لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ دو سے تین کپ چائے یا کافی پینے والے افراد میں ڈیمنشیا میں مبتلا ہونے کا خطرہ تقریباً 20 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مرض سے بچاؤ کے لیے ابتدائی احتیاط بہت ضروری ہے۔ کیفین دماغ کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ تحقیق امریکا میں 1 لاکھ 31 ہزار افراد کے صحت کے ریکارڈز کے تجزیے پر مبنی ہے۔ مطالعے میں شرکاء سے پوچھا گیا کہ وہ روزانہ کتنی مقدار میں کیفین والے گرم مشروبات پیتے ہیں۔
شرکاء کے جوابات کے بعد ان کی یادداشت اور مجموعی صحت کا چار دہائیوں تک موازنہ کیا گیا۔ تحقیق میں واضح ہوا کہ روزانہ دو سے تین کپ کیفین والی چائے یا کافی پینے والے افراد میں ڈیمنشیا کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں 15 سے 20 فیصد کم تھا جو یہ مشروبات نہیں پیتے تھے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ تین کپ سے زیادہ چائے یا کافی پینے سے کوئی اضافی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔
مزید یہ کہ کیفین والی کافی پینے والے افراد میں دماغی صلاحیتوں میں کمی نسبتاً کم دیکھی گئی۔ بعض دماغی ٹیسٹوں میں انہوں نے ڈی کیف کافی استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی بھی دکھائی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ مناسب مقدار میں کیفین والے مشروبات کا استعمال دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، زیادہ مقدار میں استعمال سے اضافی فوائد حاصل نہیں ہوتے۔
ڈیمنشیا ایک طبی حالت ہے جس میں انسان کی یادداشت، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، فیصلہ کرنے کی طاقت اور روزمرہ کے کام کرنے کی قابلیت بتدریج کمزور ہو جاتی ہے۔ یہ ایک بیماری نہیں بلکہ علامات کا مجموعہ ہے جو دماغ کے مختلف حصوں کی خراب کارکردگی کی وجہ سے ظاہر ہوتا ہے۔
ڈیمنشیا کے عام علامات میں شامل ہیں:
یادداشت کمزور ہونا، جیسے حالیہ باتیں بھول جانا۔
سوچنے یا فیصلہ کرنے میں دشواری۔
روزمرہ کاموں میں مشکل محسوس کرنا، جیسے کھانا پکانا یا خریداری کرنا۔
شخصیت یا مزاج میں تبدیلی، جیسے الجھن یا افسردگی۔
یہ عام طور پر عمر رسیدہ افراد میں زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے، لیکن کچھ صورتوں میں نوجوانوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ سب سے عام قسم الزائمر کی بیماری ہے، جو ڈیمنشیا کا ایک بڑا سبب بنتی ہے۔





















