کس خلیجی ملک نے گزشتہ سال سب سے زیادہ پاکستانی ڈی پورٹ کئے؟

ایک سال کے دوران مجموعی طور پر ساڑھے 38 ہزار پاکستانیوں کو خلیجی ممالک سے ڈی پورٹ کیا گیا

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)گزشتہ برس مختلف خلیجی ممالک کی جانب سے پاکستانی شہریوں کی ڈی پورٹیشن سے متعلق تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی ہیں۔ وزارتِ سمندر پار پاکستانیوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ایک سال کے دوران مجموعی طور پر ساڑھے 38 ہزار پاکستانیوں کو خلیجی ممالک سے ڈی پورٹ کیا گیا۔

پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ پاکستانی سعودی عرب سے ڈی پورٹ ہوئے، جن کی تعداد 27 ہزار 692 رہی۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے 6 ہزار 794، عمان سے 2 ہزار 537 پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا۔ بحرین سے 786، قطر سے 644 جبکہ کویت سے 163 پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مختلف مقدمات میں مفرور 6 ہزار 939 پاکستانیوں کو خلیجی ممالک سے ڈی پورٹ کیا گیا، جبکہ غیر قانونی داخلے اور زائد قیام کے باعث 4 ہزار 872 پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا۔ خلیجی ممالک کی جیلوں میں قید ڈھائی ہزار پاکستانیوں کو بھی ڈی پورٹ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ایک ہزار 639 پاکستانی بلیک لسٹ ہونے کے باعث ڈی پورٹ ہوئے، جبکہ ایک ہزار 125 افراد کو منشیات سے متعلق الزامات پر واپس بھیجا گیا۔ ویزا خلاف ورزیوں پر 936، چوری کے مقدمات میں 190 اور بھیک مانگنے کے الزام میں 780 پاکستانی ڈی پورٹ کیے گئے۔

مزید بتایا گیا کہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی پر 332 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا، جبکہ انٹرپول کے ذریعے 15 پاکستانیوں کی واپسی عمل میں آئی۔ رپورٹ کے مطابق 14 ہزار سے زائد پاکستانی دیگر وجوہات کی بنا پر خلیجی ممالک سے ڈی پورٹ ہوئے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ ہمیں خلیجی ممالک میں پاکستانیوں کے امیگریشن اور قانونی صورتحال کا ایک جامع جائزہ فراہم کرتی ہے۔ گزشتہ برس ساڑھے 38 ہزار پاکستانیوں کی ڈی پورٹیشن نہ صرف بڑی تعداد میں واپسیوں کی عکاس ہے بلکہ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہاں مقیم پاکستانیوں کے لیے قواعد و ضوابط کی پاسداری کتنی ضروری ہے۔ سب سے زیادہ تعداد سعودی عرب سے واپس آنے والوں کی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ ملک پاکستانی مہاجرین کے لیے سب سے بڑا ہاسٹنگ ملک ہے اور اس کے قوانین کی خلاف ورزی کا سب سے زیادہ اثر یہاں محسوس ہوتا ہے۔

اعداد و شمار میں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ڈی پورٹیشن کی وجوہات متنوع ہیں۔ بعض افراد قانونی مقدمات میں مفرور تھے یا غیر قانونی داخلے اور زائد قیام کے مرتکب ہوئے، جبکہ کچھ دیگر وجوہات جیسے منشیات کے الزامات، ویزا خلاف ورزیاں، چوری یا بھیک مانگنا شامل ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک میں نہ صرف قانونی اور امیگریشن قوانین سخت ہیں بلکہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے لیے سخت سزائیں بھی ہیں۔

یہ صورتحال پاکستانی کمیونٹی کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے کہ وہ مقامی قوانین اور ثقافتی ضوابط کی مکمل پاسداری کریں۔ وزارت سمندر پار پاکستانیوں کے ذریعے ایوان میں پیش کی گئی تفصیلات یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ حکومت کو اپنے شہریوں کو غیر قانونی یا خطرناک صورتحال سے بچانے کے لیے تربیت، آگاہی مہمات اور ویزا قوانین کی سمجھ بوجھ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

اس تجزیے سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ ڈی پورٹیشن کے اثرات نہ صرف ان افراد تک محدود ہیں جو واپس آتے ہیں، بلکہ یہ ان کے خاندان، مقامی کمیونٹی اور معاشرتی تانے بانے پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ واپس آنے والے شہری معاشرتی اور اقتصادی دباؤ کا سامنا کرتے ہیں، اور ان کے لیے حکومت کی طرف سے معاونت اور رہنمائی ضروری ہے۔

مجموعی طور پر، یہ اعداد و شمار نہ صرف خلیجی ممالک میں پاکستانیوں کی قانونی و سماجی پوزیشن کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ یہ ایک انتباہ بھی ہیں کہ قانونی حدود کی خلاف ورزی کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی آگاہی، تربیت اور صحیح معلومات کے ذریعے اس طرح کے حالات کو کم کیا جا سکتا ہے اور پاکستانی کمیونٹی کو محفوظ اور مستحکم ماحول میں رہنے کا موقع فراہم کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین