وہاڑی میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سیاست ایک مشکل اور صبر آزما میدان ہے، جو شخص مشکلات برداشت نہیں کر سکتا اسے کوئی اور شعبہ اختیار کر لینا چاہیے۔
صدر زرداری کا کہنا تھا کہ ملک کے حالات پہلے کی نسبت بہتر ہوئے ہیں، تاہم مکمل استحکام کے لیے وقت درکار ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی تعمیر و ترقی ایک مسلسل عمل ہے جس میں ریاستی اداروں اور عوام کو مل کر کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔
سیاسی تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض افراد روزانہ تقاریر کرنے کے عادی ہوتے ہیں، مگر عملی سیاست میں مشکلات کا سامنا کرنا ہر لیڈر کا اصل امتحان ہے۔ انہوں نے اپنی قید کے ایام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ 14 سال جیل میں رہے اور جب رہائی کے بعد اپنے بچوں سے ملے تو وہ قد میں ان سے بڑے ہو چکے تھے۔
صدر مملکت نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ایک شخص کی ٹی وی پر تقریر آتی تو دیگر تقاریر روک دی جاتی تھیں، مگر ڈیڑھ سال بھی نہیں گزرا کہ اب اسی مقام سے آواز آ رہی ہے کہ ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں برداشت، لچک اور سیاسی بلوغت بنیادی اوصاف ہیں، قیادت کو سنجیدگی اور دور اندیشی کے ساتھ فیصلے کرنا ہوتے ہیں۔
انہوں نے قومی ترقی کو زرعی شعبے کی مضبوطی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ کسان معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور پائیدار ترقی جدید زرعی طریقوں کے فروغ اور کسانوں کو سہولتیں دینے سے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے معاشی مسائل کا دیرپا حل زراعت میں مضمر ہے۔
صدر زرداری نے پانی کے مؤثر استعمال اور آبی وسائل کے بہتر انتظام پر بھی زور دیا اور کہا کہ ملک میں وسائل کی کمی نہیں بلکہ مستقل مزاجی اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کی صورتحال مختلف ہو سکتی ہے لیکن قومی ترقی کے لیے تمام اکائیوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے عدالتی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ججز کی تنخواہوں میں اضافہ اسی لیے کیا گیا تاکہ عدلیہ مضبوط ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواہش ہے کہ آنے والی نسلیں موجودہ قیادت کو مثبت انداز میں یاد کریں۔
کشمیر کے حوالے سے صدر مملکت نے کہا کہ یہ پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس کے ایک انچ پر بھی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خطے کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا۔
صدر زرداری نے زور دیا کہ سیاسی ہم آہنگی انتہا پسندانہ رجحانات کے سدباب میں مددگار ثابت ہوتی ہے، اس لیے قومی مفاد میں تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہو کر کام کرنا چاہیے تاکہ پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ ریاست بنایا جا سکے۔
سیاسی ماہرین کی رائے
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق:
صدر زرداری کا خطاب براہ راست موجودہ سیاسی کشیدگی کے تناظر میں دیا گیا۔
14 سال قید کا حوالہ دے کر انہوں نے اپنی سیاسی برداشت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
زرعی اصلاحات اور آبی انتظام پر زور دینا معیشت کو بنیادی سطح سے مضبوط بنانے کا اشارہ ہے۔
کشمیر اور ایٹمی پروگرام کا ذکر قومی بیانیے کو تقویت دینے کی حکمت عملی سمجھا جا رہا ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق صدر زرداری کا خطاب محض سیاسی ردعمل نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ سیاست میں وقتی مقبولیت کے بجائے طویل المدتی برداشت اہم ہوتی ہے۔ ان کے بقول 14 سال قید کا حوالہ دینا دراصل سیاسی استقامت کو نمایاں کرنا تھا۔
غلام مرتضیٰ کہتے ہیں کہ زرعی شعبے پر زور دینا اس بات کا اعتراف ہے کہ معیشت کی بنیاد دیہی ڈھانچے میں ہے۔ ان کے مطابق صدر کا کشمیر اور ایٹمی پروگرام کا ذکر قومی یکجہتی کو ابھارنے کی کوشش ہے، جبکہ سیاسی تعاون کی اپیل موجودہ تقسیم شدہ سیاسی ماحول کو مدنظر رکھ کر کی گئی ہے۔





















