ایسے تہواروں کی کامیابی کا دارومدار بہتر انتظامات، حفاظتی اقدامات اور واضح پالیسی پر ہوتا ہے۔ اگر ریاستی ادارے رہنمائی اور نگرانی فراہم کریں تو یہ خوشی کا موقع دیرپا مثبت روایت میں بدل سکتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ تحریر بسنت کو محض ایک تہوار کے طور پر نہیں بلکہ ایک سماجی ضرورت، ثقافتی اظہار اور اجتماعی خوشی کے استعارے کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مشکلات سے بھرپور زندگی میں ایسے لمحات نہ صرف دلوں کو جوڑتے ہیں بلکہ شہروں کو بھی ایک نئی روح عطا کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین