بورڈ آف پیس اجلاس سے قبل ٹرمپ نے رکن ممالک کواُن کے وعدے یاد کروادیے

اس اہم پیش رفت کا باقاعدہ اعلان 19 فروری کو واشنگٹن میں ہونے والے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں کیا جائے گا

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ بورڈ آف پیس کے رکن ممالک نے غزہ میں تعینات کی جانے والی بین الاقوامی استحکام فورس کے لیے ہزاروں اہلکار فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر جاری بیان میں کہا کہ اس اہم پیش رفت کا باقاعدہ اعلان 19 فروری کو واشنگٹن میں ہونے والے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں کیا جائے گا، جس کا انعقاد ٹرمپ پیس انسٹیٹیوٹ آف پیس میں ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ رکن ممالک نے غزہ میں انسانی امداد اور تعمیرِ نو کے لیے پانچ ارب ڈالر سے زائد مالی وسائل فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ امن و امان کے قیام اور سیکیورٹی کی صورتحال کو مستحکم بنانے کے لیے ہزاروں اہلکار بین الاقوامی استحکام فورس اور مقامی پولیس کے ساتھ تعینات کیے جائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ حماس کو مکمل اور فوری طور پر ہتھیار ڈالنے کے اپنے وعدے پر ثابت قدم رہنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بورڈ آف پیس مستقبل میں ایک مؤثر اور تاریخی عالمی ادارے کی حیثیت اختیار کرے گا، اور اس کی قیادت کرنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔

دوسری جانب دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف آئندہ اجلاس میں شرکت کریں گے، جبکہ ان کے ہمراہ نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود ہوں گے۔

یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت جنگ بندی کے بعد غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی منظوری دی گئی تھی، جبکہ بورڈ آف پیس کو گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر تشکیل دیا گیا تھا۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی اور اربوں ڈالر کی امداد کے اعلان نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ پیش رفت بظاہر جنگ بندی کے بعد استحکام کی جانب قدم دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے اندر کئی سفارتی، عسکری اور سیاسی پہلو پوشیدہ ہیں جن کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔

پس منظر اور عالمی تناظر

غزہ گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل کشیدگی، محاصرے اور جنگی کارروائیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حالیہ جنگ بندی، جو United Nations Security Council کی قرارداد کے تحت ممکن ہوئی، وقتی طور پر تشدد کے خاتمے کا سبب تو بنی، لیکن مستقل امن کے لیے ایک مضبوط انتظامی اور سیکیورٹی ڈھانچے کی ضرورت بدستور موجود ہے۔ اسی تناظر میں بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کا تصور سامنے آیا ہے۔دنیا کے مختلف خطوں میں اس نوعیت کی فورسز ماضی میں بھی تعینات کی جا چکی ہیں، مثلاً بوسنیا اور مشرقی تیمور میں۔ تاہم غزہ کا معاملہ ان سب سے مختلف ہے، کیونکہ یہاں داخلی سیاسی تقسیم، علاقائی طاقتوں کی مداخلت اور عوامی جذبات تینوں ایک پیچیدہ صورت حال پیدا کرتے ہیں۔

مالی امداد اور تعمیرِ نو کا پہلو

پانچ ارب ڈالر سے زائد مالی وسائل فراہم کرنے کا اعلان بلاشبہ ایک بڑا قدم ہے۔ غزہ کا بنیادی ڈھانچہ حالیہ جھڑپوں میں شدید متاثر ہوا ہے۔ اسپتال، تعلیمی ادارے، سڑکیں اور رہائشی عمارتیں بڑے پیمانے پر تباہ ہو چکی ہیں۔ ایسے میں تعمیرِ نو کے لیے خاطر خواہ سرمایہ ناگزیر ہے۔تاہم اصل سوال یہ ہے کہ یہ وسائل کس طریقہ کار کے تحت خرچ ہوں گے؟ کیا مقامی انتظامیہ کو مکمل اختیار دیا جائے گا یا نگرانی بین الاقوامی اداروں کے ہاتھ میں ہوگی؟ اگر شفافیت اور مقامی شمولیت کو یقینی نہ بنایا گیا تو امداد کے باوجود پائیدار نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

سیکیورٹی فورس کی تعیناتی: مواقع اور خدشات

بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کا مقصد امن و امان برقرار رکھنا اور کسی بھی نئی جھڑپ کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔ ہزاروں اہلکاروں کی موجودگی بظاہر ایک حفاظتی حصار فراہم کر سکتی ہے۔ لیکن غزہ کی زمین پر غیر ملکی اہلکاروں کی تعیناتی مقامی سطح پر حساس مسئلہ بھی بن سکتی ہے۔تاریخی طور پر دیکھا جائے تو بیرونی افواج کی موجودگی کو اکثر مقامی آبادی شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اگر اس فورس کو غیر جانبدار اور انسانی ہمدردی کے جذبے کے ساتھ کام کرتے ہوئے نہ دیکھا گیا تو یہ اقدام خود نئی کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔

حماس کی غیر مسلحی: حقیقت یا سیاسی مطالبہ؟

صدر ٹرمپ کی جانب سے حماس کو مکمل اور فوری غیر مسلح ہونے پر زور دینا ایک اہم نکتہ ہے۔ عملی طور پر کسی بھی مزاحمتی یا عسکری تنظیم کا مکمل طور پر ہتھیار ڈال دینا ایک پیچیدہ اور مرحلہ وار عمل ہوتا ہے۔ اس کے لیے نہ صرف سیاسی ضمانتیں بلکہ اعتماد سازی کے اقدامات بھی ضروری ہوتے ہیں۔اگر غیر مسلحی کا مطالبہ یک طرفہ دباؤ کے طور پر پیش کیا گیا تو اس کے نتائج الٹ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر اسے ایک وسیع سیاسی مفاہمت کے حصے کے طور پر شامل کیا جائے، تو یہ پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

پاکستان کی شرکت اور سفارتی اہمیت

وزیرِ اعظم Shehbaz Sharif اور نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ Ishaq Dar کی اجلاس میں شرکت اس معاملے کو پاکستان کے لیے بھی اہم بنا دیتی ہے۔ پاکستان تاریخی طور پر فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کرتا رہا ہے۔ ایسے میں اس فورم پر شرکت نہ صرف سفارتی سرگرمی کا حصہ ہے بلکہ عالمی برادری میں فعال کردار ادا کرنے کی کوشش بھی سمجھی جا سکتی ہے۔پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہو سکتا ہے کہ وہ انسانی امداد، جنگ بندی کے تسلسل اور سیاسی مذاکرات کی حمایت کے ذریعے اپنا مثبت کردار اجاگر کرے۔

بورڈ آف پیس کی افادیت

نئے قائم ہونے والے ادارے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کو اگر واقعی ایک مؤثر عالمی پلیٹ فارم بنانا ہے تو اسے بڑی طاقتوں کے مفادات سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہوگا۔ اگر یہ ادارہ کسی ایک ملک کی پالیسی کا توسیعی بازو بن کر رہ گیا تو اس کی ساکھ متاثر ہوگی۔پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ فریقین، بشمول مقامی نمائندوں، علاقائی طاقتوں اور عالمی اداروں کو ساتھ لے کر چلا جائے۔

مجموعی جائزہ

یہ اعلان بلاشبہ ایک بڑی پیش رفت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ مالی امداد، سیکیورٹی انتظامات اور سیاسی دباؤ — تینوں عناصر مل کر ایک جامع حکمت عملی کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ تاہم اصل امتحان عمل درآمد کا ہوگا۔اگر تعمیرِ نو شفاف انداز میں ہوئی، سیکیورٹی فورس غیر جانبدار رہی اور سیاسی مفاہمت کو ترجیح دی گئی تو غزہ میں دیرپا استحکام کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر یہ اقدام وقتی بندوبست ثابت ہوگا، جو چند ماہ بعد دوبارہ کشیدگی کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ امن محض فوجی تعیناتی سے نہیں بلکہ سیاسی انصاف، معاشی مواقع اور عوامی اعتماد سے قائم ہوتا ہے۔ اس لیے آنے والے دن اس اعلان کی اصل سمت اور اثرات کا تعین کریں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین