بنگلادیش میں سیاسی منظرنامہ بدل گیا، بی این پی کو 209 نشستوں کے ساتھ واضح برتری حاصل

جبکہ جماعت اسلامی کے اتحاد کو 68 نشستوں تک محدود رہنا پڑا۔

ڈھاکا:بنگلادیش میں منعقدہ عام انتخابات میں بنگلادیشن نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے 300 رکنی پارلیمنٹ میں 209 نشستیں جیت لیں اور دو تہائی اکثریت اپنے نام کر لی۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بی این پی کی قیادت میں قائم اتحاد نے واضح برتری حاصل کی، جبکہ جماعت اسلامی کے اتحاد کو 68 نشستوں تک محدود رہنا پڑا۔

یہ انتخابات 2024 کی حکومت مخالف تحریک کے بعد پہلی بار منعقد ہوئے، جس کے نتیجے میں طویل عرصے تک برسرِ اقتدار رہنے والی شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔ ملک میں سیاسی استحکام کی بحالی کے تناظر میں اس انتخاب کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی تھی۔

بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے اپنی نشست پر کامیابی حاصل کی اور وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط امیدوار کے طور پر ابھرے۔ کامیابی کے بعد پارٹی قیادت نے کارکنان کو جشن منانے کے بجائے ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے دعاؤں کی اپیل کی۔

بی این پی کے انتخابی منشور میں کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مالی معاونت، وزیر اعظم کے عہدے کی مدت کو 10 سال تک محدود کرنا، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنانا اور بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات شامل تھے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے شکست قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔ تاہم انہوں نے ووٹوں کی گنتی اور انتخابی شفافیت پر تحفظات کا اظہار بھی کیا۔

معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ، جو اس وقت بھارت میں مقیم ہیں، نے انتخابات کو “منصوبہ بند ڈرامہ” قرار دیتے ہوئے نتائج مسترد کر دیے۔ ان کی جماعت عوامی لیگ کو اس بار انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

الیکشن کمیشن کے غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ 60 فیصد سے زیادہ رہا، جو گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ انتخابی عمل کے ساتھ آئینی اصلاحات سے متعلق ریفرنڈم بھی منعقد ہوا، جس میں دو مدت کی حد، غیر جانبدار نگران حکومت اور خواتین کی نمائندگی میں اضافے سمیت مختلف تجاویز شامل تھیں۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق عوام کی اکثریت نے ان اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ انتخاب بنگلادیش کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، جہاں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ آئینی اور انتظامی ڈھانچے میں بھی اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔

سیاسی و سفارتی ماہرین کی رائے

علاقائی امور کے ماہرین کے مطابق بی این پی کی واضح اکثریت اس بات کا اشارہ ہے کہ بنگلادیش میں سیاسی فضا بڑی تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طارق رحمان کی قیادت میں حکومت بننے کی صورت میں معاشی اصلاحات اور آئینی ترامیم ترجیح بن سکتی ہیں۔

سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ پہلا بڑا انتخاب تھا، اس لیے عالمی برادری کی نظریں بھی اس عمل پر مرکوز تھیں۔ عوامی لیگ کی عدم شرکت نے انتخابی مقابلے کو یک طرفہ ضرور بنایا، تاہم ووٹر ٹرن آؤٹ میں اضافہ اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ عوام سیاسی عمل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق آئینی اصلاحات سے متعلق ریفرنڈم کے نتائج اگر باضابطہ طور پر منظور ہو جاتے ہیں تو بنگلادیش میں اختیارات کی تقسیم، نگران سیٹ اپ اور خواتین کی نمائندگی کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔

بنگلادیش کے حالیہ انتخابات محض حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک سیاسی بیانیے کی شکست اور دوسرے کے ابھرنے کی علامت ہیں۔ بی این پی کی 209 نشستوں کے ساتھ دو تہائی اکثریت یہ ظاہر کرتی ہے کہ عوام ایک نئے انتظامی ڈھانچے اور سیاسی سمت کے خواہاں ہیں۔

شیخ حسینہ کی عدم موجودگی اور عوامی لیگ کا انتخابی عمل سے باہر ہونا سیاسی توازن کو یکسر تبدیل کر چکا ہے۔ اگرچہ نتائج کو متنازع قرار دیا جا رہا ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ووٹر ٹرن آؤٹ میں اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ بنگلادیشی عوام سیاسی عمل سے لاتعلق نہیں۔

طارق رحمان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج سیاسی استحکام کے ساتھ معاشی بحالی ہوگا۔ بنگلادیش گزشتہ برسوں میں معاشی دباؤ اور سیاسی کشیدگی کا شکار رہا ہے۔ اگر نئی حکومت بدعنوانی کے خلاف اقدامات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے وعدوں کو عملی جامہ پہنا دیتی ہے تو یہ انتخاب واقعی نئے دور کی بنیاد بن سکتا ہے۔

تاہم اصل امتحان اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے اور انتخابی شفافیت سے متعلق تحفظات کو دور کرنے میں ہوگا۔ اگر سیاسی مفاہمت کو ترجیح نہ دی گئی تو اکثریت کے باوجود استحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

یہ انتخاب جنوبی ایشیا کی سیاست میں بھی اثر انداز ہوگا، کیونکہ بنگلادیش کا داخلی سیاسی رخ خطے کے تزویراتی توازن پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین