باجوڑ ضلع میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کی جانب سے کیا گیا حملہ ناکام بنا دیا گیا، تاہم اس کارروائی کے دوران 11 اہلکار شہادت کے رتبے پر فائز ہوگئے جبکہ 12 حملہ آور مارے گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 16 فروری 2026 کو بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر، جن کا تعلق “فتنہ الخوارج” سے بتایا گیا ہے، نے مشترکہ چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ حملہ آوروں نے چیک پوسٹ کی سیکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کی، تاہم فورسز کے فوری اور مؤثر ردعمل نے ان کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق جوانوں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرار کی کوشش کرنے والے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا اور 12 حملہ آوروں کو ہلاک کردیا۔ ناکامی کے بعد دہشت گردوں نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں شدید دھماکہ ہوا۔
دھماکے سے چیک پوسٹ کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا اور 11 اہلکار شہید ہوگئے۔ مزید برآں قریبی رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں ایک کمسن بچی جاں بحق جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 7 شہری زخمی ہوئے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی باقی ماندہ دہشت گرد عنصر کو ختم کیا جا سکے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز قومی ایکشن پلان اور وژن “عزمِ استحکام” کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملہ ناکام بنانے پر فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور شہید ہونے والے 11 جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین کی رائے
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق:
چیک پوسٹس پر مشترکہ تعیناتی دہشت گرد حملوں کو فوری ناکام بنانے میں مدد دیتی ہے۔
گاڑی بم حملے سرحدی اور قبائلی اضلاع میں سیکیورٹی کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔
بروقت ردعمل اور کلیئرنس آپریشن دہشت گرد نیٹ ورک کو کمزور کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
شہری آبادی کے قریب حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشت گرد خوف پھیلانے کی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق باجوڑ کا واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سرحدی اضلاع میں سیکیورٹی صورتحال اب بھی نازک ہے۔ ان کے بقول 12 حملہ آوروں کا مارا جانا فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے، تاہم 11 اہلکاروں کی شہادت اس جنگ کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔
غلام مرتضیٰ کہتے ہیں کہ گاڑی میں نصب دھماکہ خیز مواد کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گرد گروہ اب بھی وسائل اور نیٹ ورک رکھتے ہیں، جس کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔ ان کے مطابق قومی ایکشن پلان اور عزم استحکام جیسے اقدامات تب ہی مؤثر ہوں گے جب سیاسی، سماجی اور انٹیلی جنس سطح پر مکمل ہم آہنگی برقرار رکھی جائے۔





















