واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ میں اضافہ کرنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں دنیا کا سب سے بڑا بحری بیڑہ تعینات کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
شمالی کیرولائنا کے ایک فوجی اڈے سے روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ بھیج رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے جوہری معاہدہ نہ کیا تو اس اضافی بحری طاقت کی ضرورت پیش آئے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز USS Gerald R. Ford کیریبین سمندر سے مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے، جہاں وہ پہلے سے موجود امریکی جنگی بیڑے میں شامل ہوگا۔
اس سے قبل USS Abraham Lincoln اور اس کے ہمراہ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز خطے میں تعینات کیے جا چکے ہیں، جس سے امریکی عسکری موجودگی میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ اعلان اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد سامنے آیا، جسے خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتے ہیں اور مذاکرات کی کامیابی کی توقع رکھتے ہیں، تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کی بڑی فوجی قوت پہلے ہی موجود ہے اور مزید بحری تعیناتی اس حکمت عملی کا حصہ ہے۔
دوسری جانب خلیجی عرب ممالک نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
دفاعی و سفارتی ماہرین کی رائے
دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق USS Gerald R. Ford کی تعیناتی محض علامتی اقدام نہیں بلکہ طاقت کا واضح پیغام ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کا جدید ترین طیارہ بردار جہاز ہے جس کی موجودگی خطے میں امریکی برتری کو مزید مستحکم کرتی ہے۔
سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق سخت پالیسی کا مقصد مذاکراتی دباؤ بڑھانا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق بحری بیڑے کی تعیناتی اکثر مذاکراتی حکمت عملی کا حصہ ہوتی ہے تاکہ فریقِ مخالف کو رعایت دینے پر مجبور کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے سے موجود USS Abraham Lincoln اور اس کے ہمراہ جنگی جہازوں کی موجودگی کے بعد اضافی تعیناتی خطے میں عسکری توازن کو مزید حساس بنا دے گی، خصوصاً آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے تناظر میں۔
امریکا کا مشرقِ وسطیٰ میں دنیا کا سب سے بڑا بحری بیڑہ بھیجنے کا اعلان دراصل ایک سفارتی پیغام ہے، جس کا ہدف صرف ایران نہیں بلکہ پورا خطہ ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جوہری معاہدے پر تناؤ برقرار ہے۔
صدر ٹرمپ کا بیان کہ “اگر ڈیل نہ ہوئی تو نتائج سنگین ہوں گے” دراصل دباؤ کی سیاست کا تسلسل ہے۔ امریکا ماضی میں بھی عسکری طاقت کو مذاکراتی میز پر برتری حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔
تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات کا شکار ہے۔ اگر ایران نے اس تعیناتی کو اشتعال انگیزی قرار دے کر ردعمل دیا تو صورتحال تیزی سے بگڑ سکتی ہے۔ خلیجی ممالک کا انتباہ بھی اسی خدشے کی عکاسی کرتا ہے کہ کسی بھی فوجی تصادم کے اثرات صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ توانائی کی عالمی منڈی، تجارت اور علاقائی استحکام متاثر ہوگا۔
یہ وقت سفارت کاری کا ہے، مگر جب سمندر میں جنگی جہاز بڑھنے لگیں تو سفارت کاری کی گنجائش کم ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ آنے والے دن فیصلہ کن ہوں گے کہ یہ طاقت کا مظاہرہ مذاکرات کی راہ ہموار کرے گا یا ایک نئے بحران کو جنم دے گا۔





















