کولمبو:ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے انیسویں مقابلے میں کرکٹ کی دنیا کو بڑا جھٹکا لگا جب زمبابوے نے مضبوط آسٹریلوی ٹیم کو تیئس رنز سے شکست دے کر ایونٹ کا بڑا اپ سیٹ کر دیا۔
ICC Men’s T20 World Cup کے اس میچ میں، جو R. Premadasa Stadium میں کھیلا گیا، زمبابوے کی پیس بیٹری نے 170 رنز کے ہدف کا تعاقب کرنے والی آسٹریلوی ٹیم کو 19.3 اوورز میں 146 رنز پر سمیٹ دیا۔
آسٹریلیا کی جانب سے میتھیو رینشا نے 65 رنز بنا کر مزاحمت کی، گلین میکسویل 31 اور کپتان ٹریوس ہیڈ 17 رنز بنا سکے، جبکہ باقی آٹھ بلے باز ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہو سکے۔
زمبابوے کے فاسٹ بولر Blessing Muzarabani نے 17 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کر کے میچ کا پانسہ پلٹ دیا، جبکہ بریڈ ایونز نے 23 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا۔ مزارابانی کی یہ کارکردگی نہ صرف زمبابوے کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بہترین بولنگ فیگر قرار دی جا رہی ہے بلکہ کسی بھی فل ممبر ٹیم کے خلاف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ان کی سب سے شاندار کارکردگی بھی ہے۔ اسی میچ میں انہوں نے اپنی 100ویں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل وکٹ بھی مکمل کی۔
اس سے قبل آسٹریلوی کپتان ٹریوس ہیڈ نے ٹاس جیت کر زمبابوے کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔ زمبابوے کے اوپنرز نے 61 رنز کا مضبوط آغاز فراہم کیا، مارومانی 35 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ بعد ازاں برائن بینیٹ اور رائن برل کے درمیان دوسری وکٹ پر 70 رنز کی شراکت قائم ہوئی۔ 131 کے مجموعی اسکور پر برل 35 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔
زمبابوے نے مقررہ 20 اوورز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 169 رنز اسکور کیے۔ برائن بینیٹ 64 اور کپتان Sikandar Raza 25 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ آسٹریلیا کی جانب سے مارکس اسٹوئنس اور کیمرون گرین نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تاریخ میں آسٹریلیا اور زمبابوے کا یہ دوسرا مقابلہ تھا اور دونوں مواقع پر آسٹریلیا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل 2007 کے افتتاحی ایڈیشن میں بھی زمبابوے نے آسٹریلیا کو زیر کیا تھا۔
کرکٹ ماہرین کی رائے
کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق Blessing Muzarabani کی بولنگ نے میچ کا رخ مکمل طور پر بدل دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 17 رنز کے عوض 4 وکٹیں لینا نہ صرف میچ وننگ کارکردگی تھی بلکہ دباؤ کے لمحات میں درست لائن اور لینتھ کا مظاہرہ بھی تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آسٹریلیا جیسی مضبوط بیٹنگ لائن اپ کو 170 کے ہدف تک نہ پہنچنے دینا زمبابوے کی منظم حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاور پلے کے بعد مسلسل وکٹیں گرنے سے آسٹریلوی بیٹنگ دباؤ میں آ گئی اور میچ ہاتھ سے نکل گیا۔
ماہرین نے اس بات کو بھی نمایاں کیا کہ زمبابوے کی ٹیم اب محض اپ سیٹ کرنے والی ٹیم نہیں رہی بلکہ وہ بڑی ٹیموں کے خلاف باقاعدہ مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ یہاں کوئی بھی ٹیم کسی بھی روز تاریخ رقم کر سکتی ہے۔ زمبابوے کی یہ فتح اسی حقیقت کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ آسٹریلیا کو 23 رنز سے شکست دینا محض ایک جیت نہیں بلکہ ایک بیان ہے کہ چھوٹی سمجھی جانے والی ٹیمیں بھی عالمی اسٹیج پر بڑی طاقتوں کو جھکا سکتی ہیں۔
169 رنز کا اسکور بظاہر قابلِ حصول تھا، مگر زمبابوے کے بولرز نے ابتدا ہی سے دباؤ برقرار رکھا۔ بلیسنگ مزارابانی نے نہ صرف اہم وکٹیں حاصل کیں بلکہ آسٹریلوی بیٹنگ کی رفتار کو بھی توڑ دیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں میچ کا توازن مکمل طور پر بدل گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تاریخ میں آسٹریلیا آج تک زمبابوے کو شکست نہیں دے سکا۔ 2007 کے بعد یہ دوسری شکست آسٹریلوی ٹیم کے لیے ایک نفسیاتی دھچکا بھی ہو سکتی ہے۔
یہ نتیجہ دیگر بڑی ٹیموں کے لیے بھی ایک وارننگ ہے کہ ٹی ٹوئنٹی میں ماضی کی کامیابیاں مستقبل کی ضمانت نہیں ہوتیں۔ جو ٹیم دباؤ میں بہتر کارکردگی دکھائے گی، وہی ٹورنامنٹ میں آگے جائے گی





















