ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں بھارت کے خلاف شکست کے بعد سابق کپتان شاہد آفریدی نے قومی ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں کو ڈراپ کر کے نئے ٹیلنٹ کو آزمانے کی تجویز دے دی۔
بھارت کے خلاف اہم میچ میں 176 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی بیٹنگ لائن ایک بار پھر دباؤ کا شکار دکھائی دی۔ عثمان خان کے سوا کوئی بلے باز کریز پر زیادہ دیر نہ ٹھہر سکا جبکہ 7 کھلاڑی مجموعی طور پر 20 رنز بھی نہ بنا سکے۔ بولنگ میں بھی فاسٹ باؤلرز اور اسپنرز خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے جس کے باعث ٹیم کو آسان شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ اگر وہ ٹیم مینجمنٹ کا حصہ ہوتے تو اگلے میچ میں بابر اعظم، شاہین آفریدی اور شاداب خان کو آرام دیتے اور بینچ پر موجود نوجوان کھلاڑیوں کو موقع فراہم کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ سینئر کھلاڑی طویل عرصے سے ٹیم کا حصہ ہیں، لیکن اگر وہ بڑے میچز میں کارکردگی نہ دکھا سکیں تو ٹیم کمبی نیشن پر نظرثانی ضروری ہو جاتی ہے۔
آفریدی نے کپتان کے فیصلوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ فہیم اشرف سے بولنگ نہ کروانا سمجھ سے بالاتر ہے، جبکہ عثمان طارق کو 10 اوورز گزرنے کے بعد متعارف کرانا بھی حکمت عملی کے لحاظ سے درست فیصلہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق اہم مقابلوں میں بروقت فیصلے ہی فرق پیدا کرتے ہیں۔
سابق کپتان کا کہنا تھا کہ ورلڈکپ جیسے بڑے ایونٹس میں جرات مندانہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور نوجوان کھلاڑیوں کو اعتماد دینے سے ٹیم میں نئی توانائی آ سکتی ہے۔
کرکٹ ماہرین کی رائے
-
سابق ٹیسٹ کرکٹرز کا کہنا ہے کہ ورلڈکپ جیسے ایونٹس میں کارکردگی ہی اصل پیمانہ ہوتی ہے، نام نہیں۔ اگر سینئر کھلاڑی تسلسل سے ڈلیور نہ کریں تو بینچ اسٹرینتھ آزمانا ٹیم کے مفاد میں ہو سکتا ہے۔
-
کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق اچانک بڑے پیمانے پر تبدیلیاں بھی رسک ہوتی ہیں، اس لیے ٹیم کمبی نیشن اور حالات کو دیکھ کر مرحلہ وار ردوبدل بہتر حکمتِ عملی ہے۔
-
بولنگ روٹیشن پر ماہرین نے اتفاق کیا کہ فہیم اشرف جیسے آل راؤنڈر کو اوور نہ دینا سوالیہ نشان ہے، جبکہ اسپن آپشنز کو بروقت استعمال کرنا ضروری تھا۔
-
بیٹنگ اپروچ پر رائے دی گئی کہ پاور پلے میں ارادے واضح ہوں، ورنہ درمیانی اوورز میں دباؤ بڑھ جاتا ہے اور وکٹیں گرتی ہیں۔
سابق کپتان شاہد آفریدی کے بیانات جذباتی ضرور ہیں مگر مکمل طور پر بے بنیاد نہیں۔ بڑے مقابلوں میں بار بار ناکامی ٹیم مینجمنٹ کو سخت فیصلوں پر مجبور کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا تبدیلی وقتی ردعمل ہوگی یا طویل المدتی منصوبہ بندی کا حصہ؟
میری رائے میں مسئلہ صرف ناموں کا نہیں، سوچ اور نفسیات کا ہے۔ بھارت کے خلاف میچ میں 176 کے ہدف کے تعاقب میں بیٹنگ کا انداز محتاط سے زیادہ محتاط رہا، جس نے دباؤ بڑھایا۔ سات کھلاڑیوں کا مجموعی طور پر 20 رنز تک محدود رہنا اس بات کی علامت ہے کہ ذہنی تیاری میں کمی تھی۔
بولنگ میں بھی حکمتِ عملی متوازن نہ دکھائی دی۔ اگر “ٹرمپ کارڈ” کو 10 اوورز کے بعد لایا جائے تو مخالف ٹیم سیٹ ہو چکی ہوتی ہے۔ فہیم اشرف سے اوور نہ لینا ٹیم کمبی نیشن پر سوال اٹھاتا ہے۔
کیا بابر، شاہین اور شاداب کو آرام دینا حل ہے؟ ممکن ہے ایک میچ کے لیے تجربہ کیا جائے تاکہ پیغام جائے کہ کارکردگی ہی اصل معیار ہے۔ مگر مستقل حل نوجوانوں کو واضح کردار، اعتماد اور تسلسل دینے میں ہے۔ ورلڈکپ جیسے ایونٹس میں جرات مندانہ مگر سوچے سمجھے فیصلے ہی ٹیم کو ٹرن اراؤنڈ دیتے ہیں۔





















